786

دین الٰہی

 

مُصنّف

حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی

ناشر: آل فیتھ سپریچوئل موومنٹ ( آئر لینڈ)
All-Faith Spiritual Movement
Ireland

یہ کتاب اللہ کے متلاشیوں اور اللہ سے محبت کرنے والوں کےلئے ایک تحفہ ہے۔
اطلاع برائے ذاکرین:
یہ کتاب حق پرستوں، منصف مزاج لوگوں اور اللہ کے طالبوں تک پہنچانی ہے۔
ازلی منافق اس کو تلف کرنے کی کوشش کریں گے

ناشران:
آل فیتھ سپریچوئل موومنٹ کے آرگنائزرز زاہد گلزار اور سبھاش شرما نےR.A.G.S. انٹر نیشنل برطانیہ اور امریکن صوفی انسٹیٹیوٹ امریکہ کے تعاون سے چھپوائی ہے۔
پرنٹرز: Printers address: 1333-E Shepard Drive, Sterling, Virginia 20164
سال ِ اشاعت: جنوری۲۰۰۰ ´ ´/ مقام ِ اشاعت: ورجینیا، امریکہ / تعداد ِ اشاعت: 5ہزار / ایڈیشن نمبر1:
z_gulzar@hotmail.com

Publishers:
All- Faith Spiritual Movement
58 Knockmoyle Drive, Antrim BT41-1HE, Northern Ireland

گورنمنٹ آف پاکستان کے نام

میری اس تصنیف کا جائزہ ‘ اور میری ذاتی انکوائری‘ جس کے لئے مختلف ایجنسیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔ میری تصانیف اور شخصیت کی تحقیق ایسے منصف مزاج صحافیوں‘ دانشوروں اور سکیورٹی افسروں سے کروائی جائے جو روحانیت اور تصوف کے مخالف فرقے سے نہ ہوں اور تنگ نظر مولوی بھی نہ ہوں‘ کیونکہ انتشار کا سبب یہی لوگ ہیں۔ اگر یہ علم اللہ کی محبت کا درس اور وسیلہ ثابت نہ ہو‘ یا سب مذاہب کو ایک کرنے میں مددگار‘ یا دنیا میں امن کا خواہاں نہ ہو‘ یا اس سے وابستہ مختلف مذاہب کے لوگ گناہوں سے دور اور اللہ‘ رسولؐ کے محب، پرستار نہ بنے ہوں یا اس علم کے ثبوت یا اشارے، آسمانی کتب، احادیث اور ولیوں کے مکتوبات سے باہر ہوں،نیز زمین و فلک پر دکھائی گئی تصویریں،خود ساختہ،من گھڑت یا بے ثبوت ہوں تو حکومت ہر قسم کی سزا یا بندش کی مجاز ہے۔

ہمارے نوٹس میں آیا ہے کہ حکومت ان تصاویر کی بہت پہلے تحقیق کر چکی ہے۔ لیکن عوام میں فتنے کی وجہ سے خاموش ہے۔ حتیٰ کہ اس فتنے کے خطرے کے پیش نظر گوھرشاہی کو مختلف حربوں سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش نواز دور سے شروع ہوئی۔ اسکے جانے کے بعد بھی اس کے ہم خیال اس حکومت میں موجود ہیں۔انانیت ‘ فرقہ واریت ‘ عقیدے یا کرسی کی وجہ سے رب کی نشانیوں کو جھٹلانا سربراہوں کے لئے اچھا شگون نہیں ہوتا۔ رب کی نشانیاں فتنہ پیدا نہیں کرتیں بلکہ فتنوں کو مٹانے کے لئے آتی ہیں۔ جس کا لوگوں کو شعور نہیں ہے۔

حکومت ِ پاکستان اگر منصف مزاجی سے تحقیقی رپورٹ شائع کر دے۔ جس کی تحقیق غیر ممالک نے بھی کرنی ہے۔ تو پھر بچوں سے لیکر بوڑھوں تک کے دل بھی اللہ کے ذکر اور اس کے نام سے چمکتے نظر آئیں گے، کیونکہ مؤمن اور صادق قسم کے لوگ تصدیق کے منتظر ہیں۔
ہمارا نہ سیاسی جماعت سے تعلق ہے‘ اور نہ ہی حکومتی کاموں میں مداخلت کرتے ہیں۔ جو کچھ بھی کر رہے ہیں‘ رب کی رضا سے کر رہے ہیںاور مستقبل میں جو کچھ بھی ہونا ہے رب کی رضا سے ہی ہونا ہے۔ اس وجہ سے بے خوف اور بے دھڑک حقیقت کو آشکار اکر رہے ہیں۔

اب یہ معلوم ہوا ہے ، کہ حجرِاسود، چاند ، سورج اور ستارے پر نمودار تصویروں کی وجہ سے فوجی جرنیل اور حکومت گوہر شاہی کو امریکہ یا کسی اور ملک کا ایجنٹ اور ملک کے لئے خطرہ سمجھتی ہے ۔ واقعی ، میں اُسی حکومت کا ایجنٹ ہوں، جس نے یہ تصویریں لگائی ہیں۔ میں کئی دفعہ یہ اعلان کر چکا ہوں کہ ملک دشمنی، اسلام دشمنی، توہینِ رسالت یا منکرِ ختمِ نبوت کا اگر کوئی بھی ثبوت کسی کے پاس ہو ، تو بے شک مجھے زندہ جلادیا جائے۔ ہماری نس نس اللہ‘ رسولؐ کے عشق میں تڑپتی ہے۔ جو لوگ ایسے لوگوں پر جھوٹی رپورٹ یا جھوٹا بہتان لگاتے ہیں وہی ہیں۔

لعنۃُاللّٰہ علی الکاذبین!

والسلام
ریاض احمد گوھر شاہی

پیش لفظ

خداوند کریم نبیوں کے بعد ولیوں کو بھی دنیا میں بھیجتا رہا ہے، جن کے ذریعے گناہ گار، سیاہ کار لوگ ہدایت حاصل کر تے رہے۔ اس پر ُفتن دور میں بھی اللہ کے کامل ولی، امام انقلاب،سلطان الفقراء حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی کو ہم جیسے گناہ گاروں کیلئے اس دنیا میں بھیجا۔ جنہوں نے سسکتی ہوئی انسانیت کو فرقہ واریت، ظلم و ستم سے نکال کر امن و سکون بخشنے کا بیڑا اٹھایااور جو نسخہ کیمیا لوگوں کو بتایا اس کے ذریعے آج بے شمار قومیں ،فرقے اور کئی مذاہب ایک جان ہونے کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب تعلیمات گوھر شاہی کی بدولت اس دنیا میں تمام مذاہب ایک ہو کر دین الٰہی میں داخل ہونگے۔اور پوری دنیا میں اس انقلاب کی بدولت امن قائم ہوگا۔

یوں تو حضرت گوھر شاہی مدظلہ العالی نے روحانیت کے طالبین کے لئے کئی تصانیف تحریر فرمائی ہیں لیکن زیر نظر کتاب ’’دین الٰہی‘‘ جو اپنے نام سے ہی خصوصی اہمیت کی حامل معلوم ہوتی ہے حقیقت میں اس سے کہیں بڑھ کر اس کے اندر موجود حضرت نے جو انمول ہیروں کے موتی بکھیرے ہیں وہ کہیں اور سے ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن اور تصور سے بھی ماورا ہیں۔ اہل سلاسل ، گدی نشین اور علمائے حق کہتے ہیںکہ کتاب ’’دین الٰہی‘‘عالم انسانیت کیلئے نہ صرف ذریعہ نجات ہے بلکہ پیر حضرات اور طالبین حق اسے عشق الٰہی حاصل کرنے میں بے مثال پائیں گے۔ لہٰذا خدا کے پوشیدہ رازوں سے جو پردہ اٹھایا گیا ہے ہم انسانیت کے فائدے کیلئے پیش کر رہے ہیں تاکہ اکیسویں صدی کی سب سے حیرت انگیز‘ خوبصورت اور لازوال تحریر سے ہر خاص و عام استفادہ کر سکے۔اِس تصنیف کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ معرفت الٰہی کا وہ مشکل علم جو بڑے بڑے عالموں ، عابدوں اور زاہدوں کی سمجھ سے قاصر تھااس کو انتہائی آسان فرما دیا۔ جسے معمولی پڑھا لکھا انسان بھی آسانی سے سمجھ سکتاہے۔ نیز تزکیہ نفس ، تصفیہ قلب، شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کے رموز سالکوں اور طالبوں کے لئے اس کتاب میں بہترین انداز سے جمع فرما دیئے ہیں۔گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔

کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ شائد کسی نئے دین کی بات کی جا رہی ہے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔قرآن میںاس کا حوالہ سورۃ النصر میں پہلے سے موجود ہے’’ اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج داخل ہوتے‘‘ اور اسی طرح سورۃ الروم میں بھی ہے کہ’’ دین الٰہی پر بااستقامت قائم رہنا،جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا‘‘۔
( اللہ کی فطرت عشقِ حقیقی اور پیار و محبت ہے)

اللہ تعالی ہر شخص کو صاف ذہن اور دل کے ساتھ اس کتاب کو پڑھ کر اس کے نوری سمندر سے حسب توفیق فیض حاصل کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔

زاہد گلزار (آئرلینڈ)
z_gulzar@hotmail.com

دیباچہ

جو مذاہب آسمانی کتابوں کے ذریعہ قائم ہوئے وہ درست ہیں بشرطیکہ ان میں رد و بدل نہ کی گئی ہو!

مذاہب کشتی اور علماء ملاح کی طرح ہوتے ہیں، اگر کسی ایک میں بھی نقص ہو تو منزل پہ پہنچنا مشکل ہے،
البتہ اولیاء ٹوٹی پھوٹی کشتی کو بھی کنارے لگادیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے لوگ اولیاءکے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔

مذہب سے بالاتر اللہ کی محبت ہے ،جو تمام مذاہب کا عرق ہے۔ جبکہ اللہ کا نور مشعلِ راہ ہے!

تین حصے علم ِظاہرکے اور ایک حصہ علم ِباطن کا ہے جو خضر ؑ ( وشنو مہاراج) کے ذریعہ عام ہوا!

اللہ کی محبت ہی اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے، جس دل میں خدا نہیں کتے اس سے بہتر ہیں، کیونکہ وہ اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں
اور محبت ہی کی وجہ سے مالک کا قرب حاصل کرلیتے ہیں ورنہ کہاں ایک نجس کتا اور کہاں حضرت ِانسان!

اگر تجھے جنت اور حورو قصور کی آرزو ہے تو خوب عبادت کر تاکہ اونچی سے اونچی جنت مل سکے!

اگر تجھے اللہ کی تلاش ہے تو روحانیت بھی سیکھ تاکہ تو صراط ِمستقیم پر گامزن ہو کر اللہ کے وصال تک پہنچ سکے!

ریاض احمد گوہر شاہی

باب ِ اول
﴿انسان ازل سے ابد تک

جب اللہ نے روحوں کو بنانا چاہا تو کہا ’ کُن‘ ، تو بے شمار روحیں بن گئیں۔ اللہ کے سامنے اور قریب ارواح نبیوں کی ، پھر دوسری صف میں ولیوں کی، پھر تیسری صف میں مؤمنین کی ، پھر ان کے پیچھے عام انسانوں کی، پھر حدِ نگاہ سے دور صف میں عورتوں کی روحیں بن گئیں، پھر ان کے پیچھے روح ِ حیوانی، پھر روح ِ نباتی اور پھر ایسی روح ِ جمادی جن میں ہلنے جلنے کی طاقت بھی نہ تھی، نمودار ہو گئیں۔ اللہ کے دائیں طرف فرشتوں کی اور پھر اس کے بعد حوروں کی ارواح تھیں، جو رب کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں، یہی وجہ ہے کہ فرشتے رب کا دیدار نہیں کر سکے۔ پھر پیچھے نوری مؤکلات کی روحیں جو دنیا میں آکر نبیوں ، ولیوں کی امدادی ہوئیں۔ پھر بائیں جانب جنات کی روحیں، پھر پیچھے سفلی مؤکلات، پھر خبیثوں کی روحیں جو دنیا میں آکر ابلیس کی امدادی ہوئیں۔دائیں، بائیں اور حد ِ نگاہ سے دور والی ارواح رب کا جلوہ نہ دیکھ سکیں۔یہی وجہ ہےکہ جن ، فرشتے اور عورتیں رب سے ہمکلام ہو سکتے ہیں لیکن دیدار نہیں کر سکتے۔

کرہِ ارض میں ایک آگ کا گولہ تھا، حکم ہوا ٹھنڈا ہوجا، پھر اسکے ٹکڑے فضا میں بکھر گئے۔ چاند، مریخ، مُشتری، یہ دنیا اور ستارے سب اسی کے ٹکڑے ہیں جبکہ سورج وہی باقی ماندہ گولہ ہے۔ یہ زمین راکھ ہی راکھ بنی ۔جمادی روحوں کو نیچے بھیجا گیا جن کے ذریعے راکھ جم کر پتھر ہوگئی ۔ پھر نباتی روحوں کو بھیجا گیا جس کی وجہ سے پتھروں میں درخت بھی اُگ آئے۔ پھر حیوانی روحوں کے ذریعے حیوان نمودار ہوئے۔

اللہ نے سب روحوں سے یہ بھی پوچھا تھا کیا میں تمہارا رب ہوں، سب نے اقرار کیا اور سجدہ کیا تھا یعنی پتھروں اور درختوں کی روحوں نے بھی سجدہ کیا تھا۔  والنجم والشجر یسجدان۔ (سورة الرحمٰن القرآن)

پھر اللہ نے روحوں کے امتحان کے لیے مصنوعی دنیا ، مصنوعی لذات بنائے اور کہا اگر کوئی ان کا طالب ہے تو حا صل کر لے۔ بے شمار روحیں اللہ سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف لپکیں اور دوزخ ان کے مقدر میں لکھ دی گئی۔ پھر اللہ نے بہشت کا نظارہ دکھایا جو پہلی حالت سے بہتر اور اطاعت و بندگی والا تھا۔ بہت سی روحیں ادھر لپکیں انکے مقدر میں بہشت لکھ دی گئی۔ بہت سی روحیں کو ئی فیصلہ نہ کر پائیں۔ انہیں پھر رحمن اور شیطان کے درمیان کردیا۔ وہی روحیں دنیا میں آکر بیچ میں پھنس گئیں، پھر جس کے ہاتھ لگ گئیںاس ہی کی ہو گئیں۔

بہت سی روحیں اللہ کے جلوے کو دیکھتی رہیں، نہ دنیا کی اور نہ ہی جنت کی طلب، اللہ کو اُن سے محبت اور اُنہیں اللہ سے محبت ہوگئی۔ ان ہی روحوں نے دنیا میں آکر اللہ کی خاطر دنیا کو چھوڑا اور جنگلوں میں بسیرا کیا۔ روحوں کی ضرورت اور دل لگی کے لیے اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوق، چھ ہزار پانی میں ، چھ ہزار خشکی میں اور چھ ہزار ہوائی اور آسمانی پیدا کی گئی۔

پھر اللہ نے سات قسم کی جنت اور سات قسم کی دوزخ بنائی

جنتوں کے نام

دوزخوں کے نام

1۔ خلد
2۔ دارالسلام
3۔ دارالقرار
4۔ عدن
5۔ الماویٰ
6۔ نعیم
7۔ فردوس
سقر
سعیر
نطیٰ
حطمہ
حجیم
جہنم
ہاویہ

مندرجہ بالاسارے نام سریانی زبان( وہ زبان جس میں اللہ ، فرشتوں سے مخاطب ہوتا ہے )کے ہیں

سب مذاہب کا عقیدہ ہے کہ جسے اللہ چاہے دوزخ میں اور جسے چاہے بہشت میں بھیج دے۔ ۔ اگر وہیں سے جس روح کو دوزخ میں بھیجا جاتا تو وہ اعتراض کرتی کہ میں نے کونسا جرم کیا تھا؟ اللہ کہتا ، تو نے میری طرف سے منہ موڑ کر دنیا طلب کری تھی۔ روح کہتی، وہ تو صرف نادانی میں اقرار تھا ، عمل تو نہیں کیا تھا ، پھر اس حجت کو پورا کرنے کے لیے روحوں کو نیچے اس دنیا میں بھیجا۔

آدم علیہ السلام( جنہیں شنکر جی بھی کہتے ہیں) جنت کی مٹی سے ان کا جسم بنایا گیا۔ پھر روح ِانسانی کے علاوہ کچھ اور مخلوقیں بھی اُس میں ڈال دی گئیں۔ جب آدم علیہ السلام کا جسم بنایا جارہا تھا تو شیطان نے حسد سے تھوکا تھا ، جو ناف کی جگہ گرا، اور اُس تھوک کے جراثیم بھی اُس جسم میں شامل ہوگئے۔ شیطان ، جنات قوم سے ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اُس کے ساتھ ایک شیطان جن بھی پیدا ہوتا ہے، جسم تو صرف مٹی کا مکان تھا جس کے اندر سولہ (16)مخلوقوں کو بند کردیا، جب کہ خناس اور چار پرندے اور بھی ہیں۔

آدم ؑ کی بائیں پسلی سے عورت کی شکل میں مواد نکلا ، اُس میں روح ڈال دی گئی، جو مائی حوا بن گئی۔ بعد میں بہشت سے نکال کر آدم علیہ السلام کو سری لنکا اور مائی حوا کو جدہ میں اتارا گیا جن کے ذریعے ایشیائیوں کی پیدائش کا سلسلہ شروع ہوگیا، اور آسمان سے باقی روحیں بھی بتدریج آنا شروع ہو گئیں۔ روحوں کی تعلیم و تربیت اور مدارج کے لیے مذاہب کی صورت میں مدرسے قائم ہوئے اور روزِ ازل کی تقدیر کے مطابق کوئی کسی مذہب میں، اور کوئی بے مذہب ہی رہیں۔ اللہ کی محب روحیں بھی اس دنیا میں آئیں، کوئی مسلم کے گھر، کوئی ہندؤں، کوئی سکھوں اور کوئی عیسائیوں کے گھروں میں پیدا ہو گئیں اور اپنے مذہب کے ذریعے اللہ کو پانے کی کوشش کرنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب کے خواص نے رہبانیت اختیار کی، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔ یہ عقیدہ غلط ہے۔ حضور پاکﷺ بھی غار حرا میں جایا کرتے تھے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ، خواجہ معین الدین اجمیری ؒ، داتا علی ہجویریؒ، بری امامؒ، بابا فریدؒ ، شہباز قلندرؓ وغیرہ نے بھی رہبانیت کے بعد ہی اتنے بلند مقام حاصل کیے۔ اور ان ہی کے ذریعے دین کی اشاعت ہوئی۔

باب دوئم
…. دنیا میں انسان کی بنیاد….

