چاند اور سورج پر تصاویر کے بارے میں مکمل وضاحت

سیدنا گوھر شاہی روحانی تعلیم اور جگہ جگہ خطابات کے ذریعہ پوری دنیا میں مشہور اور ہردلعزیز ہوگئے

1994 میں مانچسٹر (انگلینڈ) میں کچھ لوگوں نے چاند پر گوہر شاہی کی تصویر کی نشان دہی کی۔ پھر پاکستان اور دوسرے ممالک سے بھی شہادتیں موصول ہوئیں،کیمرے کے ذریعہ چاند کی تصویریں اتاریں گئیں۔ پھر بیرون ِ ممالک اور ناسا سے چاند کی تصویریں منگوائی گئیں، شروع شروع میں تصویریں مدھم تھیں، لیکن گزشتہ دو سال سے اتنی واضح ہو گئیں کہ دور بین یا کمپیوٹر کے بغیر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
1996 میں ہمارے نمائندے ظفر حسین نے ناساNASA والوں کو نشان دہی کرائی۔ انہوں نے کہا ہمیں پتہ ہے کہ چاند پر چہرہ ہے، یہ چہرہ حضرت عیسیٰؑ کا ہے، جو دو سو (200) میل لمبی روشنی سے معلوم ہوتا ہے۔ امریکی شہریوں نے بھی ناسا پر زور دیا کہ اس تصویر کے بارے میں کچھ وضاحت کی جائے، لیکن (گوہر شاہی کا) ایشیائی ہونے کی وجہ سے ناسا خاموش رہا۔ بلکہ ناسا کے ہی پروفیسر ماہر فلکیاتDinsmore Atler نے اپنی تصنیف شدہ کتابPictorial Astronomy میں تصویر کو کچھ ردو بدل کرکے عورت کے روپ میں پیش کیا، اور پوری عیسائی مشنری میں یہ افواہ پھیلادی کہ چاند پر حضرت مریم ؑکی تصویر ہے۔
جب پاکستان کے اخباروں میں یہ خبر نشر ہوئی تو بہت سے لوگوں نے اس کی تحقیق کے بعد تصدیق کری، بہت سے لوگوں نے بغیر تحقیق کے تمسخر اُڑایا اور بہت سے لوگوں نے اسے جادو سمجھا۔ کچھ عرصے بعد خلاء میں بھی تصویر کا شور ہوا۔ لیکن اس کا اثر ذاکرین ( معتقدین ِ گوہر شاہی) کے علاوہ کہیں بھی نظر نہ آیا ۔
1998 میں روزنامہ پرچم اور روزنامہ محاسب ‘ کراچی میں یہ خبر چھپی کہ حجر اسود میں کسی کی شبیہ نظر آرہی ہے۔ ہم اس شبیہ کے متعلق پہلے ہی معلومات رکھتے تھے۔ بلکہ حجر اسود کے کئی تغرے نشان زدہ بھی ہمارے پاس موجود تھے اور تقریبا ہر سرفروش تحقیق کرچکا تھا۔ خاموشی کی وجہ مسلمانوں میں فتنے کا اندیشہ تھا۔ لیکن اخباری خبر کے بعد ہمیں بھی حوصلہ ہوا اور بھر پور انداز میں پریس ریلیز شائع کی گیئں۔ تقریبا ہر مسلمان نے اس کی تحقیق کری، کیونکہ مسلمانوں کے ایمان کی بات تھی۔ کثیر طبقہ متفق ہوا، چونکہ تصویر اتنی واضح تھی کہ اس کا جھٹلانا مشکل تھا۔ اس لئے کئی لوگوں نے مشہور کر دیا کہ یہ بھی جادو ہے۔
تقریبا ہر ملک میں چاند اور حجر اسود کی تصاویر روشناس کرائی گئیں۔ سعودی عرب اور اُس کے ہم نوا سیخ پا ہوگئے، جیسے کہ حجر اسود میں تصویر گوہر شاہی نے لگائی ہو، وہ کہتے ہیں کہ تصویر حرام ہوتی ہے، حجر اسود پر کیسے آگئی؟ یہ نہ سوچا کہ رب کی طرف سے کوئی بھی نشانی حرام نہیں ہوسکتی۔ سعودی حکومت نے اپنی شرعی عدالتوں سے یہ فیصلہ لے لیا ہے کہ گوہر شاہی واجب القتل ہیں۔اگر گوہر شاہی سرزمین ِ مکہ میں قدم رکھیں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ پاکستان میں بھی سعودی نواز فرقے گوہر شاہی اور اُس کی تعلیمات کو مٹانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔ جھوٹے مقدمات، جن میں دفعہ295 کا بھی مقدمہ بنادیا گیا ہے۔ اور کئی دفعہ حضرت گوہر شاہی پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا ہے۔
