شانِ سلطان الفقرہ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اپنی اہم ترین تصنیف رسالہ روحی شریف میں سلطان الفقر ارواح کی عظمت، اوصاف اور شان   بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

بدان کہ چوں نورِ احدی از حجلہِ تنہائی وحدت بر مظاہرِ کثرت ارادہ فرمود‘  حُسن ِخود را جلوہ بصفائی گرم بازاری نمود ۔بر شمع جمال پروانۂِ کو نین   بِسوزِید و نقاب ِمیمِ احمدی پوشیدہ۔ صُورتِ احمدی گرفت واز کثرت ِجذبات و ارادات‘  ہفت بار بَر خودبجنبید واَزاں  ہفت ارواحِ فُقرا باصفا ‘  فنا فی اللہ‘  بقا با للہ‘ محو ِ خیالِ ذات‘ ہمہ مغز بے پوست‘ پیش از آفرینشِ آدم علیہ السّلام ہفتاد ہزار سال غرقِ بحرِ جَمال بر شجرِمرآۃالیقین پیدا  شُد ند ۔ بجز ذات ِحق از ازل تا ابد چیزے نہ دیدند و ماسویٰ اللہ گاہے نشَنُیدند ‘ بحریم کبریا ‘ دائم بحر الوصال  لازوال‘ گاہے جَسدِ نُوری پوشیدہ بہ تقدیس وتنزیہّ می کوشیدند و گاہے قطرہ در بحر و گاہے بحر در قطرہ ‘  ورِدائے فیضِ عطا  ’’اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَاللّٰہُ‘‘بَر اِیشان۔ پَس بحیات ِ ابدی و تاجِ عزِّ سرمدی ’’الْفَقْرُ لاَ یُحَتَاجُ اِلیٰ رَبِّہٖ وَلاَ اِلیٰ غَیْرِہٖ‘‘ معزز و مکرّم‘ از آفرینشِ آدم علیہ السلام و قیامِ قیامت ہیچ آگاہی ندارند وقدمِ ایشاں بَرسرِ جملہ اولیاء وغوث و قطب۔ اگر آنہار اخُدا خوانی بجاوَاگر بندۂِ خدا  دانی روا ۔عَلِمَ مَنْ عَلِمَ‘مقامِ ایشانِ حریم ِذات ِ کبریا و از حقّ ماسویٰ الحق ّ چیز ے نا طلبید ند و بَدُ نیائے دنی و نعیمِ اُخروی، حورو قصور ِبہشت، بکرشمہِ نظر ندیدند و ازاں یک لمعہ کہ موسیٰ علیہ السلام در سراسیمگی رفتہ و طُور درہم شکستہ ‘در ہر لمحہ و طرفتہ العین ہفتاد ہزار بار لمعات ِجذباتِ انوارِ ذات بر ایشاں وارد  و دم نہ زدند و آہے نہ کشیدند وَ ھَلْ مِنْ مَّزِیْد می گفتندوایشاں سلطان الفقر و سیّد الکونین اند ۔ (رسالہ روحی شریف)