پیٹ میں نطفہ ِ ا نسانی کے بعد خون کو اِکٹھا کرنے کے لئے روحِ جمادی آتی ہے، پھر روحِ نباتی کے ذریعے بچہ پیٹ میں بڑھتا ہے۔ چار ماہ کے بعد روحِ حیوانی جسم میں داخل کی جاتی ہے جِس کے ذریعے بچہ پیٹ میں حرکت کرتا ہے، اِن کو ارضی ارواح کہتے ہیں۔ پھر پیدائش کے بعد روح ِانسانی دوسری مخلوقات کے ساتھ آتی ہے اِن کوسماوی ارواح کہتے ہیں۔

اگر بچہ پیدائش سے تھوڑی دیر پہلے ہی پیٹ میں مر جائے تو اُس کا جنازہ نہیں ہوتا کہ وہ حیوان تھا۔ پیدائش کے تھوڑی دیر بعد مر جائے تو اُس کا جنازہ لازم ہے کہ وہ روحِ اِنسانی کی آمد کی وجہ سے انِسان بن گیا تھا، اور نفس نے بھی مقامِ ناف پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈیرہ لگا لیا تھا۔ اگر اِس میں جمادی روح طاقتور ہے تو وہ پہاڑوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔ روحِ نباتی کی وجہ سے انسان پھولوں اور درختوں سے لگاؤ رکھتا ہے۔ روح ِ ِ حیوانی کے غلبہ سے جانوروں سے پیار اور جانوروں جیسے کام کرتا ہے۔ جبکہ نفس کی شکل کتے کی طرح ہوتی ہے، اُس کے غلبہ سے کتوں جیسے کام اور کتوں سے پیار کرتا ہے۔ اور بیداری ِ قلب سے انسان فرشتوں کی طرح بن جاتا ہے۔

انسان کے مرنے کے بعد سماوی ارواح آسمانوں کو لوٹ جاتی ہیں، جو ایک ہی جسم کے لیے مخصوص ہیں، ارضی روحیں بمع نفوس کے اسی دنیا میں رہ جاتی ہیں۔ ارضی روحیں ایک سے دوسرے، پھر تیسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتیں ہیں کیونکہ ان کا روز ِ محشر سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن پاکیزہ نفس قبروں میں رہ کر لوگوں کو فیض پہنچاتے اور خود بھی بندگی کرتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ جب شب ِ معراج میں حضور پاکﷺ، موسیٰ ؑ کی قبر سے گزرے تو دیکھا موسیٰؑ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں، جب آسمانوں پر پہنچے تو دیکھا موسیٰؑ وہاں بھی موجود ہیں۔

بدکار لوگوں کے طاقتور نفس اپنے بچاؤ کے لیے شیاطین کے ٹولے سے مل جاتے ہیں، اور لوگوں کے جسم میں داخل ہو کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کو بد روحیں کہتے ہیں، انجیل میں ہے کہ عیسیٰؑ بد روحیں نکالاکرتے تھے۔ ارضی ارواح اور نفوس اسی دنیا میں ، روح ِ انسانی عالم علیین یا سجیین میں اور لطائف اگر طاقتور ہیں تو وہ بھی علیین میں ، ورنہ قبر میں ہی ضائع ہوجاتے ہیں۔ نفس کی وجہ سے انسان ناپاک ہوا۔

بقول بلھے شاہؒ:
اس نفس پلیت نے پلیت کیتا
اساں مُنڈھوں پلیت نہ سی!

نفس کو پاک کرنے کے لیے کتابیں اتریں، نبی، ولی آئے، کہیں اُس کو دوزخ سے ڈرایا گیا، کہیں بہشت کی لالچ دی گئی۔ ریاضت، عبادت اور روزوں کے ذریعے اسے سُدھارنے کی کوشش کی گئی اور جنت کے حقدار بھی ہوگئے۔ اور بہت سے لوگوں نے باطنی علم کے ذریعے اسے پاک بھی کرلیا اور اللہ کے دوست بن گئے۔

……ایک اہم نقطہ……

۔۔۔۔نفس کا تعلق شیطان سے ہے۔

۔۔۔۔سینے کے پانچوں لطائف کا تعلق ، پانچوں رسولوں سے ہے۔

۔۔۔۔انا کا تعلق اللہ سے ہے۔

۔۔۔۔اسی طرح اس جسم کا تعلق کامل مرشد سے ہے۔

اور جو بھی مخلوق جس نسبت سے خالی ہے وہ اس کے فیض سے محروم اور عاری ہے۔

بابِ سوئم
۔۔۔لطائف /شکتیاں۔۔۔

لطیفہ قلب:
گوشت کے لوتھڑے کو اردو میں دل اور عربی میں فواد بولتے ہیں، اور اس مخلوق کو جو دل کے ساتھ ہے، قلب بولتے ہیں اس کی نبوت اور علم آدم ؑ کو ملا تھا۔ حدیث میں ہے کہ دل اور قلب میں فرق ہے۔ اس دنیا کو ناسوت بولتے ہیں، اس کے علاوہ اور جہان بھی ہیں، یعنی ملکوت، عنکبوت ، جبروت، لاہوت، وحدت اور احدیت۔ یہ مقام ناسوت میں گولہ پھٹنے سے پہلے تھے۔ اور ان کی مخلوقیں بھی پہلے سے موجود تھیں۔ فرشتے ارواح کے ساتھ بنے۔ لیکن ملائکہ اور لطائف پہلے ہی سے ان مقامات پر موجود تھے، بعد میں عالمِ ناسوت میں بھی کئی سیاروں پر دنیا آباد ہوئی۔ کوئی مٹ گئے اور کوئی منتظر ہیں۔ یہ مخلوق یعنی لطائف اور ملائکہ روحوں کے امر ِکن سے ۰۷ ہزار سال پہلے بنائے گئے تھے اور ان میں سے قلب کو مقام ِ محبت میں رکھا گیا، اور اسی کے ذریعے انسان کا رابطہ اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان یہ ٹیلی فون آپریٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان پر دلیل و الہامات اسی کے ذریعے وارد ہوتے ہیں۔ جبکہ لطائف کی عبادات بھی اسی کے ذریعے عرشِ بالا پر پہنچتی ہیں۔ لیکن یہ مخلوق خود ملکوت سے آگے نہیں جاسکتی، اس کا مقام خلد ہے۔ اس کی عبادت بھی اندر، اور تسبیح بھی انسان کے ڈھانچے میں ہے۔ اس کی عبادت کے بغیر والے جنتی بھی افسوس کرینگے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو نیکوکاروں کے برابر کر دینگے۔ کیونکہ قلب والے جنت میں بھی اللہ اللہ کرتے رہیں گے۔

جسمانی عبادت مرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے، جن کے قلب اور لطائف اللہ کے نور سے طاقتور نہیں، وہ قبروں میں ہی خستہ حالت میں رہیں گے یا ضائع ہوجائیں گے۔ جبکہ منور اور طاقتور لطائف مقامِ علیین میں چلے جائیں گے۔ یومِ محشر کے بعد جب دوسرے جسم دئیے جائیں گے تو پھر یہ لطائف بھی روح انسانی کے ساتھ اس جسم میں داخل ہونگے، جنہوں نے ان کو دنیا میں اللہ اللہ سکھایا تھا ، وہاں بھی اللہ اللہ کرتے رہیں گے۔ اور وہاں جاکر بھی ان کے مرتبے بڑھتے رہیں گے۔ اور جو اِدھر دل کے اندھے تھے وہ اُدھر بھی اندھے ہی رہیں گے۔ کیونکہ میدانِ عمل یہ دنیا تھی، اور وہ ایک ہی جگہ ساکن ہو جائیں گے۔

عیسائیوں، یہودیوں کے علاوہ ہندو مذہب بھی ان مخلوقوں کا قائل ہے۔ ہندو انہیں شکتیاں اور مسلمان لطائف کہتے ہیں۔ قلب دل کے بائیں طرف دو انچ کے فاصلے پر ہوتا ہے اس مخلوق کا رنگ زرد ہے۔ اِس کی بیداری سے انسان زرد روشنی اپنی آنکھوں میں محسوس کرتا ہے۔ بلکہ کئی عامل حضرات ان لطائف کے رنگوں سے لوگوں کا علاج بھی کرتے ہیں۔

اکثر لوگ اپنے دل کی بات بر حق مانتے ہیں، اگر واقعی دل سچے ہیں تو سب دل والے ایک کیوں نہیں۔ عام آدمی کا قلب صنوبری ہوتا ہے جس میں کوئی سدھ بدھ نہیں ہوتی ، نفس اور خناس کے غلبے یا اپنے سیدھے پن کی وجہ سے غلط فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ قلبِ صنوبری پر اعتماد نادانی ہے۔ جب اس دل میں اللہ کا ذکر شروع ہوجاتا ہے، پھر اس میں نیکی بدی کی تمیز اور سمجھ آجاتی ہے، اسے قلب ِسلیم کہتے ہیں، پھر ذکر کی کثرت سے اُس کا رُخ رب کی طرف مُڑ جاتا ہے، اُسے قلب ِمنیب کہتے ہیں، یہ دل برائی سے روک سکتا ہے مگر یہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتا، پھر جب اللہ تعالیٰ کی تجلیات اُس دل پر گرنا شروع ہوجاتی ہیں تو اُسے قلبِ شہید کہتے ہیں۔

الحدیث: شکستہ دِل اور شکستہ قبر پر اللہ کی رحمت پڑتی ہے۔

اُس وقت جو دِل کہے چپ کرکے مان لے، کیونکہ تجلی سے نفس بھی مطمئنہ ہوجاتا ہے اور اللہ حبل الورید ہوجاتا ہے، پھر اللہ کہتا ہے کہ میں اُس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔
روحِ انسانی:
اس کی نبوت اور علم حضرت ابراہیم ؑ کو ملا تھا۔
یہ دائیں پستان کے قریب ہوتی ہے۔ ذکر کی ضربوں اور تصور سے اِس کو بھی جگایا جاتا ہے۔پھر ادھر بھی ایک دھڑکن نمایاں ہوجاتی ہے۔ اِ س کے ساتھ (ذکر) یا اللہ ملایا جاتا ہے، پھر انسان کے اندر دو بندے ذکر کرنا شروع کردیتے ہیں اور اِ س کا مرتبہ قلب والے سے بڑھ جاتا ہے۔ روح کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے اور اِس کی بیداری سے جبروت تک (جو مقامِ جبرائیل ہے)رسائی ہوجاتی ہے۔ غضب و غصہ اِس کے ہمسایہ ہوتے ہیں، جوجل کر جلال بن جاتے ہیں۔

لطیفہ سری:
اس کی نبوت اور علم حضرت موسیٰ ؑ کو ملا تھا۔
یہ مخلوق سینے کے درمیا ن سے بائیں پستان کے درمیان ہوتی ہے۔اس کو بھی یا حیئی یا قیوم کی ضربوں اور تصور سے بیدار کیا جاتا ہے۔ اِس کا رنگ سفید ہے۔ خواب یا مراقبے میں لاہوت تک پہنچ رکھتی ہے، اب تین مخلوقیں ذکر کررہی ہیں اور اِس کا درجہ اُن دو سے بڑھ گیا۔

لطیفہ خفی:
اس کی نبوت اور علم حضرت عیسیٰ ؑ کو ملا تھا۔
یہ سینے کے درمیان سے دائیں پستان کے درمیان ہوتی ہے، اِسے بھی ضربوں کے ذریعہ یا واحد سکھایا جاتا ہے۔ اِس کا رنگ سبز ہے اور اِس کی رسائی مقامِ وحدت سے ہے، اور اب چار بندوں کی عبادت سے درجہ اور بڑھ گیا۔

لطیفہ اخفیٰ:
اس کی نبوت اور علم حضور پاکﷺ کو ملا تھا۔
یہ مخلوق سینے کے درمیان ہے۔ یا احد کا ذکر اِس کے لئے وسیلہ ہے۔ اِس کا رنگ جامنی ہے، اِ س کا تعلق بھی مقامِ وحدت کے اُس پردے سے ہے جس کے پیچھے تخت ِ خداوند ہے۔

پانچوں لطیفوں کا باطنی علم بھی پانچوں نبیوں کو بالتر تیب حاصل ہوا، اور ہر لطیفے کا آدھا علم نبیوں سے ولیوں تک پہنچا، اس طرح اس کے دس حصے بن گئے۔پھر ولیوں سے خاص ، اس علم سے مستفیض ہوئے۔جبکہ ظاہری علم، ظاہری جسم،ظاہری زبان،ناسوت اور نفوس سے تعلق رکھتا ہے۔یہ عام لوگوں کے لئے ہے۔اور اس کا علم ظاہری کتاب میں ہے۔جس کے تیس (30) حصے ہیں۔علمِ باطن بھی نبیوں پروحی کے ذریعے نازل ہوا، اس وجہ سے اسے بھی باطنی قرآن بولتے ہیں۔قرآن کی بہت سی سورتیں بعد میں منسوخ کی جاتیں۔ اُس کی وجہ یہی تھی کہ کبھی کبھی سینے کا علم بھی حضورپاکؐ کی زبان سے عام میں ادا ہوجاتا۔جوکہ خاص کے لئے تھا، بعد میں یہ علم سینہ بہ سینہ ولیوں میں چلتا رہا اور اب کتب کے ذریعے عام کردیا گیا۔

لطیفہ انا:
یہ مخلوق سر میں ہوتی ہے، بے رنگ ہے۔ یاھُو کا ذکر اِس کی معراج ہے۔ اور یہی مخلوق طاقتور ہوکر خدا کے روبرو بے پردہ ہمکلام ہوجاتی ہے۔ یہ عاشقوں کا مقام ہے،اِس کے علاوہ کچھ خواص کو اللہ کی طرف سے اور (دیگر) مخلوقیں بھی عطا ہوجاتی ہیں، جیسے طفل ِ نوری یا جُسہِ توفیق ِ الٰہی، پھر ان کا مرتبہ سمجھ سے بالا ہے۔

لطیفہ ِ انا کے ذریعہ دیدارِ الٰہی خواب میں ہوتا ہے
جُسہِ توفیق ِ الٰہی کے ذریعہ رب کا دیدار مراقبے میں ہوتا ہے
اور طفل ِ نوری والوں کو رب کا دیدار ہوش و حواس میں ہوتا ہے

یہی پھر دنیا میں قدرت اللہ کہلاتے ہیں، چاہے کسی کو عبادت و ریاضت ، اور چاہےکسی کو نظروں سے ہی مقام ِ محمود تک پہنچادیں، اِن کی نظروں میں

چہ مسلم چہ کافر، چہ زندہ چہ مردہ

سب برابر ہوتے ہیں، جیسا کہ غوث پاکؓ کی ایک نظر سے چور، قطب بن گیا۔ یا ابو بکر حواری یا منگا ڈاکو بھی اِن لوگوں کی نظروں سے پیر بن گئے۔

پانچوں مرسل کو بالترتیب علیحدہ علیحدہ لطائف کا علم دیا گیا جس کی وجہ سے روحانیت میں ترقی ہوتی گئی۔ جس جس لطیفے کا ذکر کرے گا، اُن سے متعلق مرسل سے تعلق اور فیض کا حق دار ہوجائے گا۔ اور جس لطیفے پر تجلی پڑے گی، اس کی ولائت اُس نبی کے نقش قدم پر ہوگی۔ سات آسمانوں میں پہنچ اور سات بہشتوں میں مدارج کی حصولی بھی ان ہی لطائف سے ہوتی ہے۔

لطیفہ نفس:
یہ شیطانی جرثومہ ہے۔ ناف میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ سب نبیوں ولیوں نے اس کی شرارت سے پناہ مانگی، اس کی غذا فاسفورس اور بدبو ہے، جو ہڈیوں، کوئلے اور گوبر میں بھی ہوتی ہے۔ ہر مذہب نے جنابت کے بعد نہانے پر زور دیا ہے۔ کیونکہ جنابت کی بدبو مساموں سے بھی خارج ہوتی ہے۔ بدبو دار قسم کے مشروب اور بدبو دار قسم کے جانوروں کے گوشت کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔

روزِ ازل میں اللہ کے سامنے والی تمام روحیں، جمادی تک، ایک دوسرے سے مانوس اور متحد ہوگئیں۔ روح جمادی کی وجہ سے انسان نے پتھروں کے مکان بنائے، اور روحِ نباتی کی وجہ سے درختوں کی لکڑیوں سے چھت بنائے، درختوں کے سائے سے بھی مستفیض ہوئے، درختوں نے ان کو صاف ستھری آکسیجن پہنچائی۔ پیچھے والی حیوانی روحیں جو دنیا میں آکر جانور بن گئے، سب انسانوں کے لئے حلال کر دئیے گئے۔جبکہ ان ہی سے متعلقہ پرندے بھی حلال کر دیے گئے۔

بائیں طرف جنات اور سفلی مؤکلات بنے پھر اُن سے پیچھے کی طرف خبیث ارواح جو آخر میں دشمنِ خدا ہوئیں۔ اور وہ حیوانی ، نباتی اور جمادی روحیں جو خبیثوں کے پیچھے نمودار ہوئیں تھیں اُنہوں نے انسانوں سے دشمنی کری، اُن کی روح جمادی کے دنیا میں آنے سے راکھ، کوئلہ بنی، جس کی گیس انسانوں کے لئے نقصان دہ تھی۔ اُن کی روحِ نباتی سے خطرناک اور کانٹے دار قسم کے اور آدم خور قسم کے درخت وجود میں آئے اور اُن کی روح حیوانی سے آدم خور اور درندہ قسم کے جانور پیدا ہوئے، اور اُن سے متعلقہ پرندے بھی ان ہی کی انسان دشمنی کی خصلت کی وجہ سے حرام قرار دیئے گئے ۔ جن کی پہچان یہ ہے کہ وہ پنجے سے پکڑکر غذا کھاتے ہیں۔

دائیں جانب والی ارواح کو انسان کا خادم، پیغام رساں اور مدد گار بنا دیا اور انسان کو سب سے زیادہ فضیلت عطا کرکے اپنا خلیفہ مقرر کردیا۔ اب انسان کی مرضی، محنت اور قسمت ہے کہ خلافت منظور کرے یا ٹھکرادے۔ نفس خواب میں جسم سے باہر نکل جاتا ہے اور اس بندے کی شکل میں جنات کی شیطانی محفلوں میں گھومتا ہے۔ نفس کے ساتھ خناس بھی ہوتا ہے، جس کی شکل ہاتھی کی طرح ہوتی ہے اور یہ نفس اور قلب کے درمیان بیٹھ جاتا ہے، انسان کو گمراہ کرنے کےلئے نفس کی مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چار پرندے بھی انسان کو گمراہ کرنے کےلئے چاروں لطائف کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں۔ جیسا کہ قلب کے ساتھ مرغ، جس کی وجہ سے دل پر شہوت کا غلبہ رہتا ہے، قلب کے ذکر سے وہ مرغ ، مرغ ِ بسمل بن جاتا ہے، اور حرام و حلال کی تمیز کا شعور پیدا کردیتا ہے۔ پھر اس قلب کو قلب ِسلیم کہتے ہیں۔ سری کے ساتھ کوا، کوے کی وجہ سے حرص، اور خفی کے ساتھ مور، مور کی وجہ سے حسد، اور اخفیٰ کے ساتھ کبوتر، کبوتر کی وجہ سے بخل آجاتا ہے۔ اور اُنکی خصلتیں لطائف کو حرص و حسد پر مجبور کردیتی ہیں، جب تک لطائف منور نہ ہو جائیں۔ ابراہیم ؑ علیہ السلام کے جسم سے ان ہی چار پرندوں کو نکال کر، پاکیزہ کر کے دوبارہ جسم میں ڈالا گیا تھا۔ مرنے کے بعد پاکیزہ لوگوں کے یہ پرندے درختوں پر بسیرا بنالیتے ہیں۔ بہت سے لوگ جنگلوں میں کچھ دن رہ کر پرندوں جیسی آوازیں نکالتے ہیں، اور یہ پرندے ان سے مانوس ہو جاتے ہیں اور اُن کے چھوٹے موٹے علاجوں میں معاون بن جاتے ہیں۔جب کہ روح شہباز کی صورت میں ہوتی ہے۔

…انسانی جسم میں اِن لطائف کی ڈیوٹیاں…

لطیفہ ِ اخفیٰ: اِس کے ذریعہ انسان بولتا ہے۔ ورنہ زبان ٹھیک ہونے کے باوجود وہ گونگا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں میں فرق اِن لطائف کا ہے۔ پیدائش کے وقت اگر اخفیٰ کسی وجہ سے جسم میں داخل نہ ہو سکے تو اسے جسم میں منگوانا کسی متعلقہ نبی کی ڈیوٹی تھی، پھر گونگے بولنا شروع ہوجاتے تھے۔

لطیفہ ِ سری : اِس کے ذریعہ انسان دیکھتا ہے۔ اِس کے جسم میں نہ آنے سے انسان پیدائشی اندھا ہے، اِس کو واپس لانا بھی کسی متعلقہ نبی کی ڈیوٹی تھی، جس سے اندھے بھی دیکھنا شروع ہوجاتے تھے۔

لطیفہ ِقلب: اِس کے جسم میں نہ ہونے کی وجہ سے انسان بالکل جانوروں کی طرح رب سے نا آشنا اور دور ، بے شوق بے کیف ہوجاتا ہے، اِس کو واپس دلوانا بھی نبیوں کا کام تھا۔ اور اُن نبیوں کے معجزات کرامت کی صورت میں ولیوں کو بھی عطا ہوئے، جس کے ذریعہ فاسق و فاجر بھی رب تک پہنچ گئے۔کسی بھی ولی یا نبی کے ذریعہ جب کسی متعلقہ لطیفے کو واپس کیا جاتا ہے تو گونگے بہرے اور اندھے بھی شفا یاب ہو جاتے ہیں۔
لطیفہ ِ انا: اِس کے جسم میں نہ آنے سے انسان پاگل کہلاتا ہے، بے شک دماغ کی سب نسیں کام کررہیں ہوں۔

لطیفہ ِ خفی: اِس کے نہ آنے سے انسان بہرہ ہے۔خواہ کان کے سوراخ کھول دئے جائیں۔جسمانی نقائص سے بھی یہ حا لتیں پیدا ہوسکتی ہیں، جو قابل ِعلاج ہیں، لیکن مخلوقوں کے ناپید ہونے کا کوئی علاج نہیں، جب تک کسی نبی یا ولی کی حمایت حاصل نہ ہو۔

لطیفہ ِنفس: کے ذریعہ انسان کا دل دنیا میں، اور لطیفہِ قلب کے ذریعہ انسان کا رُخ اللہ کی طرف مڑ جاتا ہے۔

باب ِ چہارم
لفظ{اللہ }

سُریانی زبان جو آسمانوں پر بولی جاتی ہے، فرشتے اور رب اسی زبان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ جنت میں آدم ؑ صفی اللہ بھی یہی زبان بولتے تھے، پھر جب آدم ؑ صفی اللہ اور مائی حوا دنیا میں آئے، عربستان میں آباد ہوئے۔ اُن کی اولاد بھی یہی زبان بولتی تھی، پھر آل کے دنیا میں پھیلاؤ کی وجہ سے یہ زبان عربی ،فارسی، لاطینی سے نکلتی ہوئی انگریزی تک جا پہنچی، اور اللہ کو مختلف زبانوں میں علیحدہ علیحدہ پکارا جانے لگا۔ آدم علیہ السلام کے عرب میں رہنے کی وجہ سے سریانی کے بہت سے الفاظ اب بھی عربی زبان میں موجود ہیں۔ جیسا کہ آدم ؑ کو آدم صفی اللہ کے نام سے پکارا تھا ۔ کسی کو نوح نبی اللہ، کسی کو ابراہیم خلیل اللہ، پھر موسیٰ کلیم اللہ، عیسیٰ روح اللہ اور محمد الرسول اللہﷺ پکارا گیا۔ یہ سب کلمے سریانی زبان میں لوح ِمحفوظ پر ان نبیوں کے آنے سے پہلے ہی درج تھے، تبھی حضور پاکؐ نے فرمایا تھا کہ میں اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ اللہ مسلمانوں کا رکھا ہوا نام ہے، مگر ایسا نہیں ہے

حضرت محمدالرسول اللہؐ کے والد کا نام عبداللہ تھا ۔ جبکہ اس وقت اسلام نہیں تھا۔ اور اسلام سے پہلے بھی ہر نبی کے کلمے کے ساتھ اللہ پکارا گیا۔ جب روحیں بنائی گئیں تو ان کی زبان پر پہلا لفظ اللہ ہی تھا۔ اور پھر جب روح آدم کے جسم میں داخل ہوئی تو یا اللہ پڑھ کر ہی داخل ہوئی تھی۔ بہت سے مذاہب اس رمز کو حق سمجھ کر اللہ کے نام کا ذکر کرتے ہیں ۔ اور بہت سے شکوک و شبہات کی وجہ سے اس سے محروم ہیں۔
جو بھی نام رب کی طرف اشارہ کرتا ہے قابل ِتعظیم ہے۔
یعنی اللہ کی طرف رخ کر دیتا ہے۔ مگر ناموں کے اثر سے متفرق ہوگئے۔ حروف ِابجد اور حروف ِتہجی کی رو سے ہر لفظ کا ہندسہ علیحدہ ہوتا ہے،یہ بھی ایک آسمانی علم ہے۔ اور اِن ہندسوں کا تعلق کُل مخلوق سے ہے۔بعض دفعہ یہ ہندسے ستاروں کے حساب سے آپس میں موافقت نہیں رکھتے۔ جس کی وجہ سے اِنسان پریشان رہتا ہے ۔ بہت سے لوگ اس علم کے ماہرین سے ستاروں کے حساب سے زائچہ بنوا کر نام رکھتے ہیں۔جیسا کہ ابجد ( ا ، ب ، ج ، د ) (۱،۲،۳،۴ ) کے دس(۱۰) عدد بنتے ہیں۔ اسی طرح ہر نام کے علیحدہ اعداد ہوتے ہیں۔ جب اللہ کے مختلف نام رکھ دئیے گئے تو ابجد کے حساب سے ایک دوسرے سے ٹکراؤ کا سبب بن گئے۔ اگر سب ایک ہی نام سے رب کو پکارتے تو مذاہب جُدا جُدا ہونے کے باوجود، اندر سے ایک ہی ہوتے۔ پھر نانک صاحب اور با با فرید کی طرح یہی کہتے ۔

سب روحیں اللہ کے نور سے بنی ہیں ۔لیکن اِن کا ماحول اور ان کے محلے علیحدہ ہیں
جن فرشتوں کی دنیا میں ڈیوٹی لگائی جاتی ہے، انہیں دنیا والوں کی زبانیں بھی سکھائی جاتی ہیں ۔ امتیوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے نبی کا کلمہ ، جو نبی کے زمانہ میں امت کی پہچان ، فیض اور پاکیزگی کے لئے رب کی طرف سے عطا ہوا تھا، اُسی طرح اُسی زبان میں کلمے کا تکرار کیا کرے۔کسی کو کسی بھی مذہب میں آنے کے لئے یہ کلمے شرط ہیںجس طرح نکاح کے وقت زبانی اقرار شرط ہے۔جنتوں میں داخلے کے لئے بھی یہ کلمے شرط کر دیئے گئے۔ لیکن مغربی ممالک میں بیشتر مسلم اور عیسائی اپنے مذہب کے کلموں حتیٰ کہ اپنے نبی کے اصلی نام سے بے خبر ہیں۔زبانی کلمے والے اعما لِ صالح کے محتاج ، کلمہ نہ پڑھنے والے جنت سے باہر اور جن کے دلوں میں بھی کلمہ اُتر گیا تھا، وہی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ آسمانی کتابیں جو جس بھی زبان میں اصلی ہیں ۔ وہ رب تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں، لیکن جب اِن کی عبارتوں اور تر جموں میں ملاوٹ کر دی گئی، جس طرح ملاوٹ شدہ آٹا پیٹ کے لئے نقصان دہ ہے، اِسی طرح ملاوٹ شدہ کتابیں دین میں نقصان بن گئی ہیںاور ایک ہی دین ، نبی والے کتنے فرقوں میں بٹ گئے۔
صراطِ مستقیم کے لئے بہتر ہے کہ تم نور سے بھی ہدایت پا جاؤ۔

۔۔۔نور بنانے کا طریقہ۔۔۔

پرانے زمانے میںپتھروں کی رگڑ سے آگ حاصل کی جاتی تھی۔ جبکہ لوہے کی رگڑ سے بھی چنگاری اُٹھتی ہے۔ پانی پانی سے ٹکرایا تو بجلی بن گئی۔ اسی طرح انسان کے اندر خون کے ٹکراؤ یعنی دل کی ٹک ٹک سے بھی بجلی بنتی ہے۔ہر انسان کے جسم میں تقریباً ڈیڑھ والٹ بجلی موجود ہے، جس کے ذریعے اس میں پھرتی ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں ٹک ٹک کی رفتار سُست ہونے کی وجہ سے بجلی میں بھی اورچستی میں بھی کمی آجاتی ہے۔ سب سے پہلے دل کی دھڑکنوں کو نمایاں کرنا پڑتا ہے۔ کوئی ڈانس کے ذریعہ، کوئی کبڈی یا ورزش کے ذریعہ اور کوئی اللہ اللہ کی ضربوں کے ذریعہ یہ عمل کرتے ہیں۔

جب دل کی دھڑکنوں میں تیزی آجاتی ہے پھر ہر دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ یا ایک کے ساتھ اللہ اور دوسری کے ساتھ ھو ملائیں۔ کبھی کبھی دل پر ہاتھ رکھیں، دھڑکنیں محسوس ہوں تو اللہ ملائیں، کبھی کبھی نبض کی رفتار کے ساتھ اللہ ملائیں۔ تصور کریں کہ اللہ دل میں جارہا ہے۔ اللہ ھو کا ذکر بہتر اور زود اثر ہے، اگر کسی کو ھو پر اعتراض یا خوف ہو تو وہ بجائے محرومی کے دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ ہی ملاتے رہیں، ورد و وظائف اور ذکوریت والے لوگ جتنا بھی پاک صاف رہیں اُن کے لئے بہتر ہے۔

کہ بے ادب، بے مراد … با ادب ، با مراد ہوتے ہیں

پہلا طریقہ:
سفید کاغذ پر کالی پنسل سے اللہ لکھیں، جتنی دیر طبیعت ساتھ دے روزانہ مشق کریں۔
ایک دن لفظ ا للہ کاغذ سے آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گاپھر آنکھوں سے تصور کے ذریعہ دل پر اُتارنے کی کوشش کریں۔

دوسرا طریقہ:
زیرو کے سفید بلب پر پیلے رنگ سے اللہ لکھیں،اُسے سونے سے پہلے یا جاگتے وقت آنکھوں میں سمونے کی کوشش کریں ۔جب آنکھوں میں آ جائے تو پھر اُس لفظ کو دل پر اُتاریں۔

تیسرا طریقہ:
یہ طریقہ اُن لوگوں کے لئے ہے جِن کے راہبر کامل ہیں اور تعلق اور نِسبت کی وجہ سے روحانی اِمداد کرتے ہیں۔تنہائی میں بیٹھ کر شہادت کی انگلی کو قلم خیال کریں اور تصور سے دل پر اللہ لکھنے کی کوشش کریں، راہبر کو پکاریں کہ وہ بھی تمھاری انگلی کو پکڑ کر تمھارے دل پر اللہ لکھ رہا ہے۔ یہ مشق روزانہ کریں جب تک دل پر اللہ لکھا نظر نہ آئے۔

پہلے طریقوں میں اللہ ویسے ہی نقش ہوتا ہے، جیسا کہ باہر لکھا یا دیکھا جاتا ہے۔ پھرجب دھڑکنوں سے اللہ ملنا شروع ہوجاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ چمکنا شروع ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس طریقے میں کامل راہبر کا ساتھ ہوتا ہے، اس لئے شروع سے ہی خوشخط اور چمکتا ہوا دل پر اللہ لکھا نظر آتا ہے۔

دنیا میں کئی نبی ولی آئے، ذکر کے دوران بطور آزمائش باری باری، اگر مناسب سمجھیں تو سب کا تصور کریں جس کے تصور سے ذکر میں تیزی اور ترقی نظر آئے آپ کا نصیبہ اُسی کے پاس ہے۔ پھر تصور کیلئے اُسی کو چن لیں، کیونکہ ہر ولی کا قدم کسی نہ کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے، بے شک نبی ظاہری حیات میں نہ ہو۔ اور ہر مومن کا نصیبہ کسی نہ کسی ولی کے پاس ہوتا ہے۔ ولی کی ظاہری حیات شرط ہے۔ لیکن کبھی کبھی کسی کو مقدر سے کسی ممات والے کامل ذات سے بھی ملکوتی فیض ہوجاتا ہے، لیکن ایسا بہت ہی محدود ہے۔ البتہ ممات والے درباروں سے دنیاوی فیض پہنچاسکتے ہیں۔ اسے اویسی فیض کہتے ہیں اور یہ لوگ اکثر کشف اور خواب میں اُلجھ جاتے ہیں، کیونکہ مرشد بھی باطن میں اور ابلیس بھی باطن میں۔ دونوں کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔

فیض کے ساتھ علم بھی ضروری ہوتا ہے، جس کیلئے ظاہری مرشد زیادہ مناسب ہے، اگر فیض ہے، علم نہیں تو اُسے مجذوب کہتے ہیں۔ فیض بھی ہے، علم بھی ہے اُسے محبوب کہتے ہیں۔ محبوب علم کے ذریعے لوگوں کو دنیاوی فیض کے علاوہ روحانی فیض بھی پہنچاتے ہیں، جبکہ مجذوب ڈنڈوں اور گالیوں سے دنیاوی فیض پہنچاتے ہیں۔

اگر کوئی بھی آپ کے تصور میں آکر آپ کی مدد نہ کرے تو پھر گوہر شاہی ہی کو آزما کر دیکھیں۔ مذہب کی قید نہیں، البتہ ازلی بدبخت نہ ہو۔ بہت سے لوگوں کو چاند سے بھی ذکر عطا ہو جاتا ہے۔ اُس کا طریقہ یہ ہے، جب پورا چاند مشرق کی طرف ہو، غور سے دیکھیں، جب صورت ِ گوہر شاہی نظر آجائے۔ تو تین دفعہ اللہ اللہ اللہ کہیں، اجازت ہو گئی۔پھر بے خوف و بے خطر درج شدہ طریقے سے مشق شروع کردیں۔ یقین جانیے، چاند والی صورت بہت سے لوگوں سے ہر زبان میں بات چیت بھی کرچکی ہے۔آپ بھی دیکھ کر بات چیت کی کوشش کریں۔

بابِ پنجم
۔۔۔مراقبہ۔۔۔

بہت سے لوگ روحوں (لطائف، شکتیاں) کی بیداری اور روحانی طاقت سیکھے بغیر مراقبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا یا تو مراقبہ لگتا ہی نہیں یا شیطانی وارداتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ مراقبہ انتہائی لوگوں کا کام ہے، جن کے نفس پاک اور قلب صاف ہوچکے ہوں۔ عام لوگوں کا مراقبہ نادانی ہے۔ خواہ کسی بھی ظاہری عبادت سے کیوں نہ ہو۔ روحوں کی طاقت کو نور سے یکجا کر کے کسی مقام پر پہنچ جانے کا نام مراقبہ ہے۔

ولائت نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔

نبی کا ہر خواب، مراقبہ یا الہام وحی صحیح ہوتا ہے، اسے تصدیق کی ضرورت نہیں۔ لیکن ولی کے سو(۱۰۰) میں سے چالیس(۴۰) خواب مراقبے یا الہامات صحیح اور باقی غلط ہوتے ہیں۔ اور ان کی تصدیق کے لئے علم ِ باطن کی ضرورت ہے، کہ

بے علم نتواں خدارا شناخت

سب سے ادنیٰ مراقبہ قلب کی بیداری کے بعد لگتا ہے، جو کہ ذکر ِقلب کے بغیر ناممکن ہے۔ ایک جھٹکے سے آدمی ہوش و حواس میں آجاتا ہے، استخارے کا تعلق بھی قلب سے ہے۔اس سے آگے روح کے ذریعہ مراقبہ لگتا ہے، تین جھٹکوں سے واپسی ہوتی ہے، تیسرا مراقبہ لطیفہ ِ انا اور روح سے اکھٹا لگتا ہے۔ روح بھی جبروت تک ساتھ جاتی ہے، جیسا کہ جبرائیل حضور پاک کے ساتھ جبروت تک گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو قبروں میں بھی دفنا آتے ہیں مگر اُنہیں خبر نہیں ہوتی، ایسا مراقبہ اصحاب ِ کہف کو لگا تھا جو تین سو(۳۰۰) سال سے زائد عرصہ غار میں سوتے رہے۔ ایسا مراقبہ جب غوث پاکؓ کو جنگل میں لگتا تو وہاں کے مکین ڈاکو آپ کو مردہ سمجھ کر قبر میں دفنانے کے لئے لے جاتے تھے۔ لیکن دفنانے سے پہلے ہی وہ مراقبہ ٹوٹ جاتا۔

اللہ کی طرف سے خاص الہام اور وحی کی پہچان

جب انسان سینے کی مخلوقوں کو بیدار اور منور کر کے تجلیات کے قابل ہو جاتا ہے تو اُس وقت اللہ اُس سے ہمکلام ہوتا ہے، یوں تو وہ قادر ِ مطلق ہے، کسی بھی ذریعہ انسان سے مخاطب ہو سکتا ہے لیکن اُس نے اپنی پہچان کے لئے ایک خاص طریقہ بنایا ہوا ہے تاکہ اُس کے دوست شیطان کے دھوکے سے بچ سکیں۔ سب سے پہلے سریانی زبان میں عبارت سالک کے دل پر آتی ہے، اور اُس کا ترجمہ بھی اُسی زبان میں نظر آتا ہے، جس کا وہ حامل ہے، وہ تحریر سفید اور چمکدار ہوتی ہے، اور آنکھیں خود بخود بند ہو کر اُسے دیکھتی ہیں پھر وہ تحریر قلب سے ہوتی ہوئی لطیفہء سری کی طرف آتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ چمکنا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر وہ تحریر لطیفہء اخفیٰ کی طرف آتی ہے، اخفیٰ سے اور چمک حاصل کر کے زبان پر چلی جاتی ہے، اور زبان بے ساختہ وہ تحریر پڑھنا شروع کردیتی ہے۔ اگر یہ الہام شیطان کی طرف سے ہو تو منور دل اُس تحریر کو مدھم کر دیتا ہے، اگر تحریر زورآور ہے تو لطیفہء سری یا اخفیٰ اُس تحریر کو ختم کردیتے ہیں، بالفرض اگر لطیفوں کی کمزوری کی وجہ سے وہ تحریر زبان پر پہنچ بھی جائے تو زبان اُسے بولنے سے روک لیتی ہے۔یہ الہام خاص ولیوں کے لئے ہوتا ہے ،جبکہ عام ولیوں کو اللہ تعالیٰ فرشتوں یا ارواح کے ذریعے پیغام پہنچاتاہے۔ اور جب خاص الہام کی تحریر کے ساتھ جبرائیل بھی آجائیں تو اُسے وحی کہتے ہیں، جو صرف نبیوں کے لئے مخصوص ہے۔

بابِ ششم
﴿بہشت کن لوگوں کے لئے ہے

کچھ ازلی جہنمی بھی اعمال و عبادات کے ذریعہ بہشتی بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آخر میں شیطان کی طرح مردود ہو جاتے ہیں، کیونکہ بخل، تکبر، حسد اِن کی وراثت ہے۔

الحدیث: جس میں ذرہ بھر بھی بخل اور حسد تکبر ہے، وہ جنت میں نہیں جاسکتا۔

بہشتی لوگ اگر عبادات میں نہ بھی ہوں تو پہچانے جاتے ہیں، یہ لوگ دِل کے نرم اور صاف، اور حرص و حسد سے پاک اور سخی ہوتے ہیں، اگر عبادات میں لگ جائیں تو بہت اونچا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان ہی کی بخشش کے بہانے بناتا ہے۔ اور کچھ لوگ درمیان والے ہوتے ہیں۔ ان کا نیکی بدی کا پروانہ چلتا ہے۔ اور کچھ اللہ کے خواص ہوتے ہیں۔ ان ہی روحوں نے ازل میں اللہ سے محبت کری تھی۔ انہیں جنت دوزخ سے مقصد نہیں، بلکہ اللہ کے عشق میں تن من دھن لٹا دیتے ہیں۔ اللہ کے ذکر اور رحمت سے اپنی روحوں کو چمکا لیتے ہیں، دیدارِ الہیٰ بھی حاصل کرلیتے ہیں، جنت الفردوس صرف اِن ہی روحوں کے لئے مخصوص ہے۔

اور اِن ہی کےلئے حدیث ہے کہ
کچھ لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔
تشریح:

پہلی ارواح:
جن کو دنیا کا نظارہ دکھایا (دنیا ان کے) مقدر میں لکھ دی۔ انہوں نے نیچے دنیا میں آکر دنیا حاصل کرنے کے لئے جان کی بازی لگا دی ۔ چوری ، ڈاکہ، رشوت، سود جیسے جرائم کو بھی نظر انداز کر دیا حتیٰ کہ وحدانیت کا بھی انکار کر دیا ان میں سے کچھ روحیں تھیں جنہوں نے جنت حاصل کرنے کے لئے مذہب یا عبادت بھی اختیار کی لیکن عزازیل کی طرح بے سود ثابت ہوئیں کیونکہ کوئی گستاخ، یا اللہ کا ناپسند مذہب یا فرقہ ان کے راستے میں رکاوٹ بن گیا۔

دوسری ارواح:
جنہوں نے بہشت طلب کری تھی، انہوں نے دنیاوی کاموں کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت کو اولین ترجیح دی۔ حور و قصور کی لالچ میں عبادت گاہوں کی طرف دوڑ لگائی اور جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ، لیکن ان میں سے کچھ لوگ عبادت میں سُست رہے ، چونکہ جنت ان کی قسمت میں تھی اس لئے کوئی بہانہ ان کے کام آگیا لیکن وہ جنت کا وہ مقام حاصل نہ کرسکے جو نیکو کاروں نے حاصل کیا۔ انہی کے لئے اللہ نے فرمایا ” کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ہم ان کو نیکو کاروں کے برابر کردیں گے“۔ کیونکہ جنت کے سات درجے ہیں۔

عام لوگوں کو ہدایت نبیوں، کتابوں، گوروؤں، ولیوں کے ذریعہ ہوتی ہے، انہیں اس مذہب میں داخلہ اور کلمہ ضروری ہے۔ اور خواص بغیر مذہب اور بغیر کتب کے بھی اللہ کی نظرِ رحمت میں آجاتے ہیں۔ یعنی ان کو ہدایت نور سے ہوتی ہے۔
اللہ جنہیں چاہتا ہے، نور سے ھدایت دیتا ہے۔ (القرآن)
کہتے ہیں کہ بہشت میں داخلے کےلئے کلمہ ضروری ہے۔ بہشت میں ان جسموں کو نہیں روحوں کو جانا ہے، اور داخلے کے وقت پڑھنا ہے، تو پھر یہ روحیں مقامِ دید میں جاکر کسی بھی وقت کلمہ پڑھ لیں گی، مرنے کے بعد ہی سہی، جیسے حضور پاکﷺ کی والدہ اور والد اور چچا کی روحوں کو مرنے کے بعد ہی کلمہ پڑھایا گیا تھا،بلکہ خواص الخاص روحیں اوپر سے ہی کلمہ پڑھ کر یعنی اقرار تصدیق کرکے ہی آتی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ میں دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔ یہ الفاظ روح کے ہی روحوں کے لئے ہو سکتے ہیں، جسم تو اس دنیا میں ملا۔ قومیں ہوں تب سردار ہوتے ہیں، امتی ہوں تب نبی ہوتے ہیں، ورنہ ان کا کیا کام؟

پھر ان ہی لوگوں کو مختلف مذاہب میں بھیجا جاتا ہے، کوئی بابا فرید کے روپ میں، اور کوئی گورو نانک کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں اللہ کو پانے والی روحیں مذہب نہیں دیکھتیں، بلکہ جس کی اللہ سے رسائی دیکھتی ہیں، اس کے ساتھ لگ جاتی ہیں۔ غوث علی شاہ جو ایک ولی ہو گزرے ہیں، تذکرہِ غوثیہ میں لکھا ہے کہ میں نے ہندو جوگیوں سے بھی فیض حاصل کیا ہے، یہ رمز نہ سمجھ کرمسلم علماء نے غوث علی شاہ پر واجب القتل کے فتوے لگائے۔ اور مسلمانوں کو کہا کہ جس کے بھی گھر میں یہ کتاب ہو اُسے جلا دیا جائے، لیکن وہ کتاب بچ بچا کر ابھی بھی ہندوستان، پاکستان میں موجود اور مقبول ہے۔

کچھ قوموں نے نبیوں کو تسلیم کیا اور کچھ نے نبیوں کو جھٹلایا، جھٹلانے والی قوموں میں بھی رب نے ان ہی کے مذہب کے مطابق ان لوگوں کو بھیجا۔ اور انہوں نے اُن کو گناہوں سے بچانے کی تعلیم دی۔ اور اُن ہی کی عبادت اور رسموں و رواج کے ذریعہ اُن کا رخ رب کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ امن اور رب کی محبت کا سبق دیا۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آج ہر مذہب ایک دوسرے کے لئے خون خوار ہی بن جاتا، ایسی روحوں کو دنیا میں خضر( وشنو مہاراج) سے بھی راہنمائی ملتی ہے۔ جو ہر مذہب کا بھید جانتے ہیں۔

تیسری ارواح:
جنہوں نے نہ دنیا طلب کری اور نہ ہی جنت کی طلبگار ہوئیں۔ صرف رب کے نظارے کو دیکھتی رہیں۔ انہوں نے دنیا میں آکر رب کی تلاش کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ کئی بادشاہتوں کو بھی چھوڑ کر اُس کو پانے کےلئے بھوکے پیاسے جنگلوں میں رہتے، حتیٰ کہ کسی نے دریاؤں میں بھی کتنے سال بیٹھ کر گزارے، کامیابی کے بعد یہی ولی اللہ کہلائے۔ اور اللہ کی طرف سے مختلف عہدوں اور مختلف ڈیوٹیوں پر فائز ہوئے۔ اور دوزخیوں کے لئے بھی دوا اور دُعا بن گئے۔ کہ

نگاہ ِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں، ( اقبال)

اس لئے ارضی ارواح کے ہر جنم میں مرشد (گورو) کا چشم ِ دید ہونا لازمی ہے۔
پچھلے جنم یا خاندان کے زمانے کے مرشد موجودہ جسم سے مُّبرا ہوجاتے ہیں۔

جیسا کہ نبوت بھی اولوالعزم مرسل کے آنے کے بعد مُّبرا ہوجاتی ہے، جیسا کہ موسیٰ کلیم اللہ ؑ اولوالعزم تھے، موسیٰؑ کلیم اللہ کے بعد جتنے بھی نبی آئے، عیسیٰؑ روح اللہ کے آنے کے بعد اُن کا دین بھی کالعدم قرار دیا گیا۔ اور عیسیٰؑ روح اللہ سے حضور پاکﷺ تک جتنے بھی نبی آئے، وہ حضور پاکﷺ کے آنے پر سب کالعدم قرار دیئے گئے۔ لیکن اولوالعزم مرسل کے دین کا سلسلہ جاری رہا اور آج تک جاری ہے، جس میں آدم ؑصفی اللہ، ابراہیم ؑ خلیل اللہ ، موسیٰ ؑ کلیم اللہ ، عیسیٰ ؑ روح اللہ اور محمد الرسول اللہﷺ ہیں اور ہر ولی ان کے نقشِ قدم پر ہے۔ کیونکہ انسان کے اندر سینے کے پانچوں لطائف کا تعلق پانچوں رسولوں سے ہے اس وجہ سے اُن کی نبوت اور فیضِ روحانی قیامت تک رہے گا۔ یہ جو کہتے ہیں کہ بغیر کلمہ پڑھے کوئی جنت میں نہیں جائے گا، اس کا مقصد کسی ایک نبی کا کلمہ نہیں ہے۔ بلکہ کسی بھی اولوالعزم نبی کے دین اور کلمہ کی طرف اشارہ ہے۔ تبھی حضور پاکﷺ نے فرمایا بھی تھا کہ میں ان ( اولوالعزم مرسل) کی کتابوں یا دین کو جھٹلانے کے لئے نہیں آیا، بلکہ اصلاح کے لئے آیا ہوں۔ یعنی کتابوں میں جو ردوبدل ہوگیا تھا۔

آدم ؑ صفی اللہ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جو لوگ صرف قلبی ذکر میں ہیں ، رب کے نام پر گریہ زاری اور عاجزی رکھتے ہیں، توبہ (کرتے) اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی ابتدائی دین، ابتدائی نبوت اور ابتدائی عبادت تھی ۔ غوث یا ہر ولی کا قدم کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے اور ان کا قدم آدم ؑ صفی اللہ کے قدم پر ہے۔ مجدد الف ثانی نے کہا تھا کہ میرا قدم موسویؑ ہے۔ جبکہ قلندروں کا ایک سلسلہ عیسویؑ ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانی محمدی مشرب سے تعلق رکھتے ہیں۔

بابِ ہفتم
﴿تقویٰ کن لوگوں کے لئے ہے

علم الیقین
یہ لوگ دنیا دار ہوتے ہیں ،مقام شنید ہوتا ہے ،علم کے ذریعہ یقین رکھتے ہیں ان کا ایمان سُنی سنائی باتوں پر ہوتا ہے، بھٹک بھی جاتے ہیں ۔انہیں تقوے سے نہیں بلکہ محنت سے ملتا ہے۔خوا ہ رزق حلال سے کمائیں یا حرام سے۔

عین الیقین
یہ لوگ تارک الدنیا کہلاتے ہوئے بھی دنیا والوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔لیکن ان کا رُخ اور دل رب کی طرف ہوتا ہے۔ ان کو اکثر رحمانی مناظر بھی دکھائے جاتے رہتے ہیں ۔ان کا مقام دید ہوتا ہے انہیں بھی جائز محنت سے ملتا ہے۔ناجائز سے انہیں نقصان ہوتا ہے۔

حق الیقین
ان کا مقام رسید ہوتا ہے ،یعنی اللہ کی طرف سے کوئی مرتبہ مل جاتا ہے ، اور اللہ کی نظرِ رحمت میں آجاتے ہیں،انہیں فارغ الدنیا کہتے ہیں۔ دنیا میں رہ کر بھی جائز و نا جائز دھندے سے دور رہتے ہیں۔ یہ اگر جنگلوں میں بھی بیٹھ جائیں تو اللہ ان کو وہاں بھی رزق پہنچاتا ہے، یہ تقوے کی منزل ہے۔ ابتدائی لوگ تقوے کی بات ضرور کرتے ہیں مگر اس میں کامیاب نہیں ہوتے۔

….تقدیر….
تقدیر دو طرح کی ہوتی ہے،
۱۔ ازل …. اور …. ۲۔معلق

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب مقدر میں رزق لکھ دیا تو اس کے لئے گھومنا پھرنا کیا؟
مخدوم جہانیاں نے کہا کہ رزق کو حاصل کرنے کے لئے گھومنا پھرنا بھی مقدر میں لکھ دیا۔

مثال کے طور پر جیسا کہ آپ کے لئے پھولوں کا گلدستہ چھت پر رکھ دیا گیا ہے( یہ تقدیرِ ازل ہے)۔ اسے حاصل کرنے کےلئے آپ کو سیڑھیوں کے ذریعہ چھت پہنچنا ہے( یہ تقدیرِ معلق ہے) جو آپ کے اختیار میں ہے، اور اسی معلق کا حساب کتاب ہوگا نہ کہ تقدیر ازل کا۔ آپ چھت پر پہنچیں گے اور اپنا نصیب حاصل کرلینگے۔ اگر آپ نے سستی کی، اور چھت تک نہ پہنچے تو اس سے محروم ہو جائیں گے۔ دوسرا شخص جس کے مقدر میں چھت پر گلدستہ نہیں ہے وہ اگر سیڑھیوں کے ذریعہ یا سخت محنت سے بھی چھت پر پہنچ جائے تو وہ محروم ہی ہے۔

باب ہشتم
﴿سوچ تو ذرا۔ تُو کس آدم کی اولاد میں سے ہے

کچھ الہامی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس دنیا میں چودہ ہزار آدمؑ آچکے ہیں۔ اور کسی نے کہا ہے کہ آدم صفی اللہ چودھویں اور آخری آدم ہیں۔اس دنیا میں واقعی بہت سے آدم ہوئے ہیں۔ جب صفی اللہ کو مٹی سے بنایا جارہا تھا تو فرشتوں نے کہا تھا کہ یہ بھی دنیا میں جاکر دنگا فساد کرے گا۔ یعنی فرشتے پہلے والے آدموں کے حالات سے باخبر تھے، ورنہ انہیں کیا خبر کہ اللہ کیا بنارہا ہے اور یہ جاکر کیا کرے گا۔ لوح محفوظ میں مختلف زبانیں، مختلف کلمے، مختلف جنتر منتر، مختلف اللہ کے نام، مختلف سورتیں حتیٰ کہ جادو کا عمل بھی درج ہے۔ جو کہ ہاروت، ماروت دو فرشتوں نے لوگوں کو سکھایا تھا۔ اور بطور سزا وہ دونوں فرشتے مصر کے ایک شہر بابل کے کنویں میں الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔

ہر آدم کو کوئی زبان سکھائی ،پھر ان کی قوم میں نبیوں کو ہدایت کے لئے بھیجا ، تبھی کہتے ہیں کہ دنیا میں سوالاکھ نبی آئے ،جبکہ آدم صفی اللہ کو آئے ہوئے چھ ہزار سال ہوئے ہیں ۔اگر ہر سال ایک نبی آتا تو چھ ہزار ہی ہوتے ، کچھ عرصہ بعد ان اقوام کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے تباہ کیا، جیسا کہ آثارِ قدیمہ کے شہروں کا بعد میں نمودار ہونا، اور وہاں کی لکھی ہوئی زبانوں کو کسی کا بھی نہ سمجھنا۔ اور کسی قوم کو پانی کے ذریعہ غرق کیا۔ اور ان میں سے نوح طوفان کی طرح کچھ افراد اُن خطوں میںبچ بھی گئے۔

آخر میں صفی اللہ کو اُن سب سے بہتر بنا کر عرب میں بھیجا گیا۔ اور بڑے بڑے نبی بھی اس آدم کی اولاد سے پیدا ہوئے۔ مختلف آدموں کی مختلف زبانیں اُن کی بچی ہوئی قوموں میں رہیں، جب آخری آدم آئے تو اُن کو سریانی زبان سکھائی گئی۔ جب آپ کی اولاد نے دور دراز کی سیاحت کی تو پہلے والی قوموں سے بھی ملاقات ہوئی، اور کسی نے اچھی جگہ یا سبزہ دیکھ کر اُن کے ساتھ ہی بود و باش اختیار کرلی۔
عرب میں سریانی ہی بولی جاتی تھی پھر یہ اقوام کے میل جول سے عربی، فارسی، لاطینی، سنسکرت وغیرہ سے ہوتی ہوئی انگریزی سے جاملی، مختلف جزیروں میں مختلف آدموں کی اولاد مقیم تھی۔ ان میں سے ایک خانہ بدوش بھی آدم تھا، جس کی اولاد آج بھی موجود ہے اور جس کے ذریعہ مختلف قومیں دریافت ہوئیں۔

سمندر پار کے جزیروں والی قومیں ایک دوسرے سے بے خبر تھیں، اتنے دور دراز سمندری سفر نہ تو گھوڑوں سے کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی چپو والی کشتیاں پہنچا سکتیں تھیں۔ کولمبس مشینی سمندری جہاز بنانے میں کامیاب ہوا۔جس کے ذریعہ وہ پہلا شخص تھا جو امریکا کے خطے کو پہنچا۔ کنارے پر لوگوں کو دیکھا جو سرخ تھے، اس نے سمجھا اور کہا شاید انڈیا (INDIA)آگیا ہے۔ اور وہ انڈین (indian )ہیں۔ تبھی اس قوم کو (Red Indian)ریڈ انڈین کہتے ہیں جو نارتھ ڈکوٹا (North Dakota) کی ریاست میں اب بھی موجود ہیں۔ ریڈ انڈین کے ایک قبیلے کے سردار سے پوچھا کہ آپ کا آدم کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہمارے مذہب کے مطابق ہمارا آدم ایشیا میں ہے، جس کی بیوی کا نام حوا ہے۔ لیکن ہماری تاریخ کے مطابق ہمارا آدم ساؤتھ ڈکوٹا (South Dakota )کی ایک پہاڑی سے آیا تھا، اُس پہاڑی کی نشان دہی اب بھی موجود ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ انگریز اور امریکن ٹھنڈے موسم کی وجہ سے گورے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ کسی کالے آدم کی نسل بھی ان خطوں میں قدیمی موجود ہے۔ وہ آج تک گورے نہ ہو سکے یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے رنگ، حلیے، مزاج، دماغ، زبانیں، خوراک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

آدم صفی اللہ کی اولاد کا سلسلہ وسط ایشیا تک ہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وسط ایشیا والوں کے حلیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آدم صفی اللہ (شنکر جی )سری لنکا میں اترے، پھر وہاں سے عرب پہنچے۔ اور اس کے بعد آپ عرب میں ہی رہے، اور سرزمینِ عرب میں ہی آپ کی قبر موجود ہے، تو پھر سری لنکا میں آپ کے اترنے اور قدموں کی نشان دہی کس نے کی؟ جو ابھی تک محفوظ ہے۔ اس کا مقصد آپ سے پہلے ہی وہاں کوئی قبیلہ آباد تھا۔
جو قومیں ختم کر دی گئی ہیں ان پر نبوت اور ولائت بھی ختم ہو گئی ۔ اور باقی ماندہ لوگ ان ہستیوں سے محروم ہو کر کچھ عرصہ بعد بھٹک گئے۔جو ں جوں یہ خطے دریافت ہوتے گئے ، ایشیا سے ولی پہنچتے گئے ،اور اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم دیتے رہے اور آج سب خطوں میں ایشیائی دین پھیل گیا۔ عیسیٰ ؑ یروشلم ،موسیٰ ؑ بیت المقدس ، حضور پاک مکہ ، جبکہ نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کا تعلق بھی عرب سے ہی تھا

کچھ نسلیں عذابوں سے تباہ ہوئیں ، کچھ کی شکلیں ریچھ، بندروں کی طرح ہوئیں ۔ کچھ رہے سہے لوگ خوف ذدہ ہو کر رب کی طرف مائل ہوئے۔ اور کچھ رب کو قہارسمجھ کر اس سے متنفر ہو گئے۔ اور اس کے کسی بھی قسم کے حکم کی نافرمانی کی اور کہنے لگے کہ’ رب وغیرہ کچھ بھی نہیں، انسان ایک کیڑہ ہے، دوزخ بہشت بنی بنائی باتیں ہیں‘۔ موسیٰؑ کے زمانے میں بھی جو قوم بندر بن گئی تھی انہوں نے یورپ کا رخ کیا تھا، اس وقت کی حاملہ ماؤں نے بعد میں بندریا ہونے کی صورت میں بھی جنم انسانی دیا تھا، وہ قوم اب بھی موجود ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم بندر کی اولاد میں سے ہیں۔

جو قوم ریچھ کی شکل میں تبدیل ہوئی تھی، انہوں نے افریقہ کے جنگلوں کی طرف رخ کر لیا تھا ۔ اس وقت کی حاملہ ماؤں کے پیٹ میں تو انسانی بچے تھے، جن کے ذریعہ بعد میں نسل چلی (مم ) کہتے ہیں۔ جسم پر لمبے لمبے بال ہوتے ہیں۔ مادہ زیادہ ہوتی ہیں۔ انسانوں کو اٹھا کر لے بھی جاتی ہیں۔ ان پر مذہب کا رنگ نہیں چڑھتا، لیکن آدمیت کی وجہ سے شرم گاہوں کو پتوں کے ذریعہ چھپایا ہوا ہوتا ہے۔

کسی اور آدم کو کسی غلطی کی وجہ سے ایک ہزار سال سزا ملی تھی۔ اسے سانپ کی شکل میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اب اس کی بچی ہوئی قوم جو ایک خاص قسم کے سانپ کے روپ میں ہے۔ جنم کے ہزار سال بعد انسان بھی بن جاتی ہے اسے روحا کہتے ہیں۔ تاریخ میں ہے، کہ ایک دن سکندر اعظم شکار کے لئے کسی جنگل سے گزرا، دیکھا کہ ایک خوب صورت عورت رو رہی ہے۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں چین کی شہزادی ہوں۔ اپنے شوہر کے ہمراہ شکار کو نکلے تھے، لیکن شوہر کو شیر کھا گیا۔ میں اب تنہا رہ گئی ہوں۔ سکندر نے کہا میرے ساتھ آؤ میں تمہیں واپس چین بھیجوادوں گا۔ عورت نے کہا شوہر تو مر گیا، میں اب واپس جاکر کیا منہ دکھاؤں گی، سکندر اسے گھر لے آیا، اور اس سے شادی کر لی۔

کچھ مہینوں بعد سکندر کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا۔ ہر قسم کا علاج کرایا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ درد بڑھتا گیا، حکیم عاجز آگئے ایک سپیرا بھی سکندر کے علاج کے لئے آیا، اس نے سکندر کو علیحدہ بلوا کر کہا۔ میں آپ کا علاج کر سکتا ہوں لیکن میری کچھ شرطیں ہیں؟ اگر چند ہی دنوں میں میرے علاج سے شفا نہ ہوئی تو بے شک مجھے قتل کرادینا۔آج کی رات کھچڑی پکواؤ، نمک ذرا زیادہ ہو، دونوں میاں بیوی پیٹ بھر کر کھاؤ، کمرے کو اندر سے تالا لگاؤ، کہ دونوں میں سے کوئی باہر نہ جا سکے، تم تو سونا نہیں: لیکن بیوی کو ایسا لگے کہ تم سورہے ہو، پانی کا قطرہ بھی اندر موجود نہ ہو۔ سکندر نے ایسا ہی کیا۔ رات کے کسی وقت بیوی کو پیاس لگی، دیکھا پانی کا برتن خالی ہے، پھر دروازہ کھولنے کی کوشش کی : دیکھا، کہ تالا ہے۔ پھر شوہر کو دیکھا: محسوس ہوا کہ بے خبر سورہا ہے، پھر سپنی بن کے نالی کے سوراخ سے باہر نکل گئی۔ پانی پی کر پھر سپنی کی صورت میں داخل ہو کر عورت بن گئی۔سکندر اعظم یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ صبح سپیرے کو سب کچھ بتایا اس نے کہا تیری بیوی ناگن ہے جو ہزار سال بعد روپ بدلتا ہے۔ اس کا زہر پیٹ کے درد کا باعث بنا۔ پھر اس عورت کو سیر کے بہانے سمندر میں لے گئے۔ اور جس جگہ پھینکا وہ نشان اب بھی موجود ہے۔ اسے حد سکندری کہتے ہیں۔ ان کی نسل بھی اس دنیا میں موجود ہے۔ عام سانپوں کے کان نہیں ہوتے، لیکن اس نسل والے سانپ کے کان ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں کس آدم کا قبیلہ چین کے پہاڑوں میں بند ہے اُن کے اس خطے میں داخلہ کو روکنے کے لئے ذوالقرنین نے پتھروں کی دیوار بنا دی تھی۔ ان کے لمبے لمبے کان ہیں،ایک کو بچھا لیتے ہیں اور دوسرے کو اوڑھ لیتے ہیں،انہیں جوج ماجوج کہتے ہیں۔ سائنس نے کافی خطے تلاش کر لئے ہیں،لیکن ابھی بھی کافی خطے دریافت کرنے باقی ہیں۔

ھمالیہ کے پیچھے بھی برفانی انسان موجودہیں۔ بہت سے انسان جنگلوں میں بھی موجود ہیں،ان کی زبان اُن کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ وہ بھی اپنے آدم کے طریقہ پر عبادت کرتے ہیں ۔اور ضابطہِ حیات کے لئے ان کا بھی سرداری نظام قائم ہے۔ ان براعظموں کے علاوہ اور بھی بڑی زمینیں ہیں۔ جیسا کہ چاند ، سورج ، مشتری ، مریخ وغیرہ وہاں بھی آدم آئے ہیں۔ لیکن وہاں قیامتیں آچکی ہیں۔ کہیں آکسیجن کو روک کر اور کہیں زمین کو تہس نہس کردیا گیا۔
مریخ میں انسانی زندگی ابھی بھی موجود ہے، جبکہ سورج میں بھی آتشی مخلوق آباد ہے۔

کہتے ہیں ایک خلا باز جب چاند میں اترا، اُس نے اوپر کے سیاروں کی تحقیق کرنا چاہی، تو اُسے آذان کی آواز بھی سنائی دی، جس سے وہ متاثر ہوکر مسلمان ہوگیا تھا، وہ مریخ کی دنیا تھی جہاں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے سائنس دان ابھی مریخ پر پہنچ نہیں پائے، جبکہ وہ لوگ کئی بار اس دنیا میں آچکے ہیں اور بطور تجربہ یہاں کے انسانوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اُن کی سائنس اور ایجادیں ہم سے بہت آگے ہیں، ہمارے سیارے یا سائنس دان اگر وہاں پہنچ بھی گئے تو اُن کی گرفت سے آزاد نہیں ہوسکتے۔

ایک آدم کو اللہ نے بہت علم دیا تھا، اور اس کی اولاد علم کے ذریعے بیت المامور تک جا پہنچی تھی، یعنی جو حکم اللہ فرشتوں کو دیتا، نیچے وہ سُن لیتے تھے۔ ایک دن فرشتوں نے کہا، اے اللہ یہ قوم ہمارے معاملے میں مداخلت بن گئی ہے۔ ہم جب کوئی کام کرنے دنیا میں جاتے ہیں، تو یہ پہلے ہی اس کا توڑ کر چکے ہوتے ہیں۔ اللہ نے جبرائیل سے کہا، جاؤ اُن کا امتحان لو۔ ایک بارہ سال کا بچہ بکریاں چرارہا تھا، جبرائیل نے اُس سے پوچھا، کیا تم بھی کوئی علم رکھتے ہو؟ اُس نے کہا ، پوچھو؟ جبرائیل نے کہا ، بتاؤ اس وقت جبرائیل کدھر ہے؟ اُس نے آنکھیں بند کیں، اور کہا آسمانوں پر نہیں ہے۔ پھر کدھر ہے؟ اُس نے کہا زمینوں پر بھی نہیں ہے۔ جبرائیل نے کہا پھر کدھر ہے؟ اس نے آنکھیں کھول دیں، اور کہا میں نے چودہ طبقوں میں دیکھا وہ کہیں بھی نہیں ہے، یا میں جبرائیل ہوں یا تو جبرائیل ہے۔

پھر اللہ نے فرشتوں کو کہا، اس قوم کو سیلاب کے ذریعہ غرق کیا جائے۔ انہوں نے یہ فرمان سُن لیا۔ لوہے اور شیشے کے مکانات بنانا شروع کردیئے، پھر زلزلے کے ذریعہ اُس قوم کو غرق کیا گیا، اُس وقت اُس خطے کو’ کالدہ‘ اور اب یونان بولتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں،
انہوں نے روحانی علم کے ذریعہ اور اب ہمارے سائنس دان، سائنسی علم کے ذریعہ رب کے کاموں میں مداخلت کررہے ہیں، انہیں ڈرانے کےلئے چھوٹی موٹی تباہی اور مکمل تباہی کے لئے ایک سیارے کو زمین کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔ جس کا گرنا بیس(۲۰) پچیس(۲۵) سال تک متوقع ہے اور وہ دنیا کا آخری دن ہوگا۔ اُس کا ایک ٹکڑا گزشتہ دو برسوں میں مشتری پر گر چکا ہے۔ سائنس دانوں کو بھی اُس کا علم ہوچکا ہے۔ اور یہ اُس کے گرنے سے پہلے چاند پر یا کسی اور سیارے پر رہائش پزیر ہونا چاہتے ہیں۔ جبکہ چاند پر پلاٹوں کی بکنگ بھی ہوچکی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ چاند میں انسانی زندگی کے آثار یعنی ہوا، پانی اور سبزہ نہیں ہے، پھر تگ و دو کا مقصد کیا ہے؟ رہا سوال تحقیق کا؟ چاند مشتری پر پہنچ کر بھی انسانیت کا کیا فائدہ ہوا؟ کیا کوئی ایسی دوائی یا نسخہ درازیِ عمر یا موت کی شفا کا ملا؟

اگر مریخ کی مخلوقات تک پہنچ بھی گئے تو وہاں کی آکسیجن اور یہاں کی آکسیجن کی وجہ سے ایک دوسری جگہ رہنا محال ہے، بس بیکار دولت ضائع کی جارہی ہے، اگر وہی دولت روس اور امریکا، غریبوں پر خرچ کردے تو سب خوشحال ہوجائیں۔ آدمیت کے فرق کی وجہ سے ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم بھی بنائے جارہے ہیں جب کہ بموں کے بغیر بھی دنیا کو تباہ ہی ہونا ہے۔

آسمان پر روحیں حد سے زیادہ بن گئی تھیں!
مقرب روحیں اگلی صفوں میں تھیں۔ عام روحوں کو اس دنیا میں بنائے ہوئے آدموں کی قوموں میں بھیجا۔ جو کوئی کالی ،کوئی سفید، کوئی پیلی اور کوئی لال مٹی سے بنائے گئے تھے انہیں جبرائیل اور ہاروت ماروت کے ذریعہ علم سکھایا گیا۔

جب زمین پر مٹی سے آدم بنائے جاتے، تو خبیث جن بھی موقع پاکر اُن کے اور اُن کی اولاد کے جسموں میں داخل ہوجاتے۔اور انہیں اپنی شیطانی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ پھر اُن کی قوم کے نبی، ولی اور اُن کی سکھائی ہوئی تعلیمات چھٹکارے کا ذریعہ بنتی ۔ بے شمار آدم جوڑوں کی شکل میں بنائے گئے جن سے اولاد کا سلسلہ جاری ہوا لیکن کئی بار صرف اکیلی عورت کو بنایا گیا۔ اور امرِ کُن سے اس کی اولاد ہوئی۔

وہ قومیں بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ اس قبیلے میں صرف عورتیں ہی سردار ہوتی ہیں اور وہ موئنث کی اولاد ہونے کی وجہ سے رب کو بھی موئنث سمجھتے ہیں۔ اور خود کو فرشتوں کی اولاد تصور کرتے ہیں، چونکہ اُن کے موئنث آدم کی (شادی ) یا مرد کے بغیر ہی بچے ہوئے تھے۔ یہی رسم اُن میں اب بھی چلی آرہی ہے ان قبیلوں میں پہلے عورت کے کسی سے بھی بچے ہو جاتے ہیں اور بعد میں کسی سے بھی شادی ہو جاتی ہے، اور وہ اس کو معیوب نہیں سمجھتے۔

روحوں کے اقرار ، قسمت، اور مراتب کی وجہ سے اُن ہی جیسے آدم بنا کر اُن ہی جیسی روحوں کو نیچے بھیجا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے کوئی خاص دین ترتیب نہیں دیا گیا۔ اگر ان میں نبی آئے بھی تو بہت کم نے ان کو تسلیم کیا ، بلکہ نبیوں کی تعلیم کا اُلٹ کیا، بجائے اللہ کے چاند ستاروں سورج درختوں، آگ، حتیٰ کہ سانپوں کو بھی پوجنا شروع کردیا۔

آخر میں آدم صفی اللہ کو جنت کی مٹی سے جنت میں ہی بنایا گیا، تاکہ عظمت اور فضیلت میں سب سے بڑھ جائے اور خبیثوں سے بھی محفوظ رہے ، کیونکہ جنت میں خبیثوں کی رسائی نہ تھی۔ عزازیل اپنے علم کی وجہ سے پہچان گیا تھا، جو عبادت کی وجہ سے سب فرشتوں کا سردار بن گیا تھا اور قوم ِجنات سے تھا۔ آدم کے جسم پر حسد سے تھوکا تھا، اور تھوک کے ذریعہ خبیثوں جیسا جراثیم اُن کے جسم میں داخل ہوا، جسے نفس کہتے ہیں، اور وہ بھی آدم کی اولاد کے ورثے میں آگیا۔ اُسی کے لئے حضورﷺ نے فرمایا ’ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ایک شیطان جن بھی اس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

فرشتوں اور ملائکہ میں فرق ہے ۔ ملکوت میں فرشتے ہوتے ہیں جن کی تخلیق روحوں کے ساتھ ہوئی۔
ملکوت سے اوپر جبروت کی مخلوق کو ملائکہ کہتے ہیں۔

جو روحوں کے امرِ کن سے پہلے کے ہیں ۔رب کی طرف سے آدم صفی اللہ کو سجدہ کا حکم ہوا ۔ جبکہ اس سے پہلے نہ ہی کوئی آدم بہشت میں بنایا گیا تھا اور نہ ہی کسی آدم کو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا۔ عزازیل نے حجت کری، سجدہ سے انکاری ہوا، تو اس پر لعنت پڑی، اور اس نے صفی اللہ کی اولاد سے دشمنی شروع کردی۔ جبکہ پہلے آدموں کی قومیں اس کی دشمنی سے محفوظ تھیں، اُن کے بہکانے کے لئے خبیث جن ہی کافی تھے۔

چونکہ شیطان سب خبیثوں سے زیادہ پاورفل تھا ، اس نے صفی اللہ کی اولاد کو ایسے قابو کیا اور ایسے جرائم سکھائے جس کی وجہ سے دوسری قومیں ان ایشیائیوں سے متنفر ہونے لگیں ۔ اور عظمتِ آدم کی ہی وجہ سے جن لوگوں کو رب کی طرف سے ہدایت ملی۔ اتنے خدا رسیدہ اور عظمت والے ہو گئے کہ دوسری قومیں حیرت کرنے لگیں، سب سے بڑی آسمانی کتابیں، توریت، زبور، انجیل اور قرآن ان ہی پر نازل ہوئیں۔ جن کی تعلیم ، فیض اور برکت سے ایشیائی دین پوری دنیا کی اقوام میں پھیل گیا۔

آدمؑ کی ابھی روح بھی ڈالی نہیں گئی، فرشتے سمجھ گئے تھے کہ اس کو بھی دنیا کے لئے بنایا جارہا ہے۔ کیونکہ مٹی کے انسان زمین پر ہی ہوتے ہیں۔ پھر کسی بہانے زمین پر بھیج دیا گیا۔ ازلی کام اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن الزام بندوں پر لگ جاتا ہے۔ اگر آدم کو بغیر الزام کے دنیا میں بھیجا جاتا، تو وہ دنیا میں آکر شکوہ شکایت ہی کرتے رہتے، توبہ تائب اور گریہ زاری کیوں کرتے؟
1۔ روزِ ازل والی جہنمی روح غیر مذہب کے گھر پیدا ہو جائیں، اُسے کافر اور کاذب کہتے ہیں، یہی لوگ منکرِ خدا ، دشمن انبیاء اور دشمنِ اولیاء ہوتے ہیں۔ متکبر، سخت دل اور مخلوقِ خدا کو آزار پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ دوسرا درجہ مذہب میں آکر بھی مذہب سے دور ہوتا ہے، یہی روح اگر کسی مذہبی دیندار گھرانے میں پیدا ہوجائے تو اُسے منافق کہتے ہیں۔

2۔ یہی لوگ گستاخِ انبیاء، جلیسِ اولیاء اور مذاہب میں فتنہ ہوتے ہیں۔ ان کی عبادت بھی ابلیس کی طرح بیکار ہوتی ہے۔ انہیں مذہب جنت میں لے جانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن مقدر دوزخ کی طرف کھینچتا ہے۔ چونکہ نبیوں، ولیوں کی امداد سے محروم ہوتے ہیں، اس لئے شیطان اور نفس کے بہکاوے میں آجاتے ہیں، کہ تو اتنا علم جانتا ہے، اور اتنی عبادت کرتا ہے، تجھ میں اور نبیوں میں کیا فرق ہے۔ پھر وہ اپنا باطن دیکھے بغیر خود کو نبی جیسا سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں اور ولیوں کو اپنا محتاج سمجھتے ہیں، پھر روحانیت اور کرامتوں کے اقراری نہیں ہوتے، بلکہ اُسی عمل کے اقراری ہوتے ہیں، جن کی اُن میں خود کی صلاحیت ہوتی ہے، حتیٰ کہ معجزوں کو بھی جادو کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں۔ ابلیس کی طاقت کو مان لیتے ہیں لیکن انبیاء و اولیاء کی طاقت کو مان لینا ان کےلئے مشکل ہے۔

3۔ ازل والی بہشتی روح اگر غیر مذہب یا گندے ماحول میں آجائے تو اُسے معذور کہتے ہیں۔ معذور کےلئے معافی اور بخشش کا امکان ہوتا ہے۔ یہی روحیں صراطِ مستقیم کی تلاش میں، اور دلدل سے نکلنے کےلئے ولیوں کا سہارا ڈھونڈتی ہیں، نرم دل، عاجز اور سخی ہوتے ہیں۔

4۔ اگر بہشتی روح کسی آسمانی مذہب اور دینی گھرانے میں پیدا ہوجائے تو اُسے صادق اور مومن کہتے ہیں۔ یہی لوگ عبادت و ریاضت سے اللہ کا قرب حاصل کرکے اُس کی وراثت کے حقدار ہو جاتے ہیں۔

تصوف میں اہمیت قلب کو ہے

کسی نے ضربوں، کسی نے کبڈی، کسی نے ڈانس، کسی نے دیواریں بنائیں اور ڈھائیں، اور کسی نے ورزش کے ذریعہ دل کی دھڑکن کو اُبھارا، پھر اس کے ساتھ اللہ اللہ ملانے میں آسانی ہو گئی۔ اور بتدریج اللہ اللہ سب لطائف تک خود ہی پہنچ گیا۔ اور کچھ لوگ گہرائی میں جائے بغیر ان کی نقل کرنے لگے۔ انہوں نے بھی اللہ اللہ کے ساتھ ڈانس شروع کردیا، دھڑکنوں کے ساتھ اللہ اللہ تو نہ سمجھ اور نہ ملا سکے، البتہ اُن کی روح ِحیوانی جس کا تعلق اچھل کود سے ہے، اللہ کے نام سے مانوس ہو گئی، اسی طرح موسیقی کے ساتھ اللہ اللہ ملانے سے روحِ نباتی بھی مانوس اور طاقت ور ہوتی ہے۔ موسیقی روح ِنباتی کی غذا ہے۔

امریکہ میں کچھ فصلوں پر موسیقی کے ذریعہ تجربہ کیا گیا، ایک ہی جیسی فصل ایک ہی جیسی زمین پر اگائی گئی۔ ایک میں دن رات موسیقی اور دوسری کو خاموش رکھا گیا، جبکہ موسیقی والی فصل دوسری سے نشوونما میں بہت بہتر ہوئی۔

نفس بہت موذی ہے، پاک ہونے کے بعد بھی بہانے خور ہے، جبکہ اس کی پسند سازو آواز ہے۔ کچھ لوگوں نے ساز کے ذریعہ نفس کو متوجہ کر کے اُس کا رخ اللہ کی طرف موڑنے کی کوشش کری۔ کچھ لوگوں نے گٹار کے ساتھ اللہ اللہ ملایا۔ اور نہ سہی ( کم از کم )کان کی عبادت تک پہنچ گئے۔ مجھے ایک گٹار والے نے قصہ سنایا تھا کہ میں شوقیہ فارغ وقت گٹار کی تار کے ساتھ اللہ اللہ ملاتا رہتا ہوں۔ کبھی کبھی جب نیند سے بیدار ہوتا ہوں تو میرے اندر سے اُسی طرح اللہ اللہ کی آواز آرہی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ دوسرے اشغال یعنی گانے بجانے والوں اور تماشائیوں سے بہتر ہوگئے۔ لیکن کسی ولائت کے مرتبہ تک نہ پہنچے۔ یہ لگن ،تڑپ اور تلاش والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور کسی کامل کے ذریعہ کسی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔

اسلام میں بھی اور دوسرے مذاہب کے صوفیوں نے بھی کسی نہ کسی طریقہ سے رب کے نام کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی۔ جو فعل رب کی طرف موڑے اور اُس کے عشق میں اضافہ کرے وہ ناجائز نہیں ہے ۔

الحدیث: اللہ عملوں کو نہیں بلکہ نیتوں کو دیکھتا ہے۔

شریعت والے اس کو معیوب اور غلط سمجھتے ہیں کیونکہ وہ شریعت سے ہی مطمئن اور سیراب ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو شریعت سے آگے عشق کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، یا وہ لوگ جو شریعت میں نہیں ہیں انہیں کچھ اور متبادل کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے؟

بابِ نہم
﴿دین ِ الٰہی

تمام دین اس دنیا میں نبیوں کے ذریعے بنائے گئے۔ جبکہ اس سے پہلے خود عشق ، خود عاشق ، خود معشوق تھا۔
اور وہ روحیں جو اس کے قرب، جلوے اور محبت میں تھیں وہی عشق الٰہی، دین ِالٰہی اور دین ِ حنیف تھا۔
پھر اُن ہی روحوں نے دنیا میں آکر اُس کو پانے کےلئے اپنا تن من قربان کر دیا۔

یہ پہلے خاص تک تھا، اب روحانیت کے ذریعہ عام تک بھی پہنچ گیا

حضرت ابو ہریرہ : مجھے حضور پاکﷺ سے دو علم حاصل ہوئے ایک تمہیں بتادیا، دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کردو!

جب پانی کے حوض سے خشک کتابیں نکلیں تو
مولانا رومؒ نے کہا: ایں چیست؟ (یہ کیا ہے؟)
شاہ شمس ؒ نے کہا: ایں آں علم است کہ تو نمی دانی! (یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے)
اسی طرح جب موسیٰؑ نے کہا کہ کیا کچھ اور علم بھی ہے؟ تو اللہ نے کہا کہ خضرؑکے پاس چلا جا۔

ہر نمازی کی دُعا:
اے اللہ! مجھے اُن لوگوں کا سیدھا راستہ دکھا ، جن پر تیرا انعام ہوا!

علامہ اقبالؒ
اس کو کیا جانے، بچارے دو رکعت کے امام
….٭….

وہ روحیں جو ازل سے ہی با مرتبہ ہیں، اللہ جن سے محبت کرتا ہے، اور جو اللہ سے محبت کرتی ہیں، دنیا میں آکر بھی رب کی نام لیوا ہوئیں، مثلاّ عیسیٰ ؑ زچگی میں ہی بول اُٹھے تھے کہ میں نبی ہوں، جبکہ حضرت مریم کو پیدائش سے پہلے ہی جبرائیل بشارت دے چکا تھا۔ موسیٰ ؑکے متعلق فرعون کو پیشن گوئی تھی، کہ فلاں قبیلے سے ایک بچہ پیدا ہوگا جو تمہاری تباہی کا سبب بنے گا، اور اللہ کا خاص بندہ ہوگا ۔ حضور پاکﷺ نے بھی کہا تھا : میں دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔

بہت سی محب اور ازلی ارواح مختلف مذاہب اور مختلف اجسام میں موجود ہیں۔

آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ کسی ایک روح کو دنیا میں بھیجے گا جو اِن روحوں کو تلاش کر کے اکھٹا کرے گا، اور انہیں یاد دلائے گا کہ کبھی تم نے بھی اللہ سے محبت کری تھی۔ ایسی تمام روحیں خواہ کسی بھی مذہب یا بے مذہب اجسام میں تھیں۔ اُس کی آواز پر لبیک کہیں گی، اور اُس کے گرد اکھٹی ہوجائینگی۔ وہ رب کا ایک خاص نام اِن روحوں کو عطا کریگا، جو قلب سے ہوتا ہوا روح تک جا پہنچے گا ، اور پھر روح اُس نام کی ذاکر بن جائیگی۔ وہ نام روح کو ایک نیا ولولہ، نئی طاقت اور نئی محبت بخشے گا۔ اُس کے نور سے روح کا تعلق دوبارہ اللہ سے جُڑ جائیگا۔

ذکر قلب ذکرِ روح کا وسیلہ ہے جیسا کہ بندگی یعنی نماز، روزہ ذکر ِ قلب کا وسیلہ ہے۔ اگر کسی کی روح اللہ کے ذکر میں لگ گئی تو وہ اُن لوگوں سے ہے، جنہیں ترازو، یوم محشر کا بھی کوئی خوف نہیں۔ روح کے آگے کے ذکر اور عبادت اُس کے بلند مراتب کے شواہد ہیں۔

جن لوگوں کی منزل قلب سے روح کی طرف رواں دواں ہے، وہی دین ِ الٰہی میں پہنچ چکے یا پہنچنے والے ہیں۔ اِن کو کتابوں سے نہیں بلکہ نور سے ہدایت ہے اور نور سے ہی باز ِ گناہ ہوجاتے ہیں۔ اور جو سُن کر یا محنت سے بھی اس مقام سے محروم ہیں وہ اس سلسلے میں شامل نہیں ہیں۔ اگر ذکر قلب و روح کے بغیر خود کو اس سلسلے میں متصور کیا یا اُن کی نقل کی، تو وہ زندیق ہیں۔

جبکہ عام لوگوں کی بخشش کا ذریعہ عبادات اور مذہب ہیں۔
ہدایت کا ذریعہ آسمانی کتب ہیں۔
شفاعت کا ذریعہ نبوت اور ولائت ہے۔

بہت سے مُسلم ولیوں کی شفاعت کو نہیں مانتے۔ لیکن حضورﷺ نے اصحابہ کو تاکید کری تھی کہ اویس قرنیؓ سے اُمت کےلئے بخشش کی دُعا کرانا۔

رُوحوں کا دین

جس میں سب دریا ضم ہو جائیں وہ سمندر کہلاتا ہے!
اور جس میں سب دین ضم ہو کر ایک ہو جائیں، وہی عشقِ الٰہی اور دینِ الٰہی ہے!
جتھے چاروں مذہب آ ملدے ھُو( سلطان صاحبؒ)

ابتدائی پہچان:
جب قلب و روح کا ذکر جاری ہو جائے، چاہے عبادت سے ہو یا کسی کامل کی نظر سے ہو، دونوں حالتوں میں وہ ازلی ہے۔ گناہوں سے نفرت ہونا شروع ہوجائے، اگر گناہ سرزد ہو بھی جائے تو اُس پر ملامت ہو اور اُس سے بچنے کی ترکیبیں سوچے۔

مجھے وہ لوگ بھی پسند ہیں جو گناہوں سے بچنے کی ترکیبیں سوچتے ہیں۔ ( فرمانِ الٰہی)

دنیا کی محبت دل سے نکلنا اور اللہ کی محبت کا غلبہ شروع ہوجائے، حرص، حسد، بخل اور تکبر سے چھٹکارا محسوس ہو۔ زبان کسی کی غیبت سے باز آجائے، عاجزی محسوس ہو، کنجوسی کی جگہ سخاوت اور جھوٹ جاتا نظر آئے۔ حرام خواہشات ِنفسانی حلال میں تبدیل ہوجائیں۔ حرام مال، حرام کھانے اور حرام کاموں سے نفرت پیدا ہو۔

انتہائی پہچان:
چرس، افیون، ہیروئن، تمباکو اور شراب وغیرہ سے مکمل چھٹکارا ہو جائے۔ مقدس ہستیوں سے خواب، مراقبے یا مکاشفہ کے ذریعہ ملاقاتی ہو جائے۔ نفس اماراہ سے مطمئنہ بن جائے، لطیفہ انا رب کے روبرو ،اللہ اور بندے کے درمیان سب حجابات اُٹھ جائیں۔ باز ِ گناہ، عشق ِخدا ، وصل ِ خدا ، بندہ سے بندہ نواز اور غریب سے غریب نواز بن جائے۔

کیونکہ اس سلسلے میں مختلف مذاہب سے آ کر خاص روحیں شامل ہونگیں، جنہوں نے روز ِازل میں رب کی گواہی میں کلمہ پڑھ لیا تھا۔ اس لیے کسی بھی مذہب کی قید نہیں ہوگی۔ ہر شخص اپنے مذہب کی عبادت کرسکے گا، لیکن قلبی ذکر سب کا ایک ہوگا۔ یعنی مختلف مذاہب کے باوجود دِلوں سے سب ایک ہوجائیں گے، پھر جب دلوں میں اللہ آیا تو سب اللہ والے ہوجائیں گے۔ اِس کے بعد رب کی مرضی ہے انہیں اپنے تئیں رکھے یا کسی بھی مذہب میں ہدایت کے لیے بھیج دے یعنی کوئی مفید ہوگا، کوئی منفرد، کوئی سپاہی ہوگا، اور کوئی سالار ہوگا۔

ان کی امداد اور ساتھ دینے والے گناہگار بھی کسی نہ کسی مرتبے میں پہنچ جائیں گے۔ جو لوگ اس ٹولے میں شامل نہ ہو سکے، اُن میں سے اکثر شیطان(دجال) کے ساتھ مل جائیں گے۔ خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ہوں۔ آخرمیں ان دونوں ٹولوں کی زبردست جنگ ہوگی۔ عیسیٰؑ، مہدی، کالکی اوتار والے ملکر انہیں شکست دینگے۔ بہت سے دجالئے قتل کرد یے جائیں گے، جو بچیں گے وہ خوف اور مجبوری کی وجہ سے خاموش رہیں گے۔

مہدی اور عیسیٰ کا لوگوں کے قلوب پر تسلط ہوجائے گا۔ پوری دنیا میں امن قائم ہوجائے گا۔ جُدا جُدا مذہب ختم ہو کر ایک ہی مذہب میں تبدیل ہو جائیں گے۔ وہ مذہب رب کا پسندیدہ ، تمام نبیوں کے مذاہب اور کتابوں کا نچوڑ، تمام انسانیت کے لئے قابلِ قبول، تمام عبادات سے افضل، حتیٰ کہ اللہ کی محبت سے بھی افضل، عشق الٰہی ہوگا۔

جتھے عشق پہنچاوے، ایمان نو وی خبر نہیں ( باھو)

علامہ اقبال نے اسی وقت کے لئے نقشہ کھینچا تھا:
دنیا کو ہے اُس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نظر زلزلہء عالم ِافکار

کھلے جاتے ہیں اسرار ِنہانی، گیا دور حدیث لن ترانی
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار، وہی مہدی وہی آخر زمانی

کھول کر آنکھ مری آئینہءادراک میں ، آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
لولاک لما دیکھ زمیں دیکھ ، فضا دیکھ ، مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چُھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں میخانہ ہر ایک ہی بادہ خوار ہوگا
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہوگا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کوپلٹ دیا تھا
سُنا ہے قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا

تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اللہ کا دین نہیں ہیں۔ ان کتابوں میں نماز روزہ اور داڑھیاں ہیں۔ جبکہ اللہ اس کا پابند نہیں ہے، یہ دین نبیوں کی امتوں کو منور اور پاک صاف کرنے کےلئے بنائے گئے۔ جبکہ اللہ خود پاکیزہ نور ہے، اور جب کوئی انسان وصل کے بعد نور بن جاتا ہے تو پھر وہ بھی اللہ کے دین میں چلا جاتا ہے۔ اللہ کا دین پیار و محبت ہے۔ ننانوے ناموں کا ترجمہ ہے۔ اپنے دوستوں کا ذکر کرنے والا ہے۔

خود عشق، خود عاشق، خود معشوق ہے۔ اگر کسی بندہ ِ خدا کو بھی اُس کی طرف سے اِن میں سے کچھ حصہ عطا ہوجائے تو وہ دین ِالہیٰ میں پہنچ جاتا ہے۔ پھر اُس کی نماز دیدارِ الہیٰ اور اس کا شوق ذکرِ خدا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی زندگی کی تمام سنتوں، فرضوں کا کفارہ بھی دیدارِ الہیٰ ہے۔ جن فرشتے اور انسانوں کی مشترکہ عبادت بھی اُس کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی۔

ایسے ہی شخص کےلئے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا کہ:
” جس نے وصال پر پہنچ کر بھی عبادت کی یا ارادہ کیا ، تو اُس نے کفران ِ نعمت کیا "
بلھے شاہ ؒنے فرمایا:
” اساں عشق نماز جدوں نیتی اے ” ، ” بھُل گئے مندر مسیتی اے”
علامہ اقبالؒ نے کہا:
اس کو کیا جانے بے چارے دو رکعت کے امام

اس علم کے متعلق ابو ہریرہؓ نے فرمایا تھا:

کہ مجھے حضورﷺ سے دو علم عطا ہوئے، ایک تمہیں بتا دیا۔ اگر دوسرا بتاؤ تو تم مجھے قتل کردو۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے بھی اس علم کو کھولا، شاہ منصور اور سرمد کی طرح قتل کر دیے گئے۔
اور آج ہم (گوہر شاہی) بھی اس علم کی وجہ سے قتل کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

نبیوں کی شریعت کی پابندی امت کے لئے ہوتی ہے۔ ورنہ انہیں کسی عبادت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ شریعت سے پہلے ہی بلکہ روز ازل سے ہی نبی ہوتے ہیں، چونکہ انہوں نے دین کو نمونے کے طور پر مکمل کرنا ہوتا ہے۔ ان کے کسی ایک رکن کے چھوڑنے یا فعل کو بھی امت سنت بنا لیتی ہے، اس وجہ سے انہیں محتاط اور صحو میں رہنا پڑتا ہے۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ کوئی بھی نبی اگر کسی بھی عبادت میں نہیں ہے تو کیا وہ دوزخ میں جاسکتا ہے؟ ہر گز نہیں !کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ عبادت کے بغیر نبی نہیں بن سکتا ؟ کیا کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ علم سیکھے بغیر نبوت نہیں ملتی؟ پھر ولیوں پر اعتراضات کیوں ہوتے ہیں؟ جبکہ ولائت نبوت کا نعم البدل ہے۔

یاد رکھیں جنہوں نے دیدار ِرب کے بغیر وصال کا دعویٰ کیا، یا خود کو اس مقام پر تصور کر کے نقل کی، وہ زندیق اور کاذب ہیں۔ اور قرآن نے ایسے ہی جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے۔ جن کی وجہ سے ہزاروں کا وقت اور ایمان برباد ہوتا ہے۔

"یہ کتاب ہر مذہب، ہر فرقے اور ہر آدمی کے لئے قابل ِ غور
اور قابل ِ تحقیق ہے۔اور منکران ِ روحانیت کیلئے ایک چیلنج ہے!”

’’ فرمودات ِ گوہر شاہی‘‘
تین حصے علم ِظاہر کے ہیں، اور ایک حصہ علم ِ باطن کا ہے ۔
ظاہری علم حاصل کرنے کیلئے کسی موسیٰ اور باطنی علم کیلئے، کسی خضر کو تلاش کرنا پڑتا ہے
……
جبرائیل کے بغیر جو آواز آئی، اُسے الہام اور جو علم آیا، اُسے صحیفے اور حدیث ِ قدسی کہتے ہیں۔
اور جبرائیل کے ساتھ جو علم آیا، اُسے قرآن کہتے ہیں، خواہ وہ ظاہری علم ہو یا باطنی علم ہو۔
اُسے توریت کہیں، زبور کہیں، یا انجیل کہیں!
………
علماء سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اُسے سیاست کہہ کر چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔
اولیاء سے کوئی غلطی ہوجائے، اُسے حکمت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
جبکہ نبیوں پر غلطی کا دفعہ نہیں لگتا۔
………
جو جس شغل میں ہیں، اندر سے اُن کی متعلقہ روحیں طاقتور ہیں۔
اور جو کسی بھی شغل میں نہیں ہیں، اُن کی روحیں خفتہ اور بے حس ہیں۔
اور جنہوں نے کسی بھی طریقہ سے اللہ کا نام ان روحوں میں بسالیا، پھر اُن کا شغل ہمہ وقت ذکر سلطانی اور عشق ِخداوندی ہے۔
تب ہی علامہ اقبال نے کہا:
اگر ہو عشق تو کفر بھی ہے مسلمانی!
سچل سائیں نے کہا:
بِن عشق ِدلبر کے سچل، کیا کفر ہے کیا اسلام ہے!
سلطان باہو نے کہا:
جتھے عشق پہنچاوے، ایمان نوں وی خبر نہ کائی
ایسے لوگ جب کسی مذہب میں ہوتے ہیں یا جاتے ہیں، تو اُن کی برکت سے اُس خطے پر اللہ کی باران ِرحمت برسنا شروع ہو جاتی ہے۔
پھر وہ بابا فرید ہوں تو ہندو، سکھ بھی اُن کی چوکھٹ پر
اگر بابا گورونانک ہوں، تو مسلم، عیسائی بھی اُن کے در پر چلے آتے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام تمام مذاہب کی تجدید کرینگے

جس طرح حضور پاکؐ کی ختم ِنبوت کے بعد مُسلم میں مجدد آتے رہے اور ماحول کے مطابق دین میں کچھ تجدید کرتے رہے
اسی طرح امام مہدی علیہ السلام کے آنے کے بعد اُن (مجددؤں) کی تجدید ختم ہو جائیگی،
اور سب مذاہب کے مطابق امام مہدی ؑ کی اپنی تجدید ہوگی۔ کچھ کتابوں میں ہے ۔ وہ ایک نیا دین بنائیں گے۔

٭فرمودات ِگوہر شاہی٭

"اگر کوئی ساری عمر عبادت کرتا رہے ، لیکن آخر میں امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی مخالفت کربیٹھا،
جن کو دنیا میں دوبارہ آنا ہے۔ عیسیٰؑ کا جسم سمیت اور مہدیؑ کا ارضی ارواح کے ذریعے آنا ہے۔
تو وہ بلیعم باعور کی طرح دوزخی اور ابلیس کی طرح مردود ہے۔”
"اگرکوئی ساری عمر کتوں جیسی زندگی بسر کرتا رہا، لیکن آخر میں اُن کا ساتھ اور اُن سے محبت کر بیٹھا،
تو وہ کتے سے حضرت قطمیر بن کر جنت میں جائے گا۔”

کچھ فرقے اور مذاہب کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ فوت ہوگئے۔ افغانستان میں اُن کا مزار ہے، یہ غلط پرپیگنڈہ ہے۔ افغانستان میں کسی اور عیسی نامی بزرگ کا دربار ہے۔ اُس پیادہ زمانے میں مہینوں کی مسافت پر جاکر دفنانا کیا مقصد رکھتا تھا؟ پھر وہ کہتے ہیں ، آسمان پر کیسے اُٹھائے گئے؟ ہم کہتے ہیں آدم علیہ السلام آسمان سے کیسے لائے گئے؟ جبکہ ادریسؑ بھی ظاہری جسم سے بہشت میں اب تک موجود ہیں،خضرؑ اور الیاسؑ جو دنیا میں ہیں، اُن کو بھی ابھی تک موت نہیں آئی۔غوث پاکؓ کے پوتے حیات الامیر (600) سال سے زندہ ہیں، غوث پاک نے کہا تھا،اُس وقت تک نہیں مرنا، جب تک میرا سلام مہدی علیہ السلام کو نہ پہنچادو۔ شاہ لطیف کو بری امام کا لقب اُنہوں نے ہی دیا تھا۔مری کی طرف بارہ کوہ میں اُن کی بیٹھک کے نشان ابھی تک محفوظ ہیں۔

ظاہری گناہ کی سزا، جیل ،جرمانہ یا ایک دن کی پھانسی ہے۔ اگر کوئی راہ ِ فقر میں ہے، تو اس کی سزا ملامت ہے۔ جبکہ باطنی گناہوں کی سزا بہت زیادہ ہے۔ غیبت کرنے والے کی نیکیوں سے جرمانہ فریق دوئم کی نیکیوں میں شامل کیا جاتاہے۔ حرص ، حسد ، بخل اور تکبر اُس کی لکھی ہوئی نیکیوں کو مٹا دیتے ہیں۔ اگر اُس میں کچھ نور ہے، تو انبیاء واولیا کی گستاخی اور بغض سے چھن جاتا ہے۔ جیسا کہ شیخ صنعان کا شیخ عبدالقادر جیلانی کی گستاخی سے کشف و کرامات کا سلب ہو جانا۔

واقعہ ہے کہ جب بایزید بسطامی کو پتہ چلا کہ ایک شخص اُن کی برائی کرتا ہے، تو آپ نے اُس کا وظیفہ مقرر کردیا۔ وہ وظیفہ بھی لیتا رہا اور برائی بھی کرتا رہا۔ ایک دن اُس کی بیوی نے کہا: نمک حرامی چھوڑ، یا وظیفہ چھوڑ، یا برائی چھوڑ، پھر اُس نے تعریف کرنا شروع کردی۔آپ کو جب تعریف کا پتہ چلا تو اُس کا وظیفہ بند کردیا۔پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جب برائی کرتا تھا، وظیفہ ملتا تھا، اب تعریف کی وجہ سے وظیفہ کیوں بند ہوا؟آپ نے فرمایا:تو اُس وقت میرا مزدور تھا، تیری برائی سے میرے گناہ جلتے، میں اُس کا تجھے معاوضہ دیتا تھا۔ اب کس چیز کا معاوضہ دوں۔ مندرجہ برائیوںکا تعلق نفس امارہ سے ہے، جس کاامدادی ابلیس ہے۔ جبکہ تقویٰ، سخاوت، درگزر، صبرو شکر، عاجزی اور انوارِ الٰہی کا تعلق قلب ِشہید سے ہے، جس کا امدادی ولی مرشد ہے۔

جب تک نفس امارہ ہے کسی بھی پاک کلام کے انوار دل میں ٹھہر نہیں سکتے، بے شک الفاظ و آیات کا حافظ کیوں نہ بن جائے، طوطا ہی ہے۔ جب تیرا نفس مطمئنہ ہوجائے گا، پھر ناپاک چیز تیرے اندر ٹھہر نہیں سکتی، پھر تُو مرغ ِبسمل ہے۔ نفس پاک کرنے کیلئے کسی نفس شکن کو تلاش کر۔ جو ہر وقت منجانب اللہ ڈیوٹی پر مامور ہوتے ہیں۔ جسم کے باہر کی طہارت پانی سے ہوتی ہے، جبکہ جسم کے اندر کی طہارت نور سے ہوتی ہے۔ طہارت کے بغیر گندہ اور ناپاک ہے۔ صاف جسم عبادت ِ الٰہی کے قابل ہوتاہے، جبکہ صاف دل تجلیاتِ الٰہی کے قابل ہوتا ہے۔ پھر ہی آسمانی کتابیں ھدایت کرتی ہیں پاکوں کو( ھدی اللمتقین)۔ ورنہ کتابوں والے ہی کتابوں والوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ مجدد الف ثانی مکتوبات میں لکھتے ہیں: قرآن اُن لوگوں کے پڑھنے کے لائق نہیں جن کے نفس امارہ ہیں۔مبتدی کو چاہیے کہ پہلے ذکر اللہ کرے( یعنی اندر کو پاک کرے)، مُنتہی کو چاہیے کہ پھر قرآن پڑھے۔
الحدیث: کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن اُن پر لعنت کرتا ہے۔
بلھے شاہؒ: کھا کے سارا مُکر گئے، جنھاں دے بغل وچ قرآن

عابد کو گمان ہے کہ وہ اللہ کے لئے عبادت اور شب بیداری کررہا ہے، اسلئے وہ اللہ کے بہت نزدیک ہے۔ عبادت کے بعد تیری دعا، صحت، عمردرازی، مال و دولت، اور حورو قصور ہے، سوچ! کیا تو نے کبھی بھی یہ دعا مانگی تھی؟ اے اللہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، صرف تو چاہیے!
عالم کو گمان ہے کہ میں قرب ِخداوندی میں بخشا بخشایا ہوا ہوں۔ کیونکہ میرے اندر علم اور قرآن ہے۔ پھر تو دوسروں کو جہنمی کیوں کہتا ہے، جبکہ ہر مسلم کو بھی کچھ نہ کچھ علم اور قرآن کی بہت سی سورتیں یاد ہیں۔سوچ! علم کون بیچتا ہے؟ خود کون بکتا ہے؟ ولیوں کی غیبت کون کرتا ہے؟ حاسد، متکبر اور بخیل کون ہوتا ہے؟ دل میں اور، زبان میں اور، صبح اور، شام کو اور، یہ کس کا وطیرہ ہے؟ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر کون پیش کرتا ہے؟ اگر تو ان سے دور ہے، تو خلیفہ ِ رسول ہے! تیری طرف پشت کرنا بھی بے ادبی ہے ۔یعنی …
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن (علامہ اقبالؒ) اگر تو ان خصلتوں میں گم ہے ، تو پھر تُو وہی ہے جس کیلئے بھیڑیے نے کہا تھا کہ اگر میں نے یوسف کو کھایا ہو تو اللہ مجھے چودھویں صدی کے عالموں سے اُٹھائے۔

صراطِ مستقیم

1 – جنکے ظاہر درست، باطن سیاہ ہیں، مذہب میں فتنہ ہیں، ابلیس کے خلیفہ ہیں۔
الحدیث: جاھل عالم سے ڈرو اور بچو، جس کی زبان عالم اور دل جاھل یعنی سیاہ ہو۔
2 – باطن درست لیکن ظاہر خراب… ان کو مجذوب، معذور، سکر اور منفرد کہتے ہیں
عشق میں عقل ہی نہ رہی تو حساب ِحشر کیا؟ (تریاق ِقلب)

مذہب کے لئے پریشانی ،لیکن اللہ کے قرب میں ہوتے ہیں، مگر مزید مرتبہ حاصل نہیں کرسکتے، بامرتبہ تصدیق نقالیئے زندیق۔ انہوں نے صدر ایوب، بے نظیر اور نواز شریف جیسوں کو اُن کے دور ِحکومت میں ڈنڈے مارے اور گالیاں دیں۔تم کسی صاحب ِ اقتدار کو ڈنڈے مارکر دکھاؤ، یعنی یہ صرف اُن کی ذات تک محدود ہے، دوسروں کے لئے نہیں ہے۔

3 – ظاہر درست باطن بھی درست… ظاہری عبادت کے علاوہ قلبی عبادت میں بھی ہوتے ہیں،
اِن کو عالم ِ ربّانی کہتے ہیں۔یہی منبر ِرسول اور دین کے وارث ہوتے ہیں، اور جب کسی کا ظاہر و باطن ایک ہو جاتا ہے تو اُسے نائبِ اللہ کہتے ہیں۔اگرخواب میں یا روحانی طور پر حج کرتا ہے تو ظاہر میں بھی اُس کا درجہ ملتا ہے، بلکہ ظاہری حج سے بہت ہی زیادہ۔ روحوں کی نماز ظاہری نماز کی حیثیت رکھتی ہے، بلکہ کہیں زیادہ ، اگر ظاہر میں نماز پڑھتا ہے تو باطن میں بھی اس کی نماز معراج بن جاتی ہے، یہی لوگ ہیں، جسم اِدھر، روح اُدھر، فقر کے محکمے میں ان کو معارف بھی کہتے ہیں۔ جبکہ عاشق کیلئے رب کا دیدار ہی کافی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، دیدار ہوہی نہیں سکتا، لیکن یہ دیدار والا علم حضور ؐ سے شروع ہوچکا ہے۔ بقول امام ابو حنیفہ: میں نے ۹۹ ننانوے مرتبہ رب کو دیکھا ہے۔ بایزید بُسطامی کہتے ہیں کہ میں نے ۷۰ مرتبہ رب کا دیدار کیا ہے۔ دیدار لطیفہ انا سے ہوتا ہے، اور تم انا کی تعلیم اور ذکر سے انجان ہو۔

اللہ کا دوست

اگر کسی کو خلق ِخدا کشف و کرامات اور فیض کی وجہ سے ولی مانتی ہے۔
لیکن اُس کے کسی فعل یا مذہب کی وجہ سے تُو دلبرداشتہ ہے۔
اُس کی برائی کرنے سے بہتر ہے تُو ادھر جانا چھوڑ دے۔
کیا خبر؟ وہ کوئی منظور ِ خدا ہو! شیخ بقا ہو، یا کوئی لعل شہباز ہو، کوئی خضر ہو،
یا ساھے بابا ہو یا گورونانک ہو، کوئی بلھے شاہ ہو اور کوئی سدا سہاگن بھی ہو سکتا ہے!
گوہر شاہی کا عالم انسانیت کیلئے
انقلابی پیغام

مسلم کہتا ہے کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں، جبکہ یہودی کہتا ہے، میرا مقام مسلم سے بھی اُونچا ہے،
اور عیسائی کہتا ہے، میں ان دونوں سے بلکہ سب مذاہب والوں سے بلند ہوں، کیونکہ میں اللہ کے بیٹے کی امت ہوں۔

لیکن گوہر شاہی کا کہنا ہے

سب سے بہتر اور بلند وہی ہے، جس کے دل میں اللہ کی محبت ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے نہ ہو!
زبان سے ذکر و صلواۃ اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت ہے،
جبکہ قلبی ذکر اللہ کی محبت اور رابطے کا وسیلہ ہے۔

باب دہم
﴿ولی کسے کہتے ہیں

ولی دوست کو کہتے ہیں ،اور دوست کا ایک دوسرے کو دیکھنا اور ہمکلام ہونا ضروری ہے۔
بامرتبہ تصدیق، نقالیہ زندیق۔ جھوٹی نبوت کا دعویدار کافر ہے ،
جبکہ جھوٹی ولائت کا دعویدار کفر کے قریب ہے
حضورؐ نے بھی ایک مرتبہ اصحابہ کو کہا تھا کہ کچھ کام صرف میرے کرنے کے ہیں، تمہارے لئے نہیں ہیں۔
ہر نمازی کی یہی دعا ہوتی ہے کہ اے اللہ مجھے اُن لوگوں کا سیدھا راستہ دکھا جن پر تیرا انعام ہوا۔ جب تک اُس کی روح بیت المامور میں جاکر نماز نہ پڑھے، جسے حقیقی نماز کہتے ہیں، کیونکہ وہ نمازمرنے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ جیسا کہ شب معراج میں بیت المقدس میں بھی سب نبیوں کی ارواح نے نماز پڑھی تھی، اور جب تک رب کا دیدار نہ ہو جائے اس وقت تک شریعت کی اتباع ضروری ہے۔

البتہ سُست اور گناہگار لوگوں کیلئے بھی اللہ نے کچھ نعم البدل بنایا ہوا ہے۔ اللہ کے نام کا قلبی ذکر بھی ظاہری عبادت اور گناہوں کا کفارا کرتا رہتا ہے، اور کبھی نہ کبھی اُسے اللہ کا محب اور روشن ضمیر بنادیتا ہے۔

جب تمہاری نمازیں قضا ہو جائیں تو اللہ کا ذکر کرلینا، اُٹھتے، بیٹھتے، حتیٰ کہ کروٹوں کے بل بھی۔ (القرآن)

ولیوں کا قرب، نسبت، نظر اور دعا بھی گناہگاروں کا نصیبہ چمکا اور دوزخ سے بچا لیتی ہے۔ جیسا کہ حضورؐ نے امت کے گناہگاروں کی بخشش کیلئے حضرت اویس قرنی سے بھی دعا کیلئے اصحابہ کو بھیجا تھا۔ سخاوت، ریاضت، اور شہادت سے بھی گناہوں کا کفارا اور بخشش ہو سکتی ہے۔ عاجزی ،توبہ تائب اور گریہ زاری بھی رب کو پسند ہے، جس کی وجہ سے نصوح جیسا کفن چور اور مردہ عورتوں کی بے حرمتی کرنے والا بخشا گیا۔

ایک دن عیسیٰؑ نے شیطان سے پوچھا کہ تیرا بہترین دوست کون ہے؟ اُس نے کہا: کنجوس عابد۔ کہ وہ کیسے؟ اُس کی کنجوسی اُس کی عبادت کو رائیگاں کردیتی ہے، پوچھا؟ تیرا بڑا دشمن کون ہے؟ اُس نے کہا: گناہگار سخی۔ کہ وہ کیسے؟ اُس کی سخاوت اُس کے گناہوں کو جلا دیتی ہے۔ خدا کے بندوں اور خدا کی مخلوق سے پیار کرنے اور خیال رکھنے والے، حق کا ساتھ اور انصاف والے لوگ بھی رب کی نظر ِ کرم کے قابل ہوجاتے ہیں۔

علامہ اقبال تیسری چوتھی کے طالب ِ علم سکول سے واپس آئے تو ایک کتیا اُن کے پیچھے چل پڑی، آپ سیڑھیوں پر چڑھ گئے اور وہ بے حسی سے دیکھتی رہی۔ آپ نے سوچا شاید بھوکی ہے۔ اُن کے والد نے اُن کے لئے ایک پراٹھا رکھا ہوا تھا۔ اُنہوں نے آدھا کتیا کو ڈال دیا، وہ فوراّ کھا گئی پھر بے حسی سے دیکھنے لگی۔ آپ نے باقی آدھا بھی اُسے ڈال دیا، اور خود سارا دن بھوکے رہے۔ رات کو اُن کے والد کو بشارت ہوئی کہ تمہارے بیٹے کا عمل مجھے پسند آیا ہے اور وہ منظور ِ نظر ہو گیا ہے۔

جب سبکتگین ہرنی کا بچہ جنگل سے اُٹھا کر چل پڑا۔ تو دیکھا کہ گھوڑے کے پیچھے پیچھے ہرنی بھی دوڑ رہی ہے۔ سبکتگین رُک گیا۔ دیکھا ہرنی بھی کھڑی ہو گئی۔ اور اپنے منہ کو اُس نے آسمان کی طرف اُٹھا لیا۔ سبکتگین نے دیکھا کہ اُس وقت اُس کے آنسو بہہ رہے تھے، اور سبکتگین نے بچے کو آزاد کردیا۔ اس واقعہ کے بعد سبکتگین پر اتنا اللہ کا کرم ہوا۔ کہ رب کے نام پر اکثر رویا کرتا تھا۔
مولانا روم ؓ کہتے ہیں کہ: یک زمانہ صحبت ِ بااولیاء … بہتر است صد سالہ طاعت بے ریا
ولی کی ایک لمحہ کی صحبت سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے
حدیث قدسی: میں اُس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے۔
ابوذر غفاری: یوم ِمحشر میں لوگ ولی کو پہچان کر کہیں گے۔ اے اللہ میں نے اُس کو وضو کرایا تھا، جواب آئے گا، اس کو بخش دو۔ دوسرا کہیے گا یا اللہ میں نے اسے کپڑے پہنائے یا کھانا کھلایا تھا۔ جواب آئے گا اسے بھی بخش دو۔ اس طرح بھی بے شمار لوگ ان کے ذریعے بخشے جائیں گے۔
حدیث قدسی: جس کسی نے میرے ولی کے ساتھ دشمنی کری۔ میں اُس کے خلاف اعلان ِ جنگ کرتا ہوں۔

اللہ کی جنگ ایک دن کا سر کاٹنا نہیں ہوتا۔ بلکہ اُن کا ایمان کاٹ دیا جاتا ہے۔
جو اگلی ساری زندگی میں دوزخ میں روزانہ اذیت سے سر کٹتا رہے گا۔

جیسا کہ بلعم باعور جو بہت بڑا عالم اور عابد تھا۔ لیکن موسیٰؑ کی دشمنی کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دیا گیا۔
لوگ کہتے ہیں رب عبادت سے ملتا ہے۔

ہم کہتے ہیں رب دل سے ملتا ہے

عبادت دل کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے، اگر عبادت سے دل صاف نہیں ہوا۔ تو رب سے بہت دور ہے۔
حدیث: نہ عملوں کو دیکھتا ہوں، نہ شکلوں کو۔ بلکہ نیتوں اور قلوب کو دیکھتا ہوں۔
البتہ عبادت سے جنت مل سکتی ہے۔ لیکن جنت بھی رب سے بہت دور ہے۔
یہ علم ِ باطن صرف اُن لوگوں کیلئے ہے، جو حور و بہشت کی پرواہ کئے بغیر
رب سے محبت، قرب اور وصال چاہتے ہیں۔
اللہ اُنہیں کسی ولی مرشد سے ملا دیتا ہے۔
جسے اللہ گمراہ کردے، وہ ہر گز نہ پائے گا ولی مرشد‘ سورۃ کہف (القرآن)

جب اللہ تعا لیٰ کسی بندے کی کسی بھی ادا سے مہربان ہو جاتا ہے، تو اُسے بڑے پیار سے دیکھتا ہے ۔ اُس کا پیار سے دیکھنا ہی بندے کے گُناہوں کو جلا دیتا ہے۔ اُس کے پاس بیٹھنے والے بھی نظرِ رحمت کی لپیٹ میں آجا تے ہیں ۔ رب کے دوست اصحاب کہف سوتے رہے یا مراقبہ میں رہے ، اللہ اُن کو پیار سے دیکھتا رہا۔ جس کی وجہ سے اُن کا ساتھی ’کتا ‘بھی حضرت قطمیر بن کر جنت میں جائے گا۔ جب شیخ فریدؒ اللہ کی نظرِ رحمت میں آئے تو ساتھ بیٹھا ہوا چرواہا بھی رنگا گیا۔
جب اللہ ابو الحسن ؒ کی کسی ادا پر مہربان ہوا تو ہمکلامی کا سلسلہ شروع ہو گیا، ایک دن اُسے کہا : اے ابو الحسن ، اگر تیرے متعلق میں لوگوں کو بتا دوں تو لوگ تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں ۔ اُنھوں نے جواب دیا ، اگر میں تیرے متعلق لوگوں کو بتا دوں : کہ تو کتنا مہربان ہے ، تو تجھے کوئی بھی سجدہ نہ کرے۔
رب نے کہا : ایسا کر نہ تو بتا ، نہ ہم بتاتے ہیں۔
جب تیسری بار زید کو شراب کے جُرم میں لایا گیا ۔ تو اصحابہ نے کہا ، اِس پر لعنت ، بار بار اِسی جُرم میں آتا ہے۔ حضور ؐ نے فرمایا ، لعنت مت کرو یہ اللہ اور اُس کے حبیب سے محبت بھی کرتا ہے، جو اللہ رسول سے محبت کرتے ہیں ، دوزخ میں نہیں جا سکتے۔
…٭…
بے شک اللہ کُل مخلوق سے محبت کرتا ہے اور سب مخلوق کا خیال رکھتا ہے، معزور کیڑے کو پتھر میں بھی رزق پہنچاتا ہے ۔لیکن جس طرح نا فرمان اولاد کو سزا اور عاق کیا جاتا ہے ، اِسی طرح نافرمانوں اور گُستاخوں کے لیئے وہ قہار بن جاتا ہے۔
یقین کرو ۔ تمہیں بھی رب دیکھنا چاہتا ہے، لیکن تم انجان ،لاپرواہ یا بد بخت ہو۔ جسے لوگ دیکھتے ہیں اُسے روز صابن سے دھوتے ہو، روز کریم لگاتے اور خط بناتے ہو، اور جسے رب نے دیکھنا ہے، کیا تو نے کبھی اُسے بھی دھویا ہے ؟
الحدیث: ہر چیز کو دھونے کے لئے کوئی نہ کوئی آلہ ہے، جب کہ دلوں کو دھونے کے لئے اللہ کا ذکر ہے۔
پاکیزہ محبت کا تعلق بھی دل سے ہوتا ہے، زبان سے I Love You کہنے والے مکار ہوتے ہیں۔
محبت کی نہیں جاتی…ہو جاتی ہے، جو بھی دل میں اُتر جائے۔
رب کو دل میں اُتارنے کے لئے تصور ، قلبی ذکر اور ولی اللہ ہوتے ہیں۔
…٭…
صرف گاڑی کا انجن منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاسکتا، جب تک دوسری چیزیں بھی یعنی اسٹیرنگ ، ٹائر وغیرہ نہ ہوں ۔
اِسی طرح نماز بھی تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے بغیر ادھوری ہے۔
اگر اِن لوازمات کے بغیر نماز ہی سب کچھ …اور جنت ہے، پھر تم دوسروں کو کافر ، مرتد اور دوزخی کیوں کہتے ہو جبکہ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، فرق یہ ہی ہے ، کوئی عیسیٰؑ کے گدھے پر سوار ہے ، اور کوئی دجال کے گدھے پر سوار ہے، یعنی اندر سے دونوں کالے۔ صرف عقیدوں کا فرق ہوا ، جبکہ عقیدے ادھر رہ جائیں گے، اندر کی روحیں آگے جائیں گی۔ زبان میں نماز لیکن دل میں خرافات ، حرص و حسد ۔ یہ نماز صورت کہلاتی ہے ۔ عام لوگ اِسی سے خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں، اور فرقہ بندی کا شکار ہوتے رہتے ہیں، اِن کی دین میں تبلیغ فتنہ بن جاتی ہے۔ فرض کیا تم دس پندرہ سال سے کسی فرقہ میں رہ کر عبادت کرتے رہے، پھر تم دوسرے فرقے کو صحیح سمجھ کر اُس میں شامل ہوگئے۔
اِس کا مقصد تمہارا پہلا فرقہ باطل تھا، باطل کی عبادت قبول ہی نہیں ہوتی
یعنی تم نے دس پندرہ سالہ نمازوں کو جھٹلا دیا۔ ہو سکتا ہے نیا فرقہ بھی باطل ہو پھر پچھلی بھی گئی اور اگلی بھی گئی۔ پٹی اُتری تو کولُہو کے بیل کی طرح وہیں موجود پایا۔
عمر برباد ہونے سے بہتر تھا کہ کسی کامل کو ڈھونڈ لیتے۔

{گوہر شاہی کا عقیدہ}

سب مذاہب کے نیکوں کاروں اور عابدوں کو ایک لائن میں کھڑا کر دیا جائے ،
رب کو کہو، کس کو دیکھے گا ؟
جس طرح تیری نظر چمکتے ہوئے ستاروں پر پڑتی ہے ،
وہ مریخ ہو یا عطارد یا بے نام ستارہ،
اِسی طرح رب بھی چمکتے دلوں کو دیکھتا ہے ،
وہ مذہب والے ہوں یا بے مذہب۔
بن عشقِ دلبر کے سچل کیا کفر ہے ، کیا اِسلام ہے

تم رب کی تلاش میں مندروں چرچوں اور مسجدوں وغیرہ کی دوڑ لگاتے ہو! کیا تاریخ میں کوئی ثبوت ہے، کہ رب کو کسی نے بھی کسی بھی عبادت گاہ میں بیٹھا ہوا دیکھا ہو؟
ارے نادان! رب کا مسکن تیرا دل ہے، اس کو دل میں بسا۔ پھر دیکھ یہ عبادت گاہیں اور ان میں عبادت کرنے والے تیری طرف دوڑ لگائیں گے۔
بایزید بسطامی ؒ فرماتے ہیں ایک عرصہ کعبہ کا طواف کرتا رہا، جب رب میرے اندر آیا ، تو ایک عرصہ سے کعبہ میرا طواف کررہا ہے۔
یہ عبادت گاہیں ثواب گاہ ہیں، جبکہ یہ دل آماجگاہ ہے۔ عبادت گاہوں میں تو پکارے گا۔ اور رب دلوں میں پکارے گا۔

عقل والوں کے نصیبے میں کہاں ذوقِ جنوں
عشق والے ہیں جو ہر چیز لُٹا دیتے ہیں
اللہ اللہ کئے جانے سے اللہ نہ ملے
اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

ہر مذہب کا عقیدہ ہے، کہ اس کے نبی کی شان سب سے بلند ہے اور یہی عقیدہ اہل کتاب میں جنگوں کا سبب بنا،
بہتر ہے تم روحانیت کے ذریعہ نبیوں کی محفل میں پہنچ جاؤ، پھر ہی پتہ چلے گا کہ کون کس مقام پر ہے اور کون کس درجہ پر ہے۔

ضروری نوٹ

ہر نبی کو اﷲ نے خاص ناموں سے پکارا، جو اُن کی اُمت کے لئے پہچان اور کلمے بن گئے۔ یہ نام اﷲ کی اپنی زبان سریانی میں تھے،اِن کے اقرار سے اُس نبی کی اُمت میں داخل ہوتا ہے۔تین دفعہ اقرار شرط ہے، اُمت میں دا خل ہونے کے بعد اِن الفاظوں کو جتنا بھی دہرائے گا، اتنا ہی پاکیزہ ہوتا جائے گا۔مصیبت کے وقت اِن الفاظوں کی ادائیگی مصیبت سے چھٹکارا بن جاتی ہے۔ قبر میں بھی یہ الفاظ حساب کتاب میں کمی کا باعث بن جاتے ہیں۔ حتٰی کہ بہشت میں داخلے کے لئے بھی اِن الفاظ کی ادائیگی شرط ہے۔ہر اُمت کو چاہیے کہ اپنے نبی کے کلمے کو یاد کریں اور صبح و شام جتنا بھی ہوسکے اُن کو پڑھیں ۔ ھدایت کے لئے آسمانی کتابیں آپ اپنی زبان میں پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن عبادت کے لئے اصلی کتاب کی اصلی عبارتیں زیادہ فیض پہنچاتی ہیں۔

رسولوں کے کلمے
عیسائیوں کا کلمہ… لاالہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ (ترجمہ)اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں عیسٰی ا ﷲکی روح ہیں۔
یہودیوں کا کلمہ… لاالہ الا اللہ موسیٰ کلیم اللہ (ترجمہ)اﷲکے سواکوئی معبودنہیں موٰسی اﷲ سے بات چیت کرتے ہیں۔
ابراھیمیوں کا کلمہ… لاالہ الا اللہ ابراھیم خلیل اللہ (ترجمہ)اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ابراہیم اﷲ کے دوست ہیں۔
مسلمانوں کا کلمہ… لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ترجمہ)اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اﷲ کے رسول ہیں۔

جبکہ ہندو اور سکھ دین ِآدم اور دین ِنوح کی ایک کڑی ہیں۔حضرت آدم کی حجر ِاسود(پتھر) کی تعظیم سے اِن میں بھی پتھر پوجنے کی ریت چل پڑی۔کشتی نوح ؑسے بچے ہوئے لوگوں نے بھی ہندوستان میں جاکر تبلیغ کری تھی اور خضرت خضرؑ سے بھی اِن کے گوروؤںکو فیض ملا تھا، اوریہ اپنی دعاوں میںآدمؑ کو شنکر جی، شیو جی،اور مہادیو کے نام سے پکارتے ہیںاور خضؑرکووشنو مہاراج،کرشن جی اور رام جی کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔بلکہ ایک طبقہ حضرت فاطمہ کا بھی معتقد ہے اورحضرت فاطمہ کو درگامائی،لکشمی ،دیوی اور ماں کے نام سے اپنی عبادت میں پکارتا ہے،اور یہ مائی حوا کو پاروتی کہتے ہیں۔ گورونانک اپنے ماننے والوں کو…’ایشوراﷲتیرانام رام بھی تو رحیم بھی تو‘…پڑھاتے تھے۔

ہر مذہب والاخواہ کوئی بھی زبان رکھتا ہو، لیکن یہ کلمے اﷲ کی سریانی زبان میں اُس کی پہچان اور نجات ہیں۔عام انسان کے لئے روزانہ کم از کم 33 مرتبہ اﷲاور رسول کو صبح اور شام یاد کرنا ضروری ہے۔دنیاوی مصیبتوں سے محفوظ کے لئے روزانہ 99مرتبہ صبح اور شام یا جتنا بھی ہوسکے، مصیبت کو ٹالنے کے لئے پانچ ہزار، پچیس ہزار یا بہتر ہزارکئی آدمی ایک ہی نشست میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں،آخری حد سوا لاکھ ہے۔

دل کو صاف کرنے اور گناہوں کے دھبے مٹانے کے لئے سانس کی مشق، سانس لیتے وقت لا الہ الا اللہ اور سانس نکالتے وقت باقی اگلا حصہ پڑھیں،سانس نکالتے وقت دھیان دل کی طرف ھو۔اﷲ سے محبت اور قرب حاصل کرنے کے لئے دوسرا طریقہ ہے،جو بغیر رب کی رضا کے مشکل ہے۔کتاب میں درج شدہ طریقے کے مطابق دل کی دھڑکن کو تسبیح بنانا پڑتا ہے۔ اور دھڑکنوں کے ساتھ صرف اﷲ کے خالص الفاظ کو ملانا پڑتا ہے۔جتنا ہوسکے روزانہ اِس کی بھی مشق کریں۔کسی کا دھیان کے ذریعہ، کسی کا بغیر دھیان کے بھی اور کسی کا قلب و روح کی بیداری کے بعد ہر وقت بھی خود بخود ذکر جاری ہوسکتا ہے۔

اﷲ کے دوستوں کا ذکر بہتر ہزار روزانہ ہوتا ہے، جبکہ عاشقوں کا ذکر سوا لاکھ تک پہنچ جاتا ہے۔اگر لطائف بھی ذکر میں لگ جائیں تو اُسکے ذکوریت کا شمار کراماً کاتبین کے بھی بس میں نہیں رہتا۔

کوئی فرش پر، کوئی عرش پر
کوئی کعبے میں، کوئی روئے خدا
(تریاق ِقلب)

مذہب والے اسم ِاﷲ کے علاوہ نبی کے نام کو بھی دل میں جمانے کی کوشش کیا کریں، تاکہ اسم ِاﷲ کنٹرول میں رہے۔ وجد، جذب یا جلال کی صورت میں نبی کا کلمہ اُس وقت تک پڑھیں، جب تک وہ حالت ختم نہ ہو اور دیکھے ہوئے مرشد کو بھی خیال میںلائیں تاکہ اُس کی روحانی طاقت دل پر اﷲ نقش کرے۔ جن کا کوئی مذہب نہیں، خدا خبر ان کا نصیبہ کس کے پاس ہے یا کہیں بھی نہیں ہے۔ وہ باری باری مشق کے دوران پانچوں مرسلین کے نام کا تصور کریں اور جس بھی دیکھے ہوئے ولی پر یقین رکھتے ہیں، اُس کا بھی خیال لائیں۔پھر جس کے آپ ہیں وہ اندر سے بولنا شروع کردے گا، یعنی آپ کا رخ، محبت اور دل اُسی طرف مائل ہوجائے گا۔

…٭…

کسی زمانے میں اھل ِکتاب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے تھے، آپس میں اکھٹا کھانا، پینا اور ایک دوسرے سے شادیوں کی اجازت ہوگئی تھی۔اِسی طرح اِس زمانے میں اھل ِذکر بھی ایک ہوجائینگے،اھل ِکتاب والے عارضی تھے۔کیونکہ کتاب زبان پر تھی،نکل گئی اور یہ مستقل ہونگے کیونکہ اﷲ کا نام اور اُس کا نور خون اور دل میں ہوگا۔جو بیماری خون میں چلی جائے یا جس کی محبت دل میں اُتر جائے،اُس کانکلنا مشکل ہے۔

…٭…

پانی ،پانی ہی ہے۔ لیکن جب رگڑا لگتا ہے تو بجلی بن جاتا ہے۔دودھ کو رگڑتے ہیں تو مکھن بن جاتا ہے۔ اِسی طرح آسمانی کتابوں کی اصلی آیتوں کا جب تکرار کرتے ہیں، تو نور بن جاتا ہے۔آیتوں اور صفاتی اسماء کے تکرار سے صفاتی نور بنتا ہے۔ جس کی پہنچ ملائکہ تک ہے جو بلواسطہ ہے،یہ وحدت الوجود کا مقام ہے۔ لیکن اﷲ کے ذاتی نام کے تکرار کے نور کی پہنچ ذات تک ہے، جو بلا واسطہ ہے،اور وحدت الشہود سے تعلق رکھتا ہے۔

…٭…

بہت سے لوگ اپنے مذہب کے نبی اور ولیوں کا بہت ہی احترام اور عقیدت، محبت رکھتے ہیں۔ لیکن دوسرے مذاہب کے نبیوں ولیوں سے بغض و عناد اور دشمنی رکھتے ہیں۔ایسے لوگ بھی اﷲ کی طرف سے کوئی مقام حاصل نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ جن کی برائی کرتے ہیں وہ بھی اﷲ کے دوستوں میں سے ہیں اور اﷲ کی مرضی سے ہی مختلف مذہبوں اور قوموں میں تعینات کئے گئے۔

 

فرمانِ گوہر شاہی

تمام انسانوں کی ارضی ارواح اِس دنیا میں کئی بار دوسرے جسموں میں جنم لیتی ہیں۔
پاکیزہ لوگوں کی ارواح پاکیزہ جسموں میں ،
جبکہ حضور پاکﷺ کی ارضی ارواح کو مہدی علیہ السلام کیلئے روکا ہوا تھا،
جس طرح آپ ؐ کے جسم کے کسی بھی علیحدہ حصے،
یعنی ہاتھ یا پاؤں کو بھی آمنہ کا لعل کہ سکتے ہیں ،
اسی طرح حضورپاکﷺ کی سماوی روح کے کسی علیحدہ حصے کو بھی عبداللہ کا فرزند
اور آمنہ کا لعل کہا جاسکتا ہے۔
اہلِ بیت کی ارواح بھی اہلِ بیت میں ہی شامل ہیں۔

﴿چند محب ارواح کے چشم دید واقعے

ایک ازلی روح کا واقعہ
میں امریکہ میں نصف شب کے قریب ایک جنگل سے گزرا۔دیکھا ایک شخص ایک درخت کے آگے سجدہ ریز ہو کر گڑ گڑا رہا ہے، تقریبا ایک گھنٹہ بعد میری واپسی ہوئی، ابھی بھی وہ اِسی حالت میں تھا، میں قریب جاکر رک گیا، اُس نے مجھے محسوس کر کے سجدے سے سر اُٹھایا اور کہا مجھے ڈسٹرب کیوں کیا؟ میں نے کہا میں بھی رب کی تلاش میں ہوں، لیکن درخت سے کیسے رب ملے گا؟ بہتر تھا کسی مذہب کے ذریعہ رب کو حا صل کرتا ! کہنے لگا:ـــ” بائبل، قرآن یا جو بھی آسمانی کتابیں ہیں، میں اُن کی اوریجنل زبان نہیں جانتا اور ان کتابوں کے جو ترجمے ہوئے ہیں، میں اُن سے مطمئن نہیں، کیونکہ ان میں زبردست تضاد ہے جس کی وجہ سے یہ یقین نہیں ہو سکتا کہ یہ کسی ایک ہی خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی کتابیں ہوں۔ایک کتاب میں لکھا ہے کہ عیسیٰ میرا بیٹا ہے۔ جبکہ دوسری کتاب میں ہے کہ میرا کوئی بیٹا وغیرہ نہیں ہے۔ایک عرصہ اُن کے مطالعہ میں میرا وقت اور عمر برباد ہوئی۔ میں نے اب دوسرا راستہ اختیار کیا ہے کہ یہ درخت اتنا خوبصورت ہے اس کا مقصد رب اس سے محبت کرتا ہے، ہوسکتا ہے اِسی کے ذریعہ میری رب تک رسائی ہوجائے”۔

یہ کوئی ازلی محب روح تھی جو اپنی عقل کے مطابق رب کی تلاش میں تھی۔ کیا ایسے لوگ دوزخ میں جاسکتے ہیں جو کہ معذور کہلاتے ہیں اور یہی کتے سے بھی قطمیر بن جاتے ہیں، جبکہ حضرت قطمیر کا بھی کوئی مذہب نہیں تھا ۔

ایریزونا (ARIZONA)کی مس کیتھرین نے واقعہ سنایا کہ:
” میں نے انجیلا سے ذکر قلبی کی اجازت لی، انجیلا نے کہا سات دن کے اندر اندر اگر دل میں اللہ اللہ شروع ہوگئی تو سمجھنا کہ رب نے تمہیں قبول کرلیا ہے، ورنہ تیری زندگی فضول ہے۔ جب سات دن کی محنت سے بھی میرا ذکر جاری نہ ہوا تو ایک رات مجھے سخت رونا آیا میں خوب گڑگڑائی، اُسی رات میرے اندر اللہ اللہ شروع ہوگئی، جو تین سال سے جاری ہے۔ کیتھرین عمر کی قائل نہیں، بلکہ تندرستی کی قائل ہے، اسی طرح وہ مذہب کی بھی قائل نہیں بلکہ اُس کی محبت کی قائل ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ اس ذکر کی وجہ سے میرے دل میں رب کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، میرے لئے یہی کافی ہے۔”

ایک ہندو گرو سے ملاقات:
میں اُس وقت سیون کی پہاڑیوں میں تھا کبھی کبھی لال شہباز کے دربار چلا جاتا۔ ایک شخص دربار کے باہر برآمدے میں بیٹھا ہوا تھا۔ بہت سے ہندو مذہب کے لوگ اُس کے گرد بڑی عقیدت سے جمع تھے۔ پوچھا یہ کون بزرگ ہے؟ کہنے لگے یہ ہندوؤں کا گورو ہے، روشن ضمیر بھی ہے، اِسی کے ذریعہ ہماری درخواستیں لال سائیں تک پہنچتی ہیں اور ہمارے کام ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مسلمان بھی اُس کی عزت کرتے تھے۔ ایک دن میرا ایک ٹیلے سے گزر ہوا، دیکھا وہی شخص سامنے ایک بُت رکھ کر سجدہ کی حالت میں کچھ پڑھ رہا ہے۔ دوسرے دن دربا رمیں ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا تجھ جیسے روشن ضمیر کا مٹی کے بُت کو پوجنا میری سمجھ سے باہر ہے، اُس نے جواب دیا: میں بھی اِسے کوئی رب نہیں سمجھتا البتہ میرا عقیدہ ہے اور تمہاری کتابوں میں بھی لکھا ہے، کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا اس وجہ سے طرح طرح کی صورتیں بنا کر پوجتا ہوں ، پتہ نہیں کون سی صورت رب سے مل جائے۔ اُس نے کہا : تو بھی روشن ضمیر ہے ، بتا کہ اللہ کی صورت کیسی ہے اور کس بت سے ملتی ہے؟ تاکہ میں اُسے من میں بسا سکوں۔

میری عمر کوئی سولہ سترہ کے لگ بھگ تھی۔ اپنے خاندانی بزرگ بابا گوہر علی شاہ کے دربار پر ایک دن سورہ مزمل کی تلاوت کر رہا تھا ، اتنے میں ایک لمبے قد کا آدمی فقیری حلیہ میں میرے سامنے آیا ، اور کہنے لگا، خواہ مخواہ چنے چبا رہا ہے، بزرگ صورت تھا میں خاموش رہا، لیکن دل میں یہی تھا کہ یہ ضرور کوئی شیطان ہے جو مجھے تلاوت سے روک رہا ہے۔ عرصہ گزر گیا۔ جب ذکر قلب جاری ہوا تو میری عمر پنتیس سال کے لگ بھگ تھی۔ بتائے ہوئے طریقہ سے زبان سے سورہ مزمل کی آیت پڑھتا، پھر خاموش ہو جاتا کہ دل پڑھے، پھر دل سے اسی آیت کی آواز آتی۔ ایک دن اسی مشق میں مگن اور مسرور تھا کہ پھر وہی شخص اُسی حلیہ میں ظاہر ہوا۔ اور کہنے لگا: اب تو قرآن پڑھ رہا ہے۔

جب تک تریاق معدے میں نہ جائے شفا نہیں ہوتی
جب تک کلام ِالٰہی دل میں نہ اُترے کوئی بات نہیں بنتی
اُس نے شعر سنایا:

زبانی کلمہ ہر کوئی پڑھدا ، دِل دا پڑھدا کوئی ھو
دِل دا کلمہ عاشق پڑھدے ، کی جانن یار گلوئی ھو

…٭…

داتا دربارکی مسجد میں جب نماز سے فارغ ہوا دیکھا ایک عمر رسیدہ شخص نمازیوں کی جوتیاں سیدھی کررہا ہے، میں نے بھی یہ محسوس کیا ، کہ سوائے جوتیاں سیدھی کرنے کے اُس نے کوئی نماز نہیں پڑھی کیونکہ میں پچھلی صف میں تھا ، جاتے وقت میں نے کہا: آپ نے نماز تو نہیں پڑھی، ان جوتیوں سے آپ کو کیا ملے گا؟ کہنے لگا نماز تو عمر بھر نہیں پڑھی، اب بڑھاپے میں نماز سے بخشش کی کیا امید رکھوں! بس ایک امید پر قائم ہوں کہ اتنے لوگوں میں سے کوئی ایک تو رب کا دوست ہوگا، شاید اِس ادا سے ہی وہ یا اُس کا یار خوش ہو جائے۔ میں نے کہا نماز سے بڑھ کر کوئی ادا نہیں۔ کہنے لگا یار سے بڑھ کر کوئی چیزنہیں، اگر وہ راضی ہو جائے !تین سال کی چلہ کشی کے بعد ایک دن محفل ِ حضوری نصیب ہوئی دیکھا وہی شخص یار کے قدموں میں تھا۔

پھر یہ شعر یاد آیا:

کہ گناہگار پہنچے درِ پاک پر
زاہدو پارسا دیکھتے رہ گئے