امامِ حق و عالم با عمل

جب کوئی سالک کسی روحانی سلسلے میں چل کر تزکیہ نفس و تجلیہ روح اور تصفیہ قلب کا مقام حاصل کر لیتا ہے تو وہ مرتبہ پاکر غوث یعنی امام وقت کہلاتا ہے وہ علماء کی ظاہری و باطنی اصلاح کرتا ہے اور جو عالم اپنی اصلاح میں لگ جاتے ہیں وہ بھی ان کے اذن سے امامت کے لائق ہوتے ہیں اس سلسلہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وقت ایک غوث اور تین قطب موجود رہتے ہیں اور ان ہی کے مساوی مراتب والے امام حق کہلاتے ہیں کوئی بھی عالم فارغ التحصیل ہو کر اس وقت تک امامت کے لائق نہیں جب تک ان کے سلسلہ میں داخل ہو کر اجازت یافتہ نہ ہو کیونکہ حافظ دماغ سے قاری زبان سے عالم کتاب سے عابد و زاہد اعمال سے لیکن امام حق زبان صلِّ علیٰ سے ہوتے ہیں اور باقی امام اس امام کے اذن سے ،تب امامت درست ہے ورنہ مشکوک ہے چونکہ شک والی ہر چیز مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ اہل نظر مشکوک کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ۔ اگر کسی نے پڑھ بھی لی تو دینی مصلحت کی خاطر پڑھ لی۔

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تاغلام شمس تبریزی نہ شد

علمائے کرام کا حضرت گوہر شاہی کے حق میں فتوے