نوٹ:    مینارہ نور، تریاق قلب کے علاوہ روحانی سفر کی بھی کچھ انتشار پسند اور حاسد قسم کے علماء نے بیجا مخالفت کی،صحیح الفاظ کے غلط معنی نکال کر اشتہاری پروپیگنڈہ کے ذریعے مشن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، ا س لئے عوام کی تسلی کے لئے ان کے اعتراضات کے جواب دیئے جا رہے ہیں ۔

          پہلی بات تو یہ ہے کہ کتاب ’’ روحانی سفر‘‘ میں زیادہ تر خواب مکاشفات اور الہامات ہیں۔جو ابتداء میں دوران سلوک وارد ہوئے کسی بھی مکاشفے یا الہام کو حق الیقین نہیں کہا گیا بلکہ مصنف سمیت ہر شخص کی اپنی رائے ہے کہ کون سا درست ہے اور کون سا استدراج ہو گا ۔خواب، مکاشفے الہامات اگر غیر اخلاقی بھی ہوں تو وہ شریعت کی زد میں نہیں آتے۔

روحانی سفر صفحہ نمبر 33پراعتراض ہوا یہ کہ اس شخص نے حضرت رابعہ بصریؓ کو طوائفہ کہا ہے

جواب:   حضرت رابعہ بصریؓ کا واقعہ کتابوں میں اس طرح ملتا ہے کہ آپ کے والدین نے ایک قافلے والوں کو حضرت رابعہ بصریؓ کو فروخت کر دیا اور اس قافلہ والوں نے آپ کو ایک طوائفہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔طوائفہ نے آپ کو ایک کوٹھے میں بٹھا دیا ایک دن طوائفہ نے یہ محسوس کیا کہ جو شخص ایک مرتبہ انکے پاس آتا ہے دوبارہ ان کے پاس کیوں نہیں آتا۔جب ایک شخص کمرے میں گیا کمرہ بند ہواتو طوائفہ نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا کہ وہ شخص جب حضرت رابعہ بصری ؓ کے سامنے گیا نظروں سے نظریں ملیں اس پر ہیبت طاری ہو گئی اور بے اختیار اللہ اللہ زبان سے شروع ہو گیا۔آپؓ نے اسے فرمایا جا تجھے اللہ سے واصل کر دیا ہے اب اس کے عشق میں تڑپتے رہنا اور آیٔندہ کبھی بھی ادھر کا خیال نہ کرنا۔جب یہ ماجرا طوائفہ نے دیکھا تو اس دل بھی لرزنے لگا اور وہ آپ کے قدموں میں گر گئی اور معافی کی درخواستگار ہوئی کہ مجھے تیری عظمت کا پتہ نہ تھا ۔آج سے تم آزاد ہو۔ حضرت رابعہ بصریؓ نے کہا کاش تو میرا راز نہ جانتی یہاں جو بھی آتا فقیر بن کے جاتا اب تک میں چار سو فقیر بنا چکی ہوں۔

          مجدد الف ثانی  ؒنے صاحب فتوحات مکیہ کے حوالے سے اپنے مکتوبات شریف (حصہ پنجم ص730،731 ) میں لکھا ہےکہ شیطان لعین آنحضرت ﷺ کی اس صورت خاصہ کے ساتھ جو مدینہ منورہ میں مدفون ہے ممل نہیں ہو سکتا ۔اس خاص صورت کے سوا اور جس صورت میں حضور ﷺ کو دیکھیں ممل ہو سکتا ہے۔

          مجدد صاحب فرماتے ہیں ! میں کہتا ہوں کہ اس صورت سے احکام کا اخذ کرنا اور مرضی کا معلوم کرنا مشکل ہے ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دشمن لعین درمیان آگیا ہو اور خلاف واقع کو واقع کی صورت میں ظاہر کیا ہو اور دیکھنے والے کو شک و شبہ میں ڈال دیا ہو اور اپنی عبارات و اشارات کو اس صورت علی صاجہا الصلوۃ والسلام کی عبارات واشارات کر دکھایا ہو۔

(از ’’ مکتوبات شریف ‘‘ شائع شدہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

نوٹ ’’ روحانی سفر ‘‘ میں مستانی والا واقعہ قابل اعتراض ہے بے شک ہم سے آغاز میں اتفاقاً اور نا سمجھی میں شریعت کے خلاف کئی غلطیاں سرزد ہوئیں ۔وہ صرف اتفاق ہی تھا نہ کہ ہمارا معمول اور عقیدہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کچھ توفیق اور سمجھ دی تھی ہم نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کی تھی ،توبہ کی تھی ،اور بخشش کی دعائیں مانگی تھیں۔

ضروری اطلاع برائے صارفین

تصانیف کے اس سیکشن کو ان پیج فورمیٹ سے یونی کوڈ فورمیٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ الفاظوں میں ٹیکنیکل بنیادوں پر غلطی ہوسکتی ہے، جسکی ادارہ پیشگی معزرت کرتا ہے اور درخواست کرتا ہے کہ کسی بھی الفاظ یا جملہ کی نشاندہی کی جائے تاکہ اس سیکشن کو مزید بہتر کیا جاسکے.