ترجمہ: جان لے جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشۂِ تنہائی سے نکل کر کائنات (کثرت ) میں ظہور کا ارادہ فرمایا ‘ تو اپنے حسن کی تجلّی سے رونق بخشی ‘ اِس کے حسنِ بے مثال اور شمع جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اختیار کی پھر جذبات اور ارادت کی کثرت سے سات بار جنبش فرمائی جس سے سات ارواحِ فقراء باصفا فنا فی اللہ ‘بقا بااللہ تصورِ ذات میں محو ‘ تمام مغز بے پوست حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سا ل پہلے ‘ اللہ تعالیٰ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینہ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں ۔انہوں نے ازل سے ابد تک ذاتِ حق کے سوا کسی چیز کی طرف نہ دیکھا اور نہ غیر حق کو کبھی سنا ۔وہ حریمِ کبریا میں ہمیشہ وصال کا ایسا سمندر بن کر رہیں جسے کوئی زوال نہیں ۔کبھی نوری جسم کے ساتھ تقدیس و تنزیہ میں کوشاں رہیں اور کبھی قطرہ سمندر میں اور کبھی سمندر قطرہ میں’ اور  اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَاللّٰہُ(جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہے)کے فیض کی چادر ان پر ہے ۔پس انہیں ابدی زندگی حاصل ہے اور وہالْفَقْرُ لاَ یُحَتَاجُ اِلیٰ رَبِّہٖ وَلاَ اِلیٰ غَیْرِہٖ ( وہ نہ تو اپنے ربّ کے محتاج ہیں نہ ہی اس کے غیر کے) کی جاودانی عزت کے تاج سے معزز و مکرم ہیں ۔انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور قیامِ قیامت کی کچھ خبر نہیں ۔ان کا قدم تمام اولیاء اللہ غوث و قطب کے سر پر ہے ۔ اگر انہیں خدا کہا جا ئے تو بجا ہے اور اگر بندۂ خدا کہا جائے تو بھی روا ہے ۔اس راز کو جس نے جانا اس نے ان کو پہچانا۔ اُن کا مقام حریمِ ذاتِ کبریا ہے ۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کچھ نہ مانگا حقیر دنیا اور آخرت کی نعمتوں حور و قصور اور بہشت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور جس ایک تجلی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سراسیمہ ہو گئے اور کوہ طور پھٹ گیا تھا ہر لمحہ ہر پل جذباتِ انوارِ ذات کی ویسی تجلیات ستر ہزار بار ان پر وارِد ہوتی ہیں لیکن وہ نہ دم مارتے ہیں اور نہ آہیں بھرتے ہیں بلکہ ھَلْ مِنْ مَّزِیْد مزید تجلیات کا تقاضا کرتے رہتے ہیں ۔وہ سلطان الفقر اور سیّد الکونین ہیں ۔(رسالہ روحی شریف)

یہ مبارک ارواح سات ہیں اِن کے ناموں کا انکشاف کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

یکے روحِ خاتونِ قیامت (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) ، یکے روحِ خواجہ حسن بصری ( رضی اللہ عنہٗ)، یکے روحِ شیخِ ما حقیقت الحق، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حضرت سیّد محی الدین عبدالقادر جیلانی محبوبِ سبحانی (رضی اللہ عنہٗ) و یکے روحِ سلطانِ انوار سِرُّ السرمد حضرت پیر عبدالرزاق فرزند حضرت پیر دستگیر (قدس سرِّہُ العزیز) و یکے روحِ چشمہ ءِ  چشمانِ ھاھویت، سرِّ اسرارِ ذاتِ یَاھُو فنا فی ھُو فقیر باھُو (قدس اللہ سرُّہٗ) و دو روحِ دیگر اولیا۔ بحرمت ِ یمن ِ ایشاں قیامِ دارین۔ تا آنکہ آں دو روح از آشیانہءِ وحدت بر مظاہرِ کثرت نخواہند پرید، قیامِ قیامت نخواہد شد۔ سراسرنظرِ ایشاں نورِ وحدت و کیمیائے عزت بہرکس پرتو ءِ عنقائے ایشاں اُفتاد، نورِ مطلق ساختند، احتیاجے بریاضت و  ورد  اورادِ ظاہری طالبان را نہ پرداختند۔  (رسالہ روحی شریف)