اب سورج پر بھی گوہر شاہی کی تصویر نمایاں ہوگئی ہے۔
ہم نے حکومت ِ پاکستان کو مقدمات کی وجہ اور تصاویر کی تحقیق کیلئے کئی بار آگاہ کیا۔ لیکن اللہ کی ان نشانیوں کو حکومتی سطح پر بھی فرقہ واریت کے دباؤ کی وجہ سے جھٹلایا گیا، بلکہ نواز حکومت نے سندھ حکومت پر بھی زور دیا کہ گوہر شاہی کو کسی طریقے سے پھنسایا، دبایا، یا مٹایا جائے، اور اب ہم فوجی حکومت سے رابطہ کررہے ہیں کہ وہ ان نشانیوں کی انصاف سے تحقیق کرے اور کسی بھی ڈر، خوف، دباؤ یا فرقہ واریت کی وجہ سے اللہ کی نشانیوں کو نہ جھٹلایا جائے۔
اللہ کی یہ نشانیاں فتنہ ڈالنے کیلئے نہیں ، بلکہ فتنہ مٹانے کیلئے ہیں۔ اور اس کا ثبوت ہے کہ حضرت گوہر شاہی کا درس جو امن اور اللہ کی محبت کا درس ہے، جس کے ذریعے ہر مذہب والے اپنی اصلاح کرنے میں لگ گئے۔ اور آج ہندؤ ، مسلم ، سکھ، عیسائی حضرت گوہر شاہی کی عقیدت کی وجہ سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں، اور تاریخ میں یہ پہلا ریکارڈ ہے کہ کسی بھی مسلم رہنماکو گرجوں، مندروں، اور گردواروں میں وعظ اور تقریر کیلئے مسندوں پر بٹھا یا گیا ہو۔ ایسے شخص کی دلجوئی کی جانی چاہیے جو ملک کیلئے باعث ِ فخر اور اللہ کی طرف سے مامور ہو۔ اور اُس کی صداقت کیلئے اللہ نشانیاں دکھا رہا ہو، اور جس کی نظر سے لوگوں کے دل اللہ اللہ میں لگ کر اللہ کے محب بن گئے ہوں۔
لیکن دشمنان ِ اولیاء وِ اہل بیت والے مولوی اور جماعتیں ان کے خلاف سربستہ ہوگئی ہیں۔ جھوٹے مقدموں، بے بنیاد حربوں اور من گھڑت پروپیگنڈوں کے ذریعے عوام کا رخ حجر اسود سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ یہ بہت نازک اور اہم مسئلہ ہے، مسلمانوں کے ایمان کو خطرہ ہے۔ تو اس کی تحقیقات کیلئے خاموشی کیوں ہے؟ اس کے متعلق پوری دنیا میں اتنا منفی اور مثبت پروپیگنڈہ ہوچکا ہے کہ اب اس کو دبانا مشکل ہے۔ ادھر ولیوں کو ماننے والے علماء سو حضرت گوہر شاہی سے بغض و حسد کی وجہ سے گونگے بن گئے ہیں۔ تصویر کو واضح ہونے کی صورت میں جھٹلانا مشکل ہو گیا ، تو کہتے ہیں کہ چاند پر جادو چل گیا، جبکہ حضورؐ نے کہا تھا کہ چاند پر جادو نہیں ہو سکتا، پھر کہتے ہیں حجر اسود بھی جادو کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ اگر کعبہ بھی جادو کی زد میں آگیا ہے تو پھر مسلمانوں کے پاس تحفظ کی کونسی جگہ ہے؟ مثال دیتے ہیں کہ حضورؐ پر بھی جادو ہو گیا تھا ، کعبہ حضورؐ سے افضل نہیں ہے۔
بیشک حضورؐ پر جادو ہوگیا تھا۔ لیکن اس کے توڑ کیلئے سورۃ والناس آگئی تھی۔ تم بھی سورۃوا لناس پڑھ پڑھ کر چاند اور حجر اسود پر پھونکیں مارو، اگر یہ تصویریں نہ مٹیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ روشن ہو جائیں تو پھر تمہیں حق کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ ورنہ پھر تمہارے اندر ابو جہل ہی ہے۔