حضراتِ محترم! کائنات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے وقتاًفوقتاً ہدایت کے لئے پہلے تونبی بھیجے اور نبی الاخرزماں احمد مصطفیﷺ کی آمد کیساتھ ہی نبوت کے دروازے بندکردیئے۔ اس کے بعدسرکار کی ظاہری باطنی تعلیمات کی روشنی میں خلفائے راشدین،امام الواصلین ،مقتداکاملین کادورشروع ہوتاہے جوامت کی رہبری فرماتے ہیں ۔اسکے بعدولایت کا دورشروع ہواجوآج تک جاری ہے۔
ہر دور میں امت کی رہبری و اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے کچھ بندے مبعوث کرتا ہے۔جو اپنے ظاہری و باطنی تصرفات کے ذریعہ امت کے بھٹکے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ابتداء میں تواکثر بندے دنیا سے ناطہ توڑ کر اپنے حقیقی رب سے ناطے جوڑنے دنیا سے دور عبادات، ریاضات، مجاہدات کے لئے جنگلوں میں نکل جاتے ہیں۔ تاکہ دنیا کا کوئی عمل ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے ان میں بعض تو اسی کے حصول میں اپنی زندگی جنگلوں کی نذر کرجاتے ہیں اور کچھ خاص بندوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ تکمیل کے بعد شہروں میں خلق خدا کو ظاہری و باطنی فیض پہنچانے کے لئے تعینات فرما دیتا ہے۔ تکمیل کے بعد جب بندہ کسی بندے پر کامل نگاہ ڈالتا ہے تو اس کی تقدیر بدل ڈالتا ہے۔ انہی اللہ کے بندوں میں انجمن سرفروشان اسلام رجسٹرڈ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی بھی ہیں۔ جنہوں نے اپنی عمر کا بہت بڑا حصہ روحانیت کے حصول اور تکمیل کے لئے جنگلوں میں گزارا اور جب خلق خدا کو فیض پہنچانے پر تعینات کئے گئے تو مختصر عرصے میں بیشمار خواتین و حضرات کی زندگی میں انقلاب ہی نہیں بلکہ مردہ قلوب کو ایک ہی قلندرانہ کامل نگاہ کے ذریعہ زندہ کر کے ذکر اللہ میں جاری و ساری کر ڈالا۔ قصہ مختصر یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حاضر نظر کتابچہ میں قبلہ عالم حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی نے ہماری دیرینہ خواہش اور بے حد اصرار پر اپنی روحانیت کے حصول پر مبنی اپنی یاداشتیں محفوظ کرائیں اور تاکہ طالبین حق اور معتقدین اسے پڑھ کر رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس سے صحیح معنوںمیں مستفیض ہو سکیں۔ دعا ہے اللہ تعالی حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی مدظلہ العالی کو عمر دراز عطا فرمائے اور تادیر ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم فرمائے اور ہمیں ان سے صحیح معنوں میں مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین

اس دورِ ابتلا میں جبکہ نوجوان طبقہ دین سے نا آشنا ہوگیا ہے اور پھر ستم ظریفی یہ کہ روحانیت کا منکر ، علماء حق کا دشمن اور پیروں فقیروں سے بدظن ہوتا چلاگیا۔یہ قصور ان نوجوانوں کا ہی نہ تھا بلکہ ان کو نہ ہی اکثر علماء میں وہ عمل مل سکا اور نہ ہی اکثر پیروں فقیروں میں وہ روشنی نظر آئی جنکے قصے و کرامتیں یہ کتابوں میں پڑھتے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چند ظاہربین علماء اور خالی مشائخ نے بھی ان کرامتوں کو بے بنیاد اور نا ممکن کہ دیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر وقت اور ہر دور میں تین سو ساٹھ (360)اولیاء اللہ نہ صرف موجود رہتے ہیں بلکہ خدمتِ انسانی کے لئے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں، جن کی وجہ سے دنیا قائم اور پُر رونق ہے، یہ صرف بس ہماری نظر کا قصور ہے۔

اب بھی ہزاروں بندگانِ خدا روحانیت میں موجود ہیں اور ان میں کافی روشن ضمیر بھی ہیں لیکن وہ نسخہ عام دکانوں میں نہیں ملتا ۔ اس بھری دنیا میں اب بھی ذاکرِ قلبی ، ذاکرِ روحی، ذاکرِ سلطانی، ذاکرِ قربانی ہمارے ساتھ روز مرہ کے کاموں میں مگن ہیں لیکن ہمیں کچھ خبر نہیں ، انہیں چیزوں کی شناخت اور اس نسخہ کو عام کرنے کیلئے ہم نے یہ سلسلہ تبلیغی و روحانی شروع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد و اعانت فرمائے اور ہماری اس سعی کو قبول فرمائے۔   آمین

یہ کتاب کئی صدیوں کے مشاہدات یعنی مشاہدہ کشف القبور اولیاء اللہ و مشاہدہ اشکال قلبی، نفسی، روحی اور مشاہدہ جنات ارواح وغیرہ اور تجربات یعنی ذکر اللہ سے دل میں جنبش آنا ، لطائف کا اپنے اپنے مقام پر ذکر کرنا اور مراقبہ و کشف ہوجانا اور تحقیقات یعنی پھر ان کا ثبوت قرآن مجید ، احادیث شریف اور اولیائے عظام کی تصانیف سے مہیا کرنے کے بعد خلق خدا کے فیض اور پہچان کے لئے یہ سلسلہ جاری کیا گیا ۔ اس سلسلہ کو عام کرنے کے لئے ایک انجمن 1980 میں تشکیل دی گئی بحمداللہ خاطر خواہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے، ہر کام کے لئے عمل ضرورت ہے اسی کمی کو انجمن سرفروشانِ اسلام رجسٹرڈ پاکستان نے پورا کیا۔

پیش لفظ

حاظر نظر کتاب  ’’تریاقِ قلب‘‘ جو منظومات پر مشتمل ہے ، حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ ( سرپرستِ اعلیٰ انجمن سرفروشانِ اسلام رجسٹرڈ پاکستان) نے تحریر کی ہے۔ حضرت گوہر شاہی نے یہ منظومات 1976-1977 میں اُس وقت لکھیں جب آپ سہون شریف (لعل باغ سندھ) کی پہاڑیوں میں دنیا سے دور عبادات و ریاضت اور مجاہدات میں مصروف تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت گوہر شاہی کا یہ کلام الہامی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔زیرِ نظر کتاب  ’’تریاقِ قلب‘‘ اراکین انجمن اور طالبین ِ حق کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔

خیر اندیش:         چیئرمین سرفروش پبلیکیشن پاکستان

اے ایمان والو!
تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے کہ تم سے پہلے والوں پر فرض کیا گیا تاکہ تم متقی بن جاؤ (قرآنِ کریم)

(روزے کا مقصد)
ازقلم
﴿حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ﴾
شعبہ نشرواشاعت
انجمن سرفروشانِ اسلام پاکستان (رجسٹرڈ)

یوں تو حضرت گوھر شاہی مدظلہ العالی نے روحانیت کے طالبین کے لئے کئی تصانیف تحریر فرمائی ہیں لیکن زیر نظر کتاب ’’دین الٰہی‘‘ جو اپنے نام سے ہی خصوصی اہمیت کی حامل معلوم ہوتی ہے حقیقت میں اس سے کہیں بڑھ کر اس کے اندر موجود حضرت نے جو انمول ہیروں کے موتی بکھیرے ہیں وہ کہیں اور سے ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن اور تصور سے بھی ماورا ہیں۔ اہل سلاسل ، گدی نشین اور علمائے حق کہتے ہیں کہ کتاب ’’دین الٰہی‘‘عالم انسانیت کیلئے نہ صرف ذریعہ نجات ہے بلکہ پیر حضرات اور طالبین حق اسے عشق الٰہی حاصل کرنے میں بے مثال پائیں گے۔ لہٰذا خدا کے پوشیدہ رازوں سے جو پردہ اٹھایا گیا ہے ہم انسانیت کے فائدے کیلئے پیش کر رہے ہیں تاکہ اکیسویں صدی کی سب سے حیرت انگیز‘ خوبصورت اور لازوال تحریر سے ہر خاص و عام استفادہ کر سکے۔اِس تصنیف کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ معرفت الٰہی کا وہ مشکل علم جو بڑے بڑے عالموں ، عابدوں اور زاہدوں کی سمجھ سے قاصر تھااس کو انتہائی آسان فرما دیا۔ جسے معمولی پڑھا لکھا انسان بھی آسانی سے سمجھ سکتاہے۔ نیز تزکیہ نفس ، تصفیہ قلب، شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کے رموز سالکوں اور طالبوں کے لئے اس کتاب میں بہترین انداز سے جمع فرما دیئے ہیں۔گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ شائد کسی نئے دین کی بات کی جا رہی ہے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔قرآن میں اس کا حوالہ سورۃ النصر میں پہلے سے موجود ہے’’ اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج داخل ہوتے‘‘ اور اسی طرح سورۃ الروم میں بھی ہے کہ’’ دین الٰہی پر بااستقامت قائم رہنا،جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا‘‘۔ ( اللہ کی فطرت عشقِ حقیقی اور پیار و محبت ہے) اللہ تعالی ہر شخص کو صاف ذہن اور دل کے ساتھ اس کتاب کو پڑھ کر اس کے نوری سمندر سے حسب توفیق فیض حاصل کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