ترجمہ: ان میں ایک خاتونِ قیامت( فاطمۃ الزہرا) رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح مبارک ہے ۔ایک حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی روح مبارک ہے ۔ایک ہمارے شیخ ‘حقیقتِ حق ‘نورِ مطلق ‘ مشہود علی الحق حضرت سیّد محی الدین عبد القادر جیلانی محبوبِ سبحانی قدس سرہٗ العزیز کی روح مبارک ہے ۔ اور ایک سلطان انوار سرّالسرمد حضرت پیر عبدالرزاق فرزندِحضرت پیر دستگیر( قدس سرہ’العزیز) کی روح مبارک ہے ایک ھاھویت کی آنکھوں کاچشمہ سِرّ اسرار ذاتِ یاھو فنا فی ھو فقیر باھوؒ (قدس سِرّہ العزیز ) کی روح مبارک ہے ۔اور دو ارواح دیگر اولیاء کی ہیں ۔اِن ارواح مقدسہ کی برکت وحرمت سے ہی دونوں جہان قائم ہیں ۔جب تک یہ دونوں ارواح وحدت کے آشیانہ سے نکل کر عالمِ کثرت میں نہیں آئیں گی قیامت قائم نہیں ہوگی۔ ان کی نظر سراسر نورِوحدت اور کیمیا ئے عزت ہے۔ جس طالب پر ان کی نگاہ پڑ جاتی ہے وہ مشاہدہ ذاتِ حق تعالیٰ ایسے کر نے لگتا ہے گویا اس کا سارا وجود مطلق نور بن گیا ہو ۔انہیں طالبوں کو ظاہری ورد وظائف اور چلہ کشی کی مشقت میں ڈالنے کی حاجت نہیں ہے ۔(رسالہ روحی شریف)

موجودہ سلطان الفقرہ کی تاریخ

عالمِ ھاھویت میں نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تخلیق کے بعد جو سب سے پہلا نور تخلیق ہوا وہ سیّدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا ہے۔یوں آپ رضی اللہ عنہا فقر کی پہلی سلطان ہیں اور فقر یعنی دیدار و وِصالِ حق تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہا کے وسیلہ سے عطا ہوتا ہے کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مقاماتِ فقر و عشقِ حقیقی اس اعلیٰ ہمت و کمال کے ساتھ طے کیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت میں سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کو امانتِ فقر منتقل کرنے کے لیے چن لیا۔ تواریخ آئینہ تصوف میں فصل ہفتم میں رقم ہے کہ ”جناب سیّدہ پاکؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا میں قیامت کو تنہا اٹھوں گی”۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ”سیّدہ تم سے عورتوں کی تعلیمِ طریقت جاری ہوگی اور جس قدر عورتیں امتِ محمدیہ کی تمہارے سلسلہ میں داخل ہوں گی وہ روزِ حشر تمہارے گروہ میں اٹھائی جائیں گی اور یہ مرتبہ ازل سے اللہ تعالیٰ نے خاص تمہارے لیے مخصوص فرمایا ہے اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم کو بحکمِ الٰہی امانتِ فقر عطا کی جائے گی۔ حصولِ اجازت کے بعد تم (امام) حسن (رضی اللہ عنہٗ) کو امانت و خلافت عطا کر دینا۔ اس ارشادِ فیضِ کے ایک ماہ بعد حضرت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صفر 11ہجری کو با امرِ الٰہی جناب سیّدہ پاک کو امانتِ فقر منتقل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ”یا سیّدہ جو تمہارے سلسلہ میں تمہاری اجازت سے درودِ احمدیؐ تلاوت کرے گا اس کو ہماری روئیت ہوا کرے گی”۔ پھر سبز رنگ کی اونی ردائے مبارک جو شاہِ یمن نے تحفتاً بھیجی تھی اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مس فرما کر حضرت سیّدہ پاکؓ کے سر پر ڈال دیا اور فرمایا ”سیّدہ مبارک ہو آج اللہ تعالیٰ نے تم کو فقر عطا فرمایا ”۔

اَلۡفَقۡرُ فَخۡرِیۡ وَالۡفَقۡرُ مِنِّی 

ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے.

جس ہستی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ وحدت میں غرق ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کا عین ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ یکتا و یک وجود ہو گیا۔ جب حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا،

فاطمہ (رضی اللہ عنہا) مجھ سے ہے۔

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تو بس میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے”۔ مسلم۔ نسائی

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میری شاخ ہے، جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے بھی خوشی ہوتی ہے اور جس سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس چیز سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے”۔ امام احمد۔ حاکم

حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری ناراضگی پر ناراض ہوتا ہے اور تمہاری رضا پر راضی ہوتا ہے”۔ حاکم طبرانی

