ماہانہ صدائے سرفروش (سوال و جواب) سرفروش پبلیکیشن حیدرآباد 1998

انجمن سرفروشان اسلام کے سرپرست اعلی جناب حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی کی ذات جہاں ان کے لاکھوں معتقدین کے لئے مطلع انوار ہے وہیں غیر جانبدار افراد کی ایک کثیر تعداد آ پ کے مجاہدات نظریات اور تعلیمات کو جاننے کے لئے انتہائی بے تابی سے متجسس اور کوشاں ہے گوکہ حضرت سے مستفیض لاکھوں افراد برملا اس دعوے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے دل کی دھڑکنیں حضرت کے فیض نظر ہی کی بدولت ذکر اللہ سے گویا ہوئیں اور ان کے سینے نور اللہ اور نور مصطفی ﷺ سے ـچمکنے لگے لیکن اسکے برخلاف علمائے دین کا ایک مخصوص طبقہ آپ کی تعلیمات اور نظریات سے پیہم متصادم ہے انہوں نے حضرت کی شخصیت اور تعلیمات کو عوام الناس میں ایک متنازع رو پ میں پیش کیا گو کہ ان کی تصانیف اور خطابات اور مختلف ممالک کے دوروں کی تفصیلات آڈیو وڈیو کیسٹ اور کتب کی صورت میں اسٹالز پر دستیاب ہوتی ہیں پھر بھی روحانیت کے موضوع پر آپ کی بے مثل تحریر دین الہی اور ـچند موضوعات کے بارے میں ان سے کی گئی سوال و جواب میں تفصیلی گفتگو قارئین کی نذر ہے ۔
(محمد صابر روشن سب ایڈیٹر صدائے سرفروش)

سوال ۔ اصل روحانیت کیا ہے؟
جواب۔ پیٹ میں نطفہ انسانی کے بعد خون کو اکٹھا کرنے کیلئے ابتداً روح جمادی آتی ہے پھر روح نباتی کے ذریعے بچہ پیٹ میں بڑھتا ہے چار ماہ بعد روح حیوانی جسم میں داخل کی جاتی ہے۔ جس کے ذریعے بچہ پیٹ میں حرکت کرتا ہے ان کو ارضی ارواح کہتے ہیں۔
پھر پیدائش کے بعد روح انسانی دوسری مخلوقات جنہیں لطائف بھی بولتے ہیں کے ساتھ آتی ہیں انہیں سماوی ارواح کہتے ہیں ۔یہی لطائف وسیلہ علم و عقل اور وسیلہ باریا بی انوار مولیٰ ہیں ورنہ خالی دل اور گوشت حیوانوں میں بھی ہوتا ہے۔ یہ لطائف سینے میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں ان پانچ لطائف کے مختلف نام ہیں ۔ پہلا لطیفہ قلب دوسرروح تیسرا سری چوتھا خفی جبکہ اخفی پانچواں لطیفہ ہے ان پانچوں لطائف کا تعلق پانچ اولالعزم رسولوں سے ہے ان پانچوں لطائف کا باطنی علم بھی انہیں پانچوں نبیوں کو عطاہوا۔لطیفہ قلب کا علم حضرت آدم علیہ السلام،لطیفہ روح کا علم حضرت ابراہیم علیہ السلام، لطیفہ سری کا علم حضرت موسیٰ علیہ السلام، لطیفہ خفی کا علم حضرت عیٰسی علیہ السلام اور لطیفہ اخفی کا علم حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہوا۔