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا آقائے دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا سن 5قبل از ‘ بعثت اس وقت پیدا ہوئیں جب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غارِ حرا کی تنہائیوں میں اپنے رب کی ذات پر غور وفکر میں مصروف رہتے تھے۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فطری طورپر نہایت ذہین اور تنہائی پسند طبیعت کی مالک تھیں۔ بچپن میں نہ ہی عام بچیوں کی طرح کھیلنے کودنے کا شوق تھا نہ دنیا کی رنگینیوں میں کوئی کشش محسوس کرتی تھیں۔ کمسنی سے ہی آپ رضی اللہ عنہا عشقِ حقیقی میں گم تھیں اور اکثر اپنے محترم والدین سے سوال کیا کرتی تھیں کہ ”اللہ تعالیٰ جس نے دنیا اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے کیا وہ ہمیں نظر بھی آ سکتا ہے”۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ان کے شوق و طلب کو دیکھتے ہوئے انہیں خدا شناسی کی باتیں بتاتے رہتے۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا کم عمری سے ہی علم و ہدایت کے منبع مختارِ فقر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے علمِ معرفتِ الٰہی حاصل کرنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کو کمال درجے کی ذہانت عطا کی تھی جو بات ایک بار سن لیتیں ہمیشہ یاد رکھتیں۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد ۲ ہجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کا مبارک نکاح حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کر دیا۔ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا عادات و خصائل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا آئینہ تھیں۔ وہ نہایت متقی، صابر، قانع اور دیندار خاتون تھیں۔ گھر کے کام کاج خود کرتی تھیں۔ چکی پیستے پیستے ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتے، گھر میں جھاڑو دینے اور چولہا پھونکنے سے کپڑے میلے ہو جاتے تھے لیکن ان کی پیشانی پر بل نہ آتا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تنگدست رہتے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیّدہ کائنات ہوتے ہوئے اور شہنشاہِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیٹی ہوتے ہوئے بھی فقر و فاقہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا پورا پورا ساتھ دیا اور نہ کبھی شکایت کی اور نہ ہی کسی آسائش کی خواہش کی۔ آپ رضی اللہ عنہا تسلیم و رضا کی انتہا پر تھیں اس لیے ہر حال میں اپنے رب سے راضی تھیں۔
حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اس فقر و غنا کے ساتھ ساتھ کمال درجہ کی عابدہ تھیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ ”میں نے اپنی والدہ کو شام سے صبح تک عبادت کرتے اور خدا کے حضور گریہ زاری کرتے دیکھا لیکن انہوں نے کبھی اپنی دعاؤں میں اپنے لیے کوئی درخواست نہ کی”۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا بیان ہے کہ ”میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو دیکھتا تھا کہ کھانا بھی پکا رہی ہیں اور خدا کا ذکر بھی ساتھ ساتھ کرتی جا رہی ہیں ‘ چکی بھی پیس رہی ہیں اور لبوں پر آیاتِ قرآنی کا ورد بھی جاری ہے”۔

اس دنیا سے پردہ فرمانے کا دن

آپ 3رمضان المبارک 11ہجری کو صرف 29سال کی عمر میں عازمِ فردوسِ بریں ہوئیں۔ پردہ فرمانے سے پہلے حضرت اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا ”میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردہ کا پورا پورا لحاظ رکھنا اور سوائے میرے شوہر کے اور کسی سے میرے غسل میں مدد نہ لینا۔ تدفین کے وقت زیادہ ہجوم نہ ہونے دینا”۔ آپ رضی اللہ عنہا کی وفات رات کے وقت ہوئی اور رات ہی میں آپ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ اور تدفین ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مبارک مزار جنت البقیع میں ہے۔

اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے بعد فقرِ خاص الخاص کا مرتبہ سلطان الفقر دوم حضرت امام خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو تفویض ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو امانتِ فقر و خرقہ خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منتقل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے خلفاء میں جلیل القدر مرتبہ حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فقرِ خاص الخاص کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچانے والا واسطہ اور وسیلہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہٗ کا نام مبارک حسن، کنیت ابو محمد، ابو سعید، ابو نصر اور ابو علی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد کا نام حسبِ روایت یسار تھا اور وہ حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہٗ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ کا نام خیرہؓ تھا اور وہ اُم المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پرورش حضرت امِ سلمہؓ ہی کے بابرکت ہاتھوں میں ہوئی اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کی رضاعت بھی فرمائی۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پیدائش 21ھ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے عہد میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے حضور میں لائے گئے تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو نہایت خوبرو دیکھ کر فرمایا کہ  یہ حسین ہے اس لیے اس کا نام حسن رکھو”۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے حق میں دعا فرمائی کہ ”اللہ تعالیٰ اس کو دین کے علم کا ماہر بنا اور لوگوں میں محبوب بنا” جو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہٗ کو علمِ دین اور فقر میں بلند مرتبہ عطا ہوا۔

اس دنیا سے پردہ فرمانے کا دن

 آپؓ کا وصال 4- محرم الحرام ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو 111ھ ہوا۔ آپؓ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے۔

حضرت محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی غوثِ صمدانی شاہ محی الدین حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ العزیز سلطان الفقر سوم کے مرتبۂ عالیہ پر فائز و متمکن ہیں۔ آپؓ کی ذاتِ والا صفات کسی تعریف و توصیف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ دنیائے ظاہر و باطن اور عالمِ غیب و الشہادت میں آفتابِ عالمتاب سے زیادہ مشہور اور معروف ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے مناقب آسمان کے ستاروں اور ریت کے ذروں سے زیادہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہٗ یکم رمضان المبارک 470ھ (1078ء) بروز جمعتہ المبارک عالمِ وحدت سے عالمِ ناسوت میں تشریف لائے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد ماجد حضرت سیّدنا ابو صالح موسیٰ جنگی رحمتہ اللہ علیہ حسنی اور والدہ ماجدہ اُم الخیر سیّدہ فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا حسینی سیّد ہیں گویا آپ رضی اللہ عنہٗ نجیب الطرفین سیّد ہیں۔ آپؓ کو ہر دو حسبی اور نسبی طور پر فقر کا مرتبہ بدرجۂ اتم عطا ہوا اور حقیقتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پورے طور پر آپؓ کے وجودِ مسعود میں جلوہ گر ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ اپنے جد مبارک حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حقیقی نائب اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جملہ ظاہری و باطنی اوصاف سے متصف اور جملہ اخلاق سے متخلق تھے۔ ولایت کے آثار اور فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انوار بچپن سے ہی جبینِ مبارک سے ہویدا تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ رمضان المبارک کے مہینہ کی چاند رات کو پیدا ہوئے۔ دن کے وقت مطلق دودھ نہ پیتے تھے صرف سحری کے وقت اور افطار کے بعد والدہ ماجدہ کا دودھ پیتے تھے۔ ولادت کے دوسرے سال ابر کی وجہ سے رویتِ ہلال کے متعلق کچھ شبہ پڑ گیا اس دن شعبان کی انتیس تاریخ تھی۔ دوسرے دن جب غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے دودھ کو مطلقاً منہ نہ لگایا تو آپؓ کی والدہ سمجھ گئیں کہ آج رمضان کی پہلی تاریخ ہے چنانچہ انہوں نے لوگوں کو یہ خبر سنائی اور بعد میں معتبر شہادتوں سے اس بات کی تصدیق ہو گئی۔ آپؓ کے صاحبزادے شیخ عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ سے دریافت کیا گیا کہ آپؓ کو اپنے ولی ہونے کا علم کب ہوا؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ جب میں دس برس کا تھا اور اپنے شہر کے مکتب میں جایا کرتا تھا تو فرشتوں کو اپنے پیچھے اور اردگرد چلتے دیکھتا تھا اور جب مکتب میں پہنچ جاتا تو وہ بار بار یہ کہتے کہ ”اللہ کے ولی کو بیٹھنے کے لیے جگہ دو”۔ اسی واقعہ کو بار بار دیکھ کر میرے دل میں احساس پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے درجۂ ولایت پر فائز کیا ہے۔