ہر لطیفے کا آدھا علم نبیوں سے ولیوں تک پہنچا اس طرح اس کے دس حصے بن گئے پھر ولیوں سے خاص لوگ اس علم سے مستفیض ہوئے اس علم کا ظاہر کتاب میں ہے جس کے تیس حصے ہیں علم باطن بھی نبیوں پر وحی کے ذریعے حاصل ہوا اسی وجہ سے اسے بھی باطنی قرآن بولتے ہیں بعد میں یہ علم سینہ بہ سینہ ولیوں میں چلتا رہا اب کتب کے ذریعے عام کردیاگیا ہے۔ یہ لطائف ہر انسان میں ہوتے ہیں بہت سے مسلمان ان لطائف کے نام سے بھی بے خبر ہیں بہت سے جانتے ہیں مگر کام سے بے خبر ہیں ان باطنی مخلوقات یعنی لطائف کو حرکت میں لانے کیلئے ان کے علیحدہ علیحدہ ذکر وفکر ہیں یہ ذکر کے نور کی ضربوں سے جاگتے ہیں نوری غذا نہ ملنے پر یہ سینے ہی میں ضائع ہوجاتے ہیں آیتوں اور صفاتی اسماء کی تکرار سے صفاتی نور بنتا ہے جو بلواسطہ ہے جبکہ اللہ کے ذاتی نام کی تکرار کے نور کی پہنچ ذات تک ہے جو بلاواسطہ ہے ان کا تفضیلی ذکر ہماری کتابوں میں موجود ہے یہی ذکر اذکار باطنی علم کی ابتداء ہیں اور روحانیت کا پہلا درس۔

سوال۔ علماء کی جانب سے اعلان نبوت کے بارے میں بہت منفی پروپگنڈہ کیا گیا ۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔؟
جواب۔ میں کئی دفعہ یہ اعلان کرچکا ہوں کہ توہین رسالت یا منکر ختم نبوت کا اگر کوئی بھی ثبوت کسی کے پاس ہو تو بے شک مجھے زندہ جلادیا جائے ہماری نس نس اللہ اور رسولﷺ کے عشق میں تڑپتی ہے ملکی اخبارات اس بات کے گواہ ہیں کہ میں بارہا اس خبر کی تردید کرچکا ہوں لیکن ایک مخصوص ٹولہ اس خبر کو صرف اپنی شہرت کاذریعہ بنارہا ہے۔ ختم نبوت والے وہابی اور دیو بندی مولویوں اس کام میں پیش پیش ہیں وہ بذات خود اولیاء عظام کی تعلیمات کے مخالف ہیں اور جو لوگ اللہ اور خاتم النبینﷺ سے محبت کرنے والے ہیں ان کے خلاف جھوٹی رپورٹ درج کراتے ہیں یا ان پر جھوٹا بہتان لگاتے ہیں ۔ یہ وہی کاذب ہیں جن پر اللہ لعنت بھیجتا ہے۔

سوال ۔ آپ کی شخصیت اور تصانیف کو متنازع روپ میں کیوں پیش کیا جارہا ہے؟
جواب۔ ہمارا نہ تو سیاسی جماعت سے تعلق ہے اور نہ ہی ہم حکومتی کاموں میں مداخلت کرتے ہیں جوکچھ بھی کررہے ہیں رب کی رضا سے کررہے ہیں میں بارہایہ اعلان کرچکا ہوں کہ ملک دشمنی۔ اسلا دشمنی توہین رسالت یا منکر ختم نبوت کا اگر کوئی بھی ثبوت کسی کے پاس ہو تو بے شک مجھے زندہ جلادیا جائے۔ رہا کچھ عناصر کی مخالفت کا معابلہ تو روحانیت اور تصوف کے ‘مخالف فرقے اور تنگ نظر مولوی ولیوں سے بغض عناد اور دشمنی رکھتے ہیں ایسے ہی کچھ انتشار پسند اور حاسد قسم کے وہابی اور دیو بندی مولویوں نے ہمارے خلاف بے جا اخباری پروپگنڈہ شروع کررکھا ہے باوجود منہ کی کھانے کے وہ اللہ کی محبت کے اس عظیم مشن کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں ہماری تصنیف روحانی سفر میں زیادہ ترخواب مکاشفات اور الہامات ہیں جو دوران سلوک ہم پروارد ہوئے کسی بھی مکا شفے یا الہام کو حق الیقین نہیں کہا گیا ولیسے بھی خواب اور مکا شفے اگر غیر اخلاقی ہوں تو بھی ان پر شرعی قوانین لاگو نہیں ہوتے تاہم پھر بھی تحریروں کی بعض عبارات کے الفاظوں کو عام فہم بنا دیا گیا ہے گو کہ ان واقعات کے ثبوت ولیوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں پھر بھی ان تمام اقدامات کے باوجود بعض حاسدی علماء بیان بازی کے شوق اور بغضگوہر شاہی میں عقائد اہل سنت اور تعلیمات اولیا ء عظام پر کیچڑ اچھالنے والوں کے الزامات کا نہ تو دفاع کررہے ہیں اور نہ ہی تردید انہوں نے مصلحتاً یا حسد کے باعث اس جانب چشم پوشی اختیار رکررکھی گے۔

اب رہا شبہات چاند سورج اور حجراسود کا مقابلہ تو یہ خالصتاً منجانب اللہ ہیں اور اللہ کی یہ نشانیاں فتنہ ڈالنے کیلئے نہیں فتنہ مٹانے کیلئے ہوتی ہیں اس کا واضح ثبوت گوہرشاہی کا امن اور اللہ کی محبت کادرس ہے ۔ جس کے ذریعے ہر مذہب کے پیروکار اپنی اصلاح کرنے میں لگ گئی ہیں۔ آج ہندو مسلم سکھ عیسائی گوہرشاہی کی عقیدت کی وجہ سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں وہ ہمیں اپنے گرجوں مندروں اور گردواروں میں تقریر ووعظ کیلئے مدعو کررہے ہیں تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے شخص کی دلجوئی کی جائے جو ملک و قوم کیلئے باعث فخر ہو جس کی صداقت پر گواہی کیلئے اللہ نشانیاں دکھا رہا ہو۔ لیکن اس کے برعکس دشمن اولیا اور دشمن اہلیت بالخصوص وہابی اور دیوبندی مولوی اور ان کی جماعتیں میرے خلاف سربستہ ہوگئیں ہیں وہ بے بنیاد مقدموں اور بے بنیاد پروپگنڈہ کے ذریعے عوام کا رخ اللہ کی ان نشانیوں سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب ان واضح تصویروں کو جھٹلانا مشکل ہوگیا تو انہوں نے واویلا مچانا شروع کردیا کہ چاند پر جادو ہوگیا ہے جبکہ حضورﷺ فرمایا تھا کہ چاند پر جادو نہیں ہو سکتا پھر کہتے ہیں کہ حجراسود بھی جادو کی لپیٹ میں آگیا ہے اگر کعبہ بھی جادو کی زد میں آگیا ہے تو پھر اہل مسلمانان کے پاس تحفظ کی کون سی جگہ ہے بیشک حضورﷺ پر جادو ہوگیا تھا لیکن اس کے توڑ کیلئے سورۃ والناس آگئی تھی انہیں چاہیے کہ وہ بھی والناس کے ذریعے چاند اور حجراسود پر پھونکیں ماریں اگر یہ تصویریں نہ مٹیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ روشن ہوجائیں تو انہیں حق تسلیم کرنا پڑے گا۔ہم بارہا حکومتوں سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ وہ ان نشانیوں کی تحقیقات کرے اور حقائق کو منظر عام پرلائے اور اگر علماء خود کو حق پر سمجھتے ہیں تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ حکومت سے ان شبیہات کی تحقیقات کا بلا تامل مطالبہ کریں تاکہ عام آدمی بھی اللہ کی ان نشانیوں سے فیض یاب ہوسکے۔

سوال۔ ذکر اللہ یا نماز! آپ کس عبادت پر زور دیتے ہیں؟
جواب۔ جس طرح گاڑی کا انجن اسٹیرنگ وٹائر وغیرہ کے بغیر منزل مقصود تک نہیں پہنچا جاسکتا اسی طرح نماز بھی تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے بغیر ادھوری ہے ۔ زبان پر نماز لیکن دل میں خرافات ایسی نماز نماز صورت کہلاتی ہے۔
عبادت دل کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے اگر عبادت سے دل صاف نہیں ہوا تواس کا مطلب ہے کہ تورب سے بہت دور ہے یقین کرو تمہیں بھی رب دیکھنا چاہتا ہے لیکن تم انجان لاپرواہ یابدبخت ہو جسے لوگ دیکھتے ہیں اسے روز صابن سے دھوتے ہو کریم لگاتے ہو خط بناتے ہو لیکن جسے رب دیکھتا ہے کیا تونے کبھی اسے بھی دھویا ہر چیز کو صاف کرنے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ہے جبکہ دلوں کی صفائی اللہ کے ذکر سے ہے۔ ذکر قلب ذکر روح کا وسیلہ ہے۔ جیسا کہ نماز روزہ ذکر قلب کا وسیلہ ہے۔ زبان سے ذکر وصلواۃ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت ہے جبکہ قلبیذکر اللہ کی محبت اور رابطے کا وسیلہ ہے اللہ کے نام کا قلبیذکر بھی ظاہری عبادت اور گناہوں کا کفارہ کرتا رہتا ہے اور کبھی نہ کبھی اسے اللہ کا محب اور روشن ضمیر بنا دیتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی بند ے کی کسی بھی ادا سے مہربان ہوجاتا ہے تو اسے بڑے پیار سے دیکھتا ہے اور اس کا پیار سے د یکھنا ہی بندے کے گناہوں کو جلادیتا ہے حتی کہ اس کے پاس بیٹھنے والے بھی نظر رحمت کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔

سوال۔ مراقبہ کیا ہوتا ہے۔؟
جواب۔ روحوں کی طاقت کونور سے یکجا کرکے کسی مقام پر پہنچ جانے کا نام مراقبہ ہے ۔ نبی کا ہر خواب مراقبہ یا الہام وحی صحیح ہوتا ہے جبکہ ولی کے 100 میں سے چالیس خواب۔ مراقبے یا الہامات صحیح ہوتے ہیں جن کا نفس پاک اور قلب صاف ہوچکے ہوں مراقبہ ان انتہائی لوگوں کا کام ہے جبکہ عام لوگوں کا مراقبہ نادانی ہے۔

سوال۔ ذکر اللہ کیلئے ولی کی اجازت کیوں ضروری ہے؟
جواب۔ مذاہب کشتی کی مانند اور علماء ملاح کی طرح ہوتے ہیں اگر کسی ایک میں بھی نقص ہوتو منزل پر پہچنا مشکل ہے البتہ اولیاء اللہ ٹوٹی پھوٹی کشتی کو بھی کنارے لگادیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں اللہ ذاتی ہے باقی تمام صفاتی ہیں ہراسم کسبی ہے لیکن اسم اللہ عطائی ہے یہ اپنی محنت سے کبھی بھی نہیںدل پر نہیں جمتا اسے دل پر جمانے کے لئے مرشد کامل کی مدد ضروری ہے رب کو دل میں اتارنے کیلئے تصور قلبی ذکر اور ولی اللہ ہوتے ہیں ہرمومن کا نصیبہ کسی نہ کسی ولی کے پاس ہوتا ہے۔ ولی کی ظاہر ی حیات شرط ہے دنیا میں کئی نبی اور ولی آئے تم بطور آزمائش باری باری دوران ذکر ان سب کا تصور کرو جس کے تصور سے ذکر میں تیزی اور ترقی نظر آئے تمہارا نصیبہ اسی کے پاس ہے پھر تصور کے لئے اسی کو چن لو اللہ تعالیٰ سورۃ کہف میں فرماتا ہے۔
اللہ انہیں کسی ولی مرشد سے ملادیتا ہے۔
اگر کوئی بھی تمہارے تصور میں آکر تمہاری مددنہ کرے تو پھر گوہرشاہی کو آزما کر دیکھو۔