اپنے اعلیٰ ترین مرتبہ سے آگاہی کے باوجود سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے اللہ کی راہ میں شدید کوشش اور جدوجہد کی، قربِ الٰہی کے لیے سخت ریاضت کی اور جو نفس پہلے ہی مغلوب تھا اسے اپنے اور اللہ کے درمیان سے ہٹانے کے لیے ایسا مجاہدہ کیا کہ اس کے بیان سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اللہ کا عطا کردہ مرتبہ ایسے ہی حاصل نہ کر لیا بلکہ اسے باقاعدہ جدوجہد سے کمایا۔ اللہ کی محبت میں جس قدر مصائب و مجاہدات آپ رضی اللہ عنہٗ نے برداشت کیے وہ کسی اور ولی کے بس میں ہی نہ تھے اور اسی بنا پر آپ رضی اللہ عنہٗ کا قدم مبارک ہر ولی کی گردن پر ہے اور تمام اولیاء آپ رضی اللہ عنہٗ کے سامنے اپنی گردن جھکاتے ہیں۔

اس دنیا سے پردہ فرمانے کا دن

غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا وصال 91سال کی عمر میں 11ربیع الثانی 561ھ کو بغداد میں ہوا۔ قبل وصال آپ رضی اللہ عنہٗ نے امانتِ الٰہیہ (امانتِ فقر) اپنے جلیل القدر فرزند اور خلیفہ اکبر حضرت شیخ عبدالرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد فرمائی جو سلطان الفقر چہارم کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کا مزار مبارک بغداد شریف میں مرجع خلائق ہے۔

حضرت پیر دستگیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے فرزندِ ارجمندسیّدناحضرت شیخ عبدالرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر چہارم کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت پیر محبوبِ سبحانی قدس سرہٗ العزیز کے حسبی نسبی وارث اور ظاہری و باطنی طور پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے نائب اور جانشین ہوئے۔ جو کچھ باطنی دولت اور روحانی نعمت اللہ تعالیٰ نے پیر دستگیر قدس سرہٗ العزیز کو عنایت فرمائی تھی وہ سب کی سب جوں کی توں آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے فرزندِ سعادت مند کے سینے میں ڈال دی تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ گویا ثانی غوث محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ہوئے۔

حضرت شیخ سیّدنا عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ ۵۲۸ھ بمطابق ۱۱۳۳ء کو بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کی تعلیم و تربیت حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے ہی مبارک ہاتھوں میں ہوئی۔ اپنے والد گرامی سے تکمیلِ علم فرما کر دیگر علمائے عصر سے بھی بھرپور استفادہ فرمایا۔ علامہ ابنِ نجارؒ لکھتے ہیں ”آپ رحمتہ اللہ علیہ نے لڑکپن ہی سے اپنے والد محترم سے حدیث کی سماعت فرمائی تھی اور ان کے علاوہ بھی ایک بڑی جماعت سے احادیث کی سماعت فرمائی تھی اور اپنی ذاتی صلاحیتوں سے بھی بہت کچھ حاصل فرمایا”۔ زبردست محدث اور فقیہہ ہونے کی بنا پر ”تاج الدین” کے لقب سے ملقب ہوئے اور مفتئ وقت و امامِ زمانہ کے جلیل القدر منصب پر فائز ہوئے۔

اس دنیا سے پردہ فرمانے کا دن

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تاریخ وصال میں اختلاف ہے۔ کسی نے شوال ۶۰۳ھ اور کسی نے ربیع الاول ۵۷۱ھ لکھی ہے۔ آپؒ کا مزار مبارک بغداد میں بابِ حرم کے قریب حضرت احمد بن حنبل کے مزار کے ساتھ تھا ۔ دریائے دجلہ کے بہاؤ اور کٹاؤ کے باعث یہ دونوں مزارات ناپید ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی جو ”جلاء الخواطر” کے نام سے معروف ہے۔

سلطان الفقر(پنجم) سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17۔ جنوری1630ء) بروز جمعرات بوقت فجر شاہجہان کے عہدِ حکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اعوانوں کا شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے والد بازید محمد رحمتہ اللہ علیہ پیشہ ور سپاہی تھے اور شاہجہان کے لشکر میں ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک صالح، شریعت کے پابند، حافظِ قرآن فقیہہ شخص تھے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا عارفہ کاملہ تھیں اور پاکیزگی اور پارسائی میں اپنے خاندان میں معروف تھیں۔حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش سے قبل ہی بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کو ان کے اعلیٰ مرتبہ کی اطلاع دے دی گئی تھی اور ان کے مرتبہ فنا فی ھُو کے مطابق ان کا اسمِ گرامی ”باھُو” الہاماً بتا دیا گیاتھا جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 نام باھوؒ  مادر باھو ؒ  نہاد
 زانکہ باھوؒ   دائمی   با   ھو  نہاد

 ترجمہ:باھُوؒ کی ماں نے نام باھُوؒ رکھا کیونکہ باھُوؒ ہمیشہ ھُو کے ساتھ رہا۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پیدائشی عارف باللہ تھے۔ اوائل عمری میں ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ وارداتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی میں مستغرق رہتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ابتدائی باطنی و روحانی تربیت اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی پیشانی نورِ حق سے اس قدر منور تھی کی اگر کوئی کافر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک چہرے پر نظر ڈالتا تو فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا۔

اس دنیا سے پردہ فرمانے کا دن

 آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات بوقت عصر ہوا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک گڑھ مہاراجہ شورکوٹ ضلع جھنگ پاکستان میں ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس ہر سال جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ 

آپ25نومبر 1941 کو برصغیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں ڈھوک گوہر شاہ ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے، آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سید گوہر علی شاہؒ کے پوتوں میں سے ہیں، جبکہ والد گرامی سید گوہر علی شاہ ؒکے نواسوں میں سے ہیں، اور دادا مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

بچپن سے ہی آپ کا رُخ اولیاء اکرام کے درباروں کی طرف تھا، آپ کے والد گرامی فرماتے ہیں کہ گوہر شاہی پانچ یا چھ سال کی عمر سے ہی غائب ہو جاتے اور ہم جب اُن کو ڈھونڈنے نکلتے تو اِن کو نظام الدین ؒ اولیاء (دہلی) کے مزار پر بیٹھا ہوا یا سرہانے کی طرف سویا ہواپاتے۔ مجھے کئی دفعہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ نظام الدین اولیائؒ سے باتیں کر رہے ہیں، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت گوہر شاہی کے والد گرامی ملازمت کے سلسلے میں دہلی میں مقیم تھے۔ مارچ97 میں جب حضرت گوہر شاہی انڈیا تشریف لے گئے تو نظام الدین اولیاءؒ دربار کے سجادہ نشین اسلام الدین نظامی نے صاحبِ مزارکے اشارے پر ان کو دربار کے سرہانے دستار پہنائی تھی۔

بچپن سے ہی جو بات کہتے وہ پوری ہو جاتی، اس وجہ سے میں ان کی ہر جائز ضد کو پورا کرتا۔ آپ کے والد گرامی مزید فرماتے ہیں کہ’’ گوہر شاہی حسب معمول روزانہ صبح لان میں آتے ہیں تو میں ان کی آمد پر احترام میں کھڑا ہو جاتا ہوں‘‘ ، اس بات پر گو ہر شاہی مجھ سے ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں، مجھے شرم آتی ہے آپ اس طرح نہ کھڑے ہوا کریں۔ لیکن میرا بار بار یہی جواب ہوتا ہے کہ میں آپ کیلئے نہیں بلکہ جواللہ آپ میں بس رہا ہے اُس کے احترام میں کھڑا ہو تا ہوں۔

جب عمر تقریباً 35 سال کے لگ بھگ ہوئی تو حضرت امام بری سرکارؒ سامنے آئے اور کہا کہ بیٹا اب تیرا وقت آچکا ہے، علوم باطن کے لئے حضرت سخی سلطان باہوؒ کے دربار پر چلاجا۔آپ کاروبار، بیوی بچے اور ماں باپ چھوڑ کر شورکوٹ آئے، حضرت سخی سلطان باہوؒ کی نظر کرم سے آپ کی تصنیف ’’نورالہدی‘‘ آپ کی منزل کا ساتھی بن گئی اور پھر آپ مجاہدہ نفس اور سکون قلب کے لئے سہون شریف تشریف لے گئے۔ تین سال سہون کی پہاڑیوں اور لعل باغ میں مجاہدہ کیا اور پھر باطنی حکم کے تحت جامشورو ٹیکسٹ بورڈ کے عقب میں چھ ماں تک جھونپڑی ڈالے بیٹھے رہے۔اور آخر کار منشاء ایزدی کے تحت مخلوق خدا کو آپ کے وسیلے سے فیض ہونا شروع ہوگیا۔

تین سال چلہ کشی کے بعد جب کچھ حاصل ہواتو دوبارہ جام داتار کے دربار گیا، صاحب ِمزار سامنے آگئے میں نے کہا اُس وقت اگر مجھے قبول کر لیا جاتا تو بیچ میں نفسانی زندگی سے محفوظ رہتا، اُنہوں نے جواب دیا: اُس وقت تمہارا وقت نہیں تھا۔

حضرت گوہر شاہی کی باطنی شخصیت کے چند حقائق

19سال کی عمر میں جسئہ توفیق ِالٰہی آپ کے ساتھ لگادیا گیا تھا جو ایک سال رہا اور اُس کے اثر سے کپڑے پھاڑکر صرف ایک دھوتی میں جام داتارؒ کے جنگل میں چلے گئے تھے۔ جسئہ توفیق ِالٰہی عارضی طور پر ملا تھا، جو کہ 14 سال غائب رہا، اور پھر 1975میں دوبارہ سیون شریف کے جنگل میں لانے کا سبب بھی یہی جسئہ توفیق الٰہی ہی تھا !
25سال کی عمر میں جسئہ ِگوہر شاہی کو باطنی لشکر کے سالارکی حیثیت سے نوازا گیا، جس کی وجہ سے ابلیسی لشکر اور دنیاوی شیطانوں کے شر سے محفوظ رہے۔ جسئہ ِتوفیق ِالٰہی اور طفل ِنوری، ارواح، ملائکہ اور لطائف سے بھی اعلیٰ (Special) مخلوقیں ہیں، ان کا تعلق ملائکہ کی طرح براہِ راست رب سے ہے اور ان کا مقام ، مقامِ احدیت ہے۔

35سال کی عمر میں 15 رمضان1976 کو ایک نطفہء نور قلب میں داخل کیا گیا، کچھ عرصے بعد تعلیم و تربیت کیلئے کئی مختلف مقامات پر بلایا گیا۔ 15 رمضان1985 میں جبکہ آپ اللہ کے حکم سے دنیاوی ڈیوٹی پر حیدرآباد مامور ہو چکے تھے، وہی نطفہء نور طفلِ نوری کی حیثیت پاکر مکمل طور پر حوالے کردیا گیا، جس کے ذریعے دربارِ رسالت ؐمیں تاجِ سلطانی پہنایا گیا۔ طفلِ نوری کو بارہ سال کے بعد مرتبہ عطا ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو دنیاوی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ مرتبہ 9 سال میں ہی عطاہوگیا۔

جشنِ شاہی (15 رمضان المبارک) منانے کی وجوہات

15 رمضان 1977کو اللہ کی طرف سے خاص الہامات کا سلسلہ بھی شروع ہوا تھا۔راضیہ مرضیہ کا وعدہ ہوا، مرتبہ بھی ارشاد ہواتھا۔چونکہ آپ کے ہر مرتبے اور معراج کا تعلق پندرہ رمضان سے ہے۔ اِس لئے اِسی خوشی میں جشنِ شاہی اس روزمنایا جاتا ہے۔

اس دنیا سے پردہ فرمانے کا دن

27 نومبر 2001 کو حضرت گوہر شاہی اس دنیا سے پردہ فرماگئے اور آپ کا دربارِ عالیہ اللہ ھو پہاڑی خدا کی بستی نمبر۔1 کوٹری جامشورو سندھ پاکستان میں موجود ہے۔