سوال۔ دین الٰہی کیا ہے۔ کیا یہ کوئی دوسرا دین ہے؟
جواب۔ کتاب دین الٰہی اللہ کے متلاشیوں اور اللہ سے محبت کرنے والوں کیلئے ایک تحفہ ہے ۔ یہ کتاب ہر مذہب،ہرفرقے اور ہر آدمی کیلئے قابل غور ور قابل تحقیق ہے اور منکران روحانیت کیلئے ایک چیلنج ۔ اور رہا اللہ کے دین کا معاملہ توتمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اللہ کا دین نہیں ہیں ان کتابوں میں نماز روزہ اور ڈاڑھیاں ہیں جبکہ اللہ اسکا پابند نہیں ہے یہ دین نبیوں کی امتوں کو منور اور پاک صاف کرنے کیلئے بنائے گئے جبکہ اللہ خود پاکیز ہ نور ہے۔ اللہ کا دین پیار و محبت ہے ننانوے ناموں کا ترجمہ ہے اپنے دوستوں کا ذکر کرنے والا ہے جن لوگوں کی منزل قلب سے روح کی طرف رواں دواں ہے وہی دین الٰہی میں پہنچ چکے یاپہنچنے والے ہیں انہیں کتابوں سے نہیں نور سے ہدائت ہے۔ جب کوئی انسان وصل کے بعد نور بن جاتا ہے تو پھر وہ بھی اللہ کے دین میں چلا جاتا ہے۔ اللہ خود عشق ،خود عاشق اور خود معشوق ہے، اگر کسی بندہ خدا کو بھی اس کی طرف سے ان میں سے کـچھ حصہ عطاء ہوجائے توہ دین الٰہی میں پہنچ جاتا ہے پھر اس کی نماز دیدار الٰہی اور اس کا شوق ذکر خدا ہے زندگی کی تمام سنتوں فرضوں کا کفارہ بھی دیدار لٰہی ہے جن فرشتے اور انسانوں کی مشترکہ عبادت بھی اس کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی۔ جس میں سب دریا ضم ہوجائیں وہ سمندر کہلاتا ہے اور جس میں سب دین ضم ہوکر ایک ھوجائیں وہی عشق الٰہی اور دین الٰہی ہے۔

سوال۔ مسلمانوں میں اتحاد کا فقدان ہے اسکی کیاوجہ ہے اور ہم کب ایک ہوں گے۔؟
جواب۔ کسی زمانے میں اہل کتاب ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے اکٹھا کھانا پینا ایک دوسرے سے شادیوں کی اجازت لیکن کتاب تو زبان پر تھی عارضیتھی نکل گئی لیکن آج کے دور میں اہل ذکر ایک ہو جائیں گے جو کہ مستقل ہوں گے کیونکہ اللہ کا نام دل اور خون میں ہوگا یہی تفرقے کا سب سے بڑا علاج ہے کیونکہ جو محبت خون میں چلی جائے یا جس کی محبت دل میں اتر جائے اس کا نکلنا مشکل ہوتا ہے وہ مستقل ہوتی ہے اتحاد دلوں کے جڑنے میں ہے۔ اور جب دل جڑجائیں گے تو یہ خون خرابہ سب ختم ہوجائے گا۔ چہ مسلم چہ غیر مسلم اللہ کی محبت کی رسی میں یہ سب ایک لڑی میںپروئے ہوئے موتی بن جائیں گے۔

سوال۔ جس طرح ارضی ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہیں کیا لطائف بھی جسم تبدیل کرتے ہیں۔
جواب ۔ ارضی ارواح صرف انسان کے مرنے کے بعد ہی جسم کو چھوڑتی ہیں اور کسی دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتیں ہیں۔ لیکن سماوی ارواح ایک ہی جسم کے لئے مخصوص ہیں ، البتہ کسی مخصوص زندہ آدمی کے جسم میں وقتی طور پر داخل ہو کر بات چیت بھی کر سکتیں ہیں۔

سوال۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں ابھی تک کوئی مصدقہ اعلان سامنے نہیں آیا کیا حالات اس رخ کی طرف جارہے ہیں کہ امام مہدی خود کو دنیا کے سامنے لے آئیں اور واضع اعلان فرمادیں؟
جواب ۔ مُشک آن است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید
اللہ کی نشانیوں اور کرامتوں کی وجہسے لوگ امام مہدی کو پہچان لیں گے، کئی مصنوعی مہدی خود اعلان کر کے چلے گئے اور جو رب کی طرف سے ہو گا اُس کا اعلان رب خود کرے گا، وقت کے ولیوں کے ذریعے اُن کی تصدیق ہوگی ، شجروحجر ، شمس و قمر اور زمین و آسمان اُن کی گواہی دیں گے اور ہر شخص کے دل میں خواہ وہ کوئی بھی مذہب رکھتا ہو اُن کی محبت اور عقیدت ہو گی۔ صرف ابلیس اور دجالیئے اُن سے نفرت کریں گے اور جنگ لڑیں گے۔

سوال۔ آپ کی تعلیمات اور علماء دین کی تعلیمات میں اختلافات کے بارے میں کچھ فرمائیے؟
جواب۔ علماء دین ظاہر تعلیم پر توجہ دیتے ہیں جبکہ ہم ظاہری عبادت کے ساتھ ساتھ باطنی درستگی کی بھی بات کرتے ہیں دراصل شریعت اور طریقت ایک پرندے کے دوپروں کی مانند ہیں ان کا توازن بہت ضروری ہے ظاہر عبادت ایسی ہے جیسے سانپ سوراخ میں گھساہوا ہو اور باہر ڈنڈے مارے جارہے ہوں ظاہر ی عبادت و تلاوت یا ذکر لسانی والوں کا نفس مرتا نہیں ہے اور نہ ہی پاک ہوتا ہے البتہ سدھر ضرور جاتا ہے جب تک انسانی جسم میں نفس امارہ ہے کسی بھی پاک کلام کے انوار دل میں نہیں ٹہر سکتے بے شک وہ الفاظ و آیات کا حافظ ہی کیوں نہ بن جائے صرف صاف دل تجلیات الٰہی کے قابل ہوتا ہے کہتے ہیںجنت میں داخلے کیلئے کلمہ ضروری ہے بہشت میں ان جسموں کو نہیں روحوں کوجانا ہے جسم تو صرف مٹی کا مکان ہے اگر جنت حور وقصور کی آرزو ہے تو خوب عبادت کرتاکہ اونچی سے اونچی جنت مل سکے لیکن اگر تجھے اللہ کی تلاش ہے تو توروحانیت بھی سیکھ تاکہ تو صراط مستقیم پر گامزن ہوکر للہ کے وصال تک پہنچ سکے۔

سوال۔ مسلم ،یہود ونصاریٰ میں آپ کے نزدیک اعلیٰ کون ہے؟
جواب۔ ہر مذہب کا عقیدہ ہے کہ اس کے نبی کی شان سب سے بلند ہے اور یہی عقیدہ اہل کتاب میں جنگوں کا سبب بنا بہتر تویہ ہے کہ تم روحانیت کے ذریعے نبیوں کی محفلوں میں پہنچ جائو پھر تم خود جان پائو گے کہ کون کس مقام پر ہے اور کون کس درجہ پر ہے ہمارے نزدیک تو جس کے دل میں اللہ کی محبت ہے وہی سب سے بہتر ہے اور بلند ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب سے ہو۔
بن عشق دلبر کے سچل کیا کفر ہے کیا اسلام ہے
جس طرح تیری نظر چمکتے ستاروں پر پڑتی ہے اسی طرح رب بھی چمکتے دلوں کو دیکھتا ہے وہ مذہب والے ہوں یا بے مذہب والے۔

سوال۔ کیا مذہب اسلام میں رہبانیت کا کوئی تصور ہے؟
جواب۔ ہر مذہب نے رہبانیت اختیار کی حضور پاکﷺ بھی غارحرا میں جایا کرتے تھے غوث پاکؓ خواجہ صاحبؒ، داتا صاحبؒ بری امام سرکارؒ، قلندر پاکؒ سب نے رہبانیت کے بعد ہی اتنے بلند مقام حاصل کئے اور انہی کے ذریعے دین کی اشاعت ہوئی۔

سوال۔ چاند سورج اور حجراسود پر شبیہات کی کچھ وضاحت فرمائیں۔؟
جواب۔ ۱۹۹۴؁ء میں مانچسٹر انگلینڈ کے چند اصحاب نے چاند پر شبیہہ کی نشاندہی کی بعدازاں دنیا بھر سے اس تصویر کی ہم سے مماثلت کی شہادتیں موصول ہونا شروع ہوگئیں ان شبیہات کی تصدیق کیلئے بیرون ممالک اور ناسا سے چاند کی تصویریں منگوائیں گئیں شروع میں یہ تصویریں مدھم تھیں لیکن گذشتہ دوسال سے یہ اتنی واضح ہوگئی ہیں کہ انہیں دور بین یا کمپیوٹر کے بغیر بھی دیکھا جاسکتا ہے حجراسود پر تصویر کے بارے میں اخبارات میں یہ خبرچھپی کہ اس پر بھی کسی کی شبیہہ نظر آرہی ہے تو ہم نے اس کی تصدیق کی گوکہ ہم اس تصویر کے بارے میں پہلے ہی معلومات رکھتے تھے لیکن مسلمانوں میں فتنے کے اندیشے کے باعث خاموشی اختیار کئے ہوتے تھے۔ ہر سرفروش اس تصویر کے بارے میں ازخود بھی تحقیق کرچکا ہے چونکہ تصویر اتنی واضح تھی کہ اس کو جھٹلانا مشکل تھا نتیجتًا عوام کا ایک کثیر طبقہ بھی اس سے متفق ہوا۔ سعودی عرب اور اس کے ہمنوا سیخ پاہو گئے انہوں نے میں نہ مانوں کے مصداق یہ دلیلیں دیں کہ تصویر حرام ہوتی ہے حجراسود پر کیسے آگئی۔ یہ نہ سوچا کہ رب کی طرف سے کوئی بھی نشانی حرام نہیں ہوسکتی۔ اب تو سورج پھر بھی تصو یر نمایاں ہوگئی ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا اللہ کی نشانیاں فتنہ ڈالنے کیلئے نہیں فتنہ مٹانے کیلئے ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ’’ ہم تمہیں عنقریب دکھائیں گے اپنی نشانیاں زمین وآسمان پرحتیٰ کہ تمہارے نفوس میں بھی‘‘
ہم نے بارہا حکومت پاکستان کو مقدمات کی وجہ اور تصاویر کی تحقیق کے لئے کئی بار آگاہ کیا ہے۔ لیکن اللہ کی ان نشانیوں کو حکومتی سطح پر محض اولیاء عظام کی تعلیمات کے منکران کے دبائو میں آکر جھٹلایا گیا بلکہ نواز حکومت نے توسندھ حکومت پر زور بھی دیا تھا کہ گوہرشاہی کو کسی طریقے سے پھنسا یا،دبایا ،یا مٹایا جائے اب ہم نے فوجی حکومت سے بھی رابطہ کیا ہے وہ بھی ان نشانیوں کی منصفانہ تحقیق کرے اور کسی اور دیو بندی وہابی ٹولہ کے ڈرو خوف یا نام نہاد فرقہ واریت شرپسند مولویوں کے دبائو میںآکر اللہ کی ان نشانیوں کو پس پردہ میں نہ رکھیں ورنہ اس حکومت کو بھی حکومت کا کوئی حق نہیں کیونکہ انصاف اور عدل کے بغیر بادشاہ اب کی طرف سے بے تاج ہی ہوتا ہے۔

سوا ل : آپ کو جو 295کے تحت سزا ہوئی اِس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: مجھ پر یہ وار وہابی ، دیوبندی عالموں تحفظ ختمِ نبوت کی طرف سے ہوا ہے، جو کہ ولیوں کی تعلیم اور اُن کے مزاروں کے سخت دشمن ہیں۔ حتی کہ اِنھوں نے بارہویں صدی میں حضور پاکؐ کے روضے کو بھی مسمار کرنا چاہا تھا اور شاہ سعود نے عبد الوہاب کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہی شخص مسلمان ہے اور وہی حج کر سکتا ہے جو فرقہ وہابیہ اختیار کرے۔ جن لوگوں نے اِس فرقے کو تسلیم نہیں کیا تھا ، اُن کا مکے سے مدینے تک قتلِ عام کرایا گیا تھااور بطورِ عبرت اُن مسلمانوں کی لاشیں درختوں پر لٹکائی گئیں تھیں اور مسجدِ ضراّر کا بدلہ لینے کے لئے اِن کی مسجدوں کو مسمار کرادیا گیا تھا اور جن مسلم ملکوں نے احتجاج کیا تھا اُن پر حج کی پابندی لگا دی گئی تھی اور اُس کے بعد آج تک بے شمار مقدس مزار گرائے گئے جن میں حضور ؐ کے والد اور والدہ کے مزار بھی شامل ہیں۔ ظاہر میںیہ لوگ پارسا ، نیکوکار اور خوش اخلاق نظر آتے ہیں لیکن جھوٹی گواہیاں ، جھوٹی قسمیں ، جھوٹے مقدمات ، بہتان اور جھوٹے پروپیگنڈے کے وقت خدا خبر اِن کا ایمان کہاں چلا جاتا ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے اِس مقدمے کو عوام کہ کھلی عدالت میں چلایا جائے ، اگر واقعی جرم ثابت ہو جائے تو مجھے زندہ جلادیا جائے بصورتِ دیگر عوام اِن نقلی پارساؤں سے لوگوں کو چھٹکارا دلوائیں جن کے ظلم اور مکروفریب کی وجہ سے کتنے بے گناہ لوگ زمانے میں بدنام اور رسوا ء ہوئے اور مرنے کے بغیر ہی مر گئے۔

سوال: اِس وقت بہت سے عالم، حافظ اور مبلغ دینِ اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں جب قرآن ، نماز ، کلمہ، نبی اور کعبہ ایک ہے توپھر آپس میں اتنا تضاد کُفر تک کیوں ہے؟
جواب : دراصل تبلیغ اُس وقت صحیح اور جائز ہے جب تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کا عمل پورا ہوچکا ہو ، جیسا کہ ہندوستان میں داتا صاحب یا خواجہ صاحب کی تبلیغ تھی جنہوں نے کافروں کو مسلمان کیا ، بغیر تزکیہ اور تصفیہ کے خواہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو اُس کی تبلیغ فتنہ ہے۔ جب خود کے اندر نفس کافر موجود ہے تو وہ دوسرے کافر کو مسلمان کیسے بنائے گا، البتہ مسلمانوں کو کافر کہہ کر ایک دوسرے کو آپس میں لڑا دے گا ۔ صحیح تبلیغ جو شریعت کے ذریعے جسم کی عبادت اور طہارت ہے اور باطن کی درستگی کے لئے طریقت کی پابندی ہے یعنی سینے کو بھی سلطانی اذکار کے ذریعے پاک کرنا ہوتا ہے